|
امریکا ہمارے حکومتی نظام کے ذریعے امداد دے: گیلانی
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ عوام دو دن سی این جی کے بجائے پیٹرول استعمال کریں۔ ہفتے میں دو دن سی این جی اسٹیشنز بند کرنے کا فیصلہ کابینہ نے سوچ سمجھ کیا ہے۔ حکومت این آر او پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرے گی۔ مکوڑی گیس فیلڈ پلانٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرڈیننس سے فائدہ اٹھانے والوں کے نام پارلیمنٹ میں پیش کئے جائیں گے۔ دوسری جانب امریکی کانگریس کے وفد سے ملاقات میں بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہمارے شفاف حکومتی نظام کے ذریعے امداد دے، شہید اہلکاروں کے بچوں کو امریکا میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں اورپاکستانی مصنوعات کو وسیع تر مارکیٹ رسائی فراہم کی جائے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم سیکرٹریٹ میں ضلع کرک کے علاقے منزہ لئی میں واقع مکوڑی گیس فیلڈ پلانٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کے دوران این آر او کے بارے میں ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اس سے فائدہ اٹھانے والوں کی فہرستیں تیار کی جا رہی ہیں اور جیسے ہی یہ فہرستیں مکمل ہوں گی پارلیمنٹ میں پیش کردی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ این آر او پارلیمنٹ میں لانے کا فیصلہ سپریم کورٹ کے کہنے پر کیا گیا تھا اور اب پارلیمنٹ کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے پارلیمنٹ میں نہ لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جنوبی وزیرستان میں جاری آپریشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم دہشتگردوں کے اہم ٹھکانوں تک پہنچ چکے ہیں اور ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والے خودکش حملے اس کا رد عمل ہیں۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ اس پلانٹ کی پیداوار سے صوبہ سرحد کو مزید گیس رائلٹی ملے گی جس سے سماجی شعبے پر مزید اخراجات کیلئے اسے مزید وسائل مل جائیں گے۔ دریں اثناء وزیراعظم نے کہاکہ خوراک کی کمی کا شکار لوگوں کیلئے بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کے تحت ایک پروگرام تشکیل دیاجارہا ہے۔ امریکی کانگریس کے ارکان سے ملاقات میں گفتگوکے دوران انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے باعث متاثر ہونے والی پاکستانی معیشت کو سہارا دینے کے لئے امریکا پاکستان میں سرمایہ کاری کرے پاکستانی مصنوعات کی امریکا تک رسائی آسان بنائے اور افغانستان میں تعینات اپنی افواج سے کہے کہ وہ پاکستانی اداروں کے ساتھ تربیتی تعاون کریں۔ جان بائیرنی کی سربراہی میں امریکی وفد سے ملاقات کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف جاری فوجی کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے پاکستانی فورسز کو سازوسامان کی فوری ضرورت ہے اس کے علاوہ اس کارروائی کو ٹھوس اور نتیجہ خیز بنانے کے لئے پاکستانی سرحد کے اس پار افغانستان میں موجود امریکی اور اتحادی افواج کے پاکستانی فورسز کے ساتھ انٹیلی جنس تبادلے کو بھی مزید بہتر بنانے کی ضرور ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے لئے نئی پالیسی بناتے ہوئے پاکستان کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ قومی اسمبلی میں چکوال کے ایک علاقہ میں گیس کی فراہمی کے ایک منصوبہ کے افتتاح کے معاملہ پر مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی ایاز امیر اور وفاقی وزیر خوراک و زراعت نذر محمد گوندل کے درمیان جملوں کے تبادلے پر وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں اپوزیشن اراکین بلکہ اقلیتی اراکین کو بھی ترقیاتی منصوبوں کیلئے فنڈز فراہم نہیں کئے جاتے تھے۔
|