Thursday, November 12, 2009

گلگت بلتستان میں پولنگ جاری
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے پہلے عام انتخابات کے لئے تئیس نشستوں پرپولنگ جاری ہے۔ گلگت بلتستان کے حلقہ دیا میرایک کے پولنگ اسٹیشن پر متحدہ قومی مومنٹ کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراض کے بعد پولنگ روک دی گئی۔ گلگت بلتستان میں تئیس نشستوں کے لئے ڈھائی سو سے زائد امیدوار میدان میں ہیں۔ سات لاکھ سے زائد ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے چوبیس میں سے تئیس حلقوں میں پولنگ صبح آٹھ بجے شروع ہوگئی۔ گلگت بلتستان ریجن چھ اضلاع پر مشتمل ہے جن میں دیامر ، استور ، گھانچے ، اسکردو ، گلگت اور غذر شامل ہیں۔ کل آبادی گیارہ لاکھ چار ہزار ایک سو نوے نفوس پر مشتمل ہے۔ رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد سات لاکھ سترہ ہزار دو سو چھیاسی ہے جن میں تین لاکھ چوراسی ہزار نو سو نو مرد اور تین لاکھ بتیس ہزار تین سو ستتر خواتین شامل ہیں۔ الیکشن کے لئے نو سو بیاسی پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔ دو سو ترپن پولنگ اسٹیشن مردوں اور دو سو اٹھاون خواتین کے لئے مخصوص ہوں گے ، باقی پولنگ اسٹیشن پر مرد اور خواتین دونوں حق رائے دہی استعمال کرسکیں گے۔ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی کل نشستیں چوبیس ہیں۔ اسمبلی کے حلقہ ایک سے چھ تک نشستیں ضلع گلگت میں واقع ہیں، جس کے لئے دو سو اناسی پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔ ضلع اسکردو کی چھ نشستوں کے لئے دو سو چونسٹھ پولنگ اسٹیشن پر عوام حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ اسمبلی کے حلقہ نمبر تیرہ اور چودہ ضلع استور کی حدود میں واقع ہیں اور ضلع میں اسی پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔ ضلع دیامر کی چار نشستوں کے لئے ترانوے پولنگ اسٹیشن ہوں گے جہاں عوام اپنا ووٹ کاسٹ کرسکیں گے۔ ضلع غذر میں تین حلقے ہیں ،اس کے لئے ایک سو ستائیس پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں تاہم حلقہ نمبر انیس پر ایم کیو ایم کے امیدوار کی وفات کے باعث الیکشن ملتوی کردیا گیا ہے۔ اسمبلی کی آخری تین نشستیں ضلع گھانچے میں واقع ہیں جہاں ایک سو چھتیس پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔ گلگت بلتستان کے تاریخ ساز الیکشن میں حصہ لینے کے لئے دس سیاسی جماعتوں کے ننانوے امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ جن میں پیپلز پارٹی کے تئیس ، ایم کیو ایم کے بیس ، مسلم لیگ ن کے پندرہ ، مسلم لیگ ق کے چودہ ، گلگت بلتستان ڈیموکریٹک الائنس کے دس ، جے یو آئی (ایف) کے چھ ، بی این ایف کے چار ، اے این پی کے تین اور جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے دو دو امیدوار شامل ہیں۔ آزاد امیدواروں کی تعداد ایک سو اکسٹھ ہے۔ اسمبلی کے ایک سو ترپن پولنگ اسٹیشنزکو حساس جبکہ ایک سو انیس کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ پولنگ اسٹیشن پر پانچ ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات ہوں گے۔



Bookmark and Share