Thursday, November 12, 2009

آبدوزوں کی خریداری، زرداری نے کمیشن وصول کیا
فرانس کے ایک روزنامہ میں انکشاف کیا گیا ہے۔ کہ صدر آصف علی زرداری نے 1994 میں پاک بحریہ کے لیے تین فرانسیسی سب میرین کی خرایداری پر مبینہ طور پر کئی ملین ڈالرز وصول کیے ۔ اخبار کے مبابق حاصل ہونے والی دستاویزات کے مطابق صدر زرداری نے فرانس سے آگسٹا سب میرین کی خریداری پر تینتالیس لاکھ ڈالرز وصول کیے ۔ رپورٹ کے مطابق سال2001 میں برطانوی حکومت کی جانب سے پاکستان کے قومی احتساب بیورو کو بھیجی گئی دستاویزات میں صدر زرداری کے سوئس بینک اکائونٹس میں لبنان کے سرمایہ کار عبدالرحمان العسیر کے ذریعے بڑی رقم منتقل ہونے کا انکشاف کیا گیا ۔یہ رقم سال 1994 اور 1995 کے دوران ان کے اکائونٹس میں منتقل کی گئی تھی ۔ فرانس کی نیول ڈیفنس کمپنی کے سابق ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ فرانس کے حکام نے کو اس ڈیل میں مدد گار کے طور پر چنا تھا۔ جس نے مبینہ طور پر معاہدے سے ایک ماہ قبل پندرہ اگست 1994 سے تیس اگست کے دوران صدر زرداری کے اکائونٹس میں تیرہ لاکھ ڈالرز جمع کرائے ۔ معاہدے پر دستخط کے ایک سال بعد بارہ لاکھ اور اٹھارہ لاکھ ڈالرز جمع کرائے گئے ۔ رپورٹ کے مطابق پیرس میں جاری تفتیش کے مطابق معاہدے کے لیے طے کی گئی رقم مکمل ادا نہ کرنے پر ہی کراچی میں مئی 2002 کو فرانس کی نیول ڈیفنس کمپنی کے 11 ملازمین کو دہشتگرد حملے میں ہلاک کر دیا گیا ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فرانسیسی کمپنی کے ملازمین نے دہشتگردی کے اس واقعہ کی تفتیش کے دوران بتایا کہ معاہدے کے تحت خریدی جانے والی آبدوزوں کی قیمت کا دس فیصد حصہ کمیشن کے طور پر دیا جانا تھا۔ جس میں 6 فیصد یعنی 4٫95 ملین ڈالرز فوج اور 4 فیصد یعنی 33 ملین یوروز سیاسی حلقوں کو کمیشن کے طور پر دینا تھا ۔ سال 2001 میں پاک بحریہ کے سابق چیف آف سٹاف منصورالحق کو اس ڈیل میں کردار ادا کرنے پر گرفتار کیا گیا اور ان پر ستر لاکھ ڈالرز واپس دینے کے لیے دبائو بھی ڈالا گیا ۔ رپورٹ کے مطابق صدر آصف زرداری ملک کے امیر ترین آدمی ہیں ۔ ایک اندازے کے مطابق ان کے اثاثوں کی مالیت 18 ارب ڈالرز ہے۔ آصف زرداری کے صدر منتخب ہونے سے چند ماہ قبل اپریل 2008 میں ان کے خلاف تمام مقدمات ختم کر دیے گئے۔



Bookmark and Share