حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کوئی بندہ جھوٹ بولتا ہے تو (حفاظت کرنے والا) فرشتہ اس کے کلمہ (بات) کی بدبو کی وجہ سے ایک میل دور چلا جاتا ہے”۔
(ترمذی)
فائدہ:۔
اس حدیث سے جھوٹ کی سخت مذمت معلوم ہوتی ہے اور پتہ چلتا ہے کہ فرشتوں کو جھوٹ سے بہت زیادہ نفرت ہے اور ان کو جھوٹ سے ایسی گھن آتی ہے کہ جوں ہی کسی کے منہ سے جھوٹ نکلتا ہے فرشتہ وہاں سے چل دیتا ہے اور ایک میل دور تک چلا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے اعمال لکھنے والے فرشتوں کے علاوہ دوسرے فرشتے مراد ہیں جیسے حفاظت کرنے والے فرشتے وغیرہ، ناگواری اور نفرت تو سبھی فرشتوں کو ہوتی ہے۔ لیکن جو فرشتے اعمال لکھنے پر مامور ہیں وہ مجبوراّ ناگواری کو برداشت کرتے ہیں۔ اللہ کی پیاری مخلوق کو تکلیف پہنچانا کتنا برا عمل ہے اس کو خود سمجھ لیں اور اوپر سے جو جھوٹ کا گناہ ہے وہ اس کے علاوہ ہے۔
مادی چیزوں کی خوشبو اور بدبو کی طرح انسان کے اعمال و کلمات کی بھی اپنی خوشبو یا بدبو ہوتی ہے۔ مادیت کے غلبہ کی وجہ سے ہم گلی سڑی چیزوں کی بدبو تو محسوس کرتے ہیں۔ لیکن ان چیزوں کی بدبو محسوس نہیں کرتے جن کی بدبو اس بدبو کے مقابلہ میں کئی گنا زیادہ ہوتی ہے۔ اسی طرح پھولوں کی خوشبو کا تو ہمیں پتہ چل جاتا ہے لیکن اس خوشبو اور لذت کو ہم محسوس کرنے سے قاصر رہتے ہیں جس کے مقابلہ میں عام خوشبو اور لذتیں ہیچ ہیں۔ عام، رنگ و بو کی رعنائیاں تو ہمارا دامن دل کھینچتی ہیں لیکن حقیقت اور روح کی رعنائیوں سے ہم بےخبر رہ کر ہی اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔
فرشتوں کی حس بہت لطیف اور تیز ہوتی ہے اس لیے وہ ہمارے اچھے برے اعمال تک کی خوشبو یا بدبو محسوس کرتے ہیں اور جھوٹ کی بدبو کی وجہ سے دور ہٹ جاتے ہیں۔ اللہ تعالٰی کی باعزت مخلوق ہماری کذب بیانی کی بدبو کی وجہ سے ہم سے دور بھاگے، یہ ہمارے لیے کتنی شرم کی بات ہے۔ لیکن ہمیں اس کی خبر بھی نہیں ہوتی کہ اللہ تعالٰی کے فرشتے جو اللہ کے مقرب اورنورانی مخلوق ہیں انہیں ہماری برائیوں سے تکلیف ہوتی ہے اور وہ ہمارے قریب ہونے کی بجائے ہم سے دور بھاگتے ہیں۔ یہاں یہ بات پیش نظر رکھنے کی ہے کہ صرف جھوٹ ہی سے نہیں بلکہ غیبت اور بدزبانی وغیرہ کی بدبو سے بھی یہ پاکیزہ مخلوق ہم سے دور بھاگتی ہے۔ فرشتوں کے علاوہ انسانوں میں بھی جس شخص کی روحانیت اس کی مادیت پر غالب ہوتی ہے اسے اعمال کی خوشبو یا بدبو کا ادراک ہوسکتا ہے۔
انسان جسم ہی نہیں روح بھی رکھتا ہے بلکہ اصلاّ وہ روح ہی ہے جو مادیت سے یکسر پاک ہے۔ اس لیے مادیت ہی کو سب کچھ سمجھ لینا کم نگاہی کے سوا کچھ اور نہیں ہے۔ جس طرح سے نفع و نقصان، راحت و تکلیف، لذت و ناخوشگواری، نوروظلمت، پستی و بلندی اور حسن و قبیح کا احساس غیر مادی دنیا میں بھی ہوتا ہے جو حسن و خوبی ہم کو مادی چیزوں میں نظر آتی ہے اس کا حسن اور خوبصورتی سے کوئی نسبت نہیں جو ان چیزوں میں پائی جاتی ہے جو مادیت سے پاک ہیں۔ سڑی چیزوں کی بدبو سے ہم پریشان ہو جاتے ہیں۔ لیکن یہ بدبو اس بدبو کے مقابلہ میں کچھ نہیں ہے جو اس چیز سے روح کو پہنچتی ہے جو روح کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مادی لذتوں سے زیادہ ایمانی و روحانی اور حقیقی نعمتوں اور لذتوں سے آشنا ہوں اور دنیا و آخرت میں اپنے آپ کو محرومی سے بچا سکیں۔
پس مومن بندوں پر لازم ہے کہ ہمیشہ سچ بولیں اور سچ ہی کو اختیار کریں۔ بچوں کو بھی سکھلائیں اور سچ کی عادت ڈالیں ان کے بہلانے کے لیے بھی جو وعدہ کریں وہ وعدہ بھی سچا ہونا چاہیے۔ کیونکہ اس حدیث سے یہ بات بخوبی معلوم ہو جاتی ہے کہ جھوٹ بولنے کا دنیا میں بھی نقصان ہے کہ اس کی حفاظت میں مامور فرشتے اس سے دور بھاگتے ہیں اور آخرت کی ہلاکت اور اس کی سزا اس کے علاوہ ہے۔ اللہ تعالٰی سے دعا ہےکہ وہ ہمیں جھوٹ بولنے سے بچائے۔ (آمین)۔
