|
اسلام برگ: امریکی سیاہ فام مسلمانوں کا منفرد ٹاؤن
نیویارک سے شمال کی جانب تقریباً تین گھنٹے کی مسافت پر کیٹسکل کے پہاڑی سلسلے میں اسلام برگ واقع ہے جس کی بنیاد 1984ءمیں جماعت الفقراء کے پیروکاروں نے رکھی تھی۔ اس جماعت کے امیر شیخ مبارک علی شاہ گیلانی ہیں جو دربار سلطان باہو جھنگ کے ساتویں خلیفہ اور لاہور کے دربار حضرت میاں میر کے سجادہ نشین کہلاتے ہیں۔ جماعت الفقراءکے یہ پیروکار نو مسلم ہیں جو نیویارک کے علاقے بروکلین سے اس لئے ہجرت کر گئے تھے تاکہ وہ اپنی زندگیوں کو مکمل اسلامی شعائر کے مطابق ڈھال سکیں۔ 77 ایکڑ پر مشتمل یہ قطعہ اراضی جسے آج اسلام برگ کے نام سے جانا جاتا ہے یہاں پر تقریباً 45 خاندان رہائش پذیر ہیں جن کی رہائش گاہیں بھی یہاں بنائی گئی ہیں۔ انہی گھروں کے وسط میں اسلام برگ چلڈرن اکیڈمی اور مسجد کی مشترکہ عمارت ہے اس اکیڈمی میں تقریباً ڈیڑھ سو بچے زیر تعلیم ہیں اور یہ اکیڈمی نیویارک اسٹیٹ کے شعبہ تعلیم کے ساتھ الحاق شدہ ہے جہاں پر مروجہ امریکی نصاب کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی دی جاتی ہے جس کا نصاب انٹرنیشنل اسلامک قرآن اوپن یونیورسٹی نے ترتیب دیا ہوا ہے جس کے چانسلر بھی جماعت الفقراءکے امیر شیخ مبارک گیلانی ہی ہیں۔ اکیڈمی میں ہائی سکول تک تعلیم دی جاتی ہے جہاں پر ابتدائی کلاسوں کے علاوہ لڑکیوں اور لڑکوں کے لئے الگ الگ کلاسیں ہیں۔ اسلام برگ کے ترجمان محمد حسیب الحق جو خود بھی نو مسلم ہیں اور انہوں نے 40 سال قبل اسلام قبول کیا تھا انہوں نے ہمیں بتایا کہ ہمارا تعلق اپنے شیخ کے توسط سے حنفی فقہ سے ہے اور ہم لوگ شیخ عبدالقادر جیلانی بغداد شریف کے ماننے والے اور سلسلہ نقشبندیہ کے پیروکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے بارے میں شیخ مبارک گیلانی نے ہی ہمیں بتایا اور مشرف بہ اسلام کیا۔
اس سوال پر کہ زیادہ تر سیاہ فام نو مسلموں کے بارے خیال کیا جاتا ہے کہ انھوں نے جیلوں کے اندر تبلیغ سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا اس کے جواب میں انہوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ وہ لوگ جرائم پیشہ تھے اور جیلوں میں ان تک اسلام کا پیغام پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ شیخ نے ہمیں کلمہ پڑھایا ہمیں قرآت سکھائی، اسلامی تاریخ اور سیرت پاک کے بارے میں روشناس کرایا ہمارے شیخ نے جب مسلم آف دی امریکہ ان کارپوریٹڈ کی بنیاد رکھی تو ہم یہاں منتقل ہو گئے تاکہ ہم لوگ الگ تھلگ رہ کر اپنی زندگیوں کو مکمل اسلامی ڈھانچے میں ڈھال سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا گاؤں آباد کرنے کا تصور ہمارے شیخ کا تھا اور آج الحمداللہ امریکہ میں ایسے 20 گاؤں آباد ہو چکے ہیں جہاں پر مسلمان خاندان آباد ہیں۔ محمد حسیب الحق نے کہا کہ جب 1984ءمیں ہم پہلی بار یہاں آ کر آباد ہوئے تو ہمارے ہمسائے ہماری سرگرمیوں کے بارے میں متفکر ہو گئے کیونکہ اس علاقے میں سفید فام اکثریت میں ہیں اور غیر سفید فام کل آبادی کا صرف تین فیصد ہیں لیکن ہم نے مقامی لوگوں کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کئے آج انہیں ہم سے کوئی شکایت نہیں ہم ان کے اور وہ ہمارے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں ہمارے تہواروں میں آتے جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہمارے شیخ 1979ءمیں یہاں آئے تھے اور 1990ء میں پاکستان چلے گئے۔ وہ ہمارے ساتھ ٹیلی فون اور وڈیو کانفرنسوں کے ذریعے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں اور ہم انہی سے مکمل رہنمائی حاصل کرتے ہیں اگر کوئی ضروری مسئلہ ہو تو ہم خود ان کے پاس پاکستان چلے جاتے ہیں انہوں نے بتایا کہ وہ خود دس سے زائد مرتبہ پاکستان جا چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گیارہ ستمبر 2001ءکے بعد ہمیں کئی مصائب کا سامنا کرنا پڑا امریکی میڈیا نے ہمارے خلاف تعصب پر مبنی رپورٹیں شائع کیں اور ہمیں متعصب مسلمان کہا گیا۔ یہ کہا گیا کہ ہم یہاں پر فوجی ٹریننگ دیتے ہیں ہمارے پاس اسلحہ ہے اور ٹریننگ کیمپ بنا رکھے ہیں۔ بچوں نے سکول بس پتھر مار کر توڑ دی اور خبر لگائی گئی کہ ہم نے بس پر گولیاں چلائیں۔ آپ خود جا کر دیکھیں کہ کیا بس پر ایک بھی گولی کا نشان ہے انہوں نے کہا کہ ہم امریکی شہری اور مسلمان ہیں ہم اس کے قانون کی پابندی کرتے ہیں لیکن میڈیا ہمیشہ ہمارے بارے میں غلط فہمی کا شکار رہتا ہے۔ ہم یہاں الگ تھلگ اس لئے بیٹھے ہیں تاکہ اپنے بچوں کو اسلامی طرز زندگی کے بارے میں بتا سکیں ایک مکمل اسلامی معاشرہ قائم کر سکیں ہم یہاں ٹریننگ کیمپ چلانے کے لئے نہیں آئے ہمارے شیخ کو ڈینیل پرل قتل کیس میں ملوث کیا گیا حالانکہ بعد ازاں وہ بے قصور ثابت ہوئے یہ سب کچھ ہمارے خلاف سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم صوفی اسلام کے پیروکار ہیں جو محبت اور امن کا درس دیتے تھے لیکن چونکہ ہم مسلمان ہیں اس لئے انہیں یہ قبول نہیں کہ ہم اس طرح رہیں حالانکہ کئی عیسائی اور یہودی اس طرح کی آبادیوں میں رہائش پذیر ہیں مگر انہیں کوئی نہیں کہتا کہ یہ Radical یا متعصب ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں عبدالحسیب الحق نے کہا کہ اسلام امریکہ کا تیزی سے ترقی کرتا ہوا مذہب بن چکا ہے انہوں نے کہا کہ اسلام برگ میں رمضان المبارک پوری اسلامی روایات کے ساتھ منایا جاتا ہے یہاں پر عیدین اور عید میلاد النبی کے تہوار ہوتے ہیں جن میں ہمارے ہمسائے بھی شریک ہوتے ہیں۔ انہوں نے یونائیٹڈ مسلم کرسچیئن فورم کی بنیاد رکھی ہے تاکہ عیسائیوں کے ساتھ ایک وسیع تر مکالمے کا اہتمام ہو سکے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ ہم نو مسلموں کو دیگر مسلمان دوسرے اور تیسرے درجے کے مسلمان قرار دیتے ہیں۔
|