حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”قرآن کریم پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کی سفارش کرے گا۔ اور (خاص طور پر) جگمگاتی ہوئی دو سورتیں کہ وہ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران ہیں، پڑھو کیونکہ یہ دونوں قیامت کے دن اس طرح ظاہر ہوں گی کہ وہ ابر کی دو ٹکڑیاں ہیں یا دو سایہ کرنے والی چیزیں ہیں یا پرندوں کی صف باندھے ہوئے دو ٹکڑیاں ہیں اور وہ اپنے پڑھنے والوں کی طرف جھگڑیں (یعنی ان کی وکالت کریں) گی اور سورہ بقرہ پڑھو کیونکہ اس کے ہمیشہ پڑھنے، اس کے مفہوم و معنی میں غوروفکر اور اس (کے احکام) پر عمل کرنا برکت (یعنی نفع عظیم) ہے اور اس کو ترک کرنا (قیامت کے دن حسرت (یعنی ندامت کا باعث) ہوگا۔ اور (یاد رکھو سورہ بقرہ کے طویل ہونے کی وجہ سے) اس کے پڑھنے کی طاقت وہی لوگ نہیں رکھتے جو اہل باطل اور سست ہوتے ہیں”۔
(مسلم)
فائدہ:۔
اس پوری کائنات میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں جس کا اللہ تعالٰی کی ذات سے اتنا قریبی اور براہ راست تعلق ہو جتنا قرآن مجید کا ہے۔ ہر چیز اور ہر ہستی کا تعلق اللہ تعالٰی سے خالق و مخلوق اور عابدومعبود کا ہے مگر قرآن مجید اللہ تعالٰی کی پیدا کی ہوئی مخلوق نہیں ہے بلکہ خود اسی کی ایک صفت اور اس کا کلام ہے۔ جو اس نے اپنے کرم سے اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہم تک پہنچایا ہے۔
قرآن مجید کی تلاوت ذوق و شوق کے ساتھ دل لگا کر کیجیے اور یہ یقین رکھیے کہ قرآن مجید سے شغف اللہ تعالٰی سے شغف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میری امت کے لیے سب سے بہتر عبادت قرآن کی تلاوت ہے۔
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید پڑھنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ قرآن اپنے اصحاب کے لیے بارگاہ خداوندی میں شفاعت کرے گا۔ اصحاب قرآن وہ سب لوگ ہیں جو قرآن پاک پر ایمان رکھتے ہوئے اور اس سے تعلق اور شغف کو اللہ تعالٰی کی رضا اور رحمت کا وسیلہ یقین کرتے ہوئے اس سے خاص نسبت اور لگاؤ رکھیں۔ جس کی شکلیں مختلف ہو سکتی ہیں۔ مثلاّ کثرت سے اس کی تلاوت کریں۔ اس میں تدبر و تفکر اور اس کے احکام پر عمل کرنے کا اہتمام رکھیں یا اس کی تعلیم و ہدایت کو عام کرنے اور پھیلانے کی جدوجہد کریں۔ ان سب کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت ہے کہ قرآن ان کے حق میں شفیع ہوگا۔ ہاں اخلاص یعنی اللہ تعالٰی کی رضا اور ثواب کی نیت شرط ہے۔
اس حدیث پاک میں قرآن کی تلاوت کی عمومی ترغیب کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران کی تلاوت اور قرات کی خصوصیت کے ساتھ بھی ترغیب دی ہے۔ اور ان دونوں سورتوں کو جگمگاتی ہوئی سورتیں فرمایا ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ دونوں سورتیں نور و ہدایت اور ثواب کی زیادتی کی وجہ سے روشن ہوں گی گویا اللہ رب العزت کے نزدیک ان دونوں سورتوں میں اور بقیہ سورتوں میں چاند اور ستاروں کی نسبت ہے کہ یہ سورتیں تو چاند کی طرح ہیں بہ نسبت تمام سورتوں کے وہ تمام ستاروں کی طرح ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا گیا کہ قیامت میں اور حشر میں جب ہر شخص سایہ کا بہت ہی محتاج اور ضرورت مند ہوگا یہ دونوں سورتیں بادل اور سایہ دار چیز کی طرح یا پرندوں کے پر کی طرح اپنے اصحاب پر سایہ کیے رہیں گی اور ان کی طرف سے وکالت اور جواب دہی کریں گی۔
یہ دونوں سورتیں اپنے مضامین کے لحاظ سے بہت جامع سورتیں ہیں۔ پھر سورہ بقرہ چونکہ قرآن مجید کی سب سے زیادہ لمبی سورت ہے اس لیے اس کا یاد کرنا بغیر سچی لگن اور دلی شوق کے مشکل ہے۔ اور آخر میں سورہ بقرہ کے متعلق مزید فرمایا کہ اس کے سیکھنے اور پڑھنے میں بڑی برکت ہے اور اس سے محرومی میں بڑا خسارہ ہے اور اہل باطل اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ اس حدیث کے بعض راویوں نے کہا ہے کہ اس سے مراد ساحرین ہیں اور مطلب یہ ہے کہ سورہ بقرہ کی تلاوت کا معمول رکھنے والے پر کبھی کسی جادوگر کا جادو نہیں چلے گا۔
سورہ بقرہ کی اس خاصیت اور تاثیر کا اشارہ اس حدیث سے بھی ملتا ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ جس گھر میں سورہ بقرہ پڑھی جائے شیطان اس گھر سے بھاگنے پر مجبور ہوتا ہے۔ (بحوالہ مسلم)
