نیت اور اس کے ثمرات

حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ: ” جس شخص کی نیت (اعمال میں) طلب آخرت ہو، اللہ تعالٰی اسے غناء قلبی سے بہرہ مند فرماتا ہے (یعنی اسے مخلوق کی پرواہ نہیں رہتی) اور انتشار کو دور کرکے اسے خاطر جمعی عطا فرماتا ہے (یعنی اس کے معاملات کو درست کردیتا ہے)۔ دنیا اس کے پاس آتی ہے اور وہ اس کے نزدیک ذلیل و بے وقعت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جس شخص کی نیت (اعمال میں) طلب دنیا ہو اللہ تعالٰی افلاس کو اس کی آنکھوں کے سامنے کردیتا ہے۔ (یعنی فقروافلاس اس کو محسوس ہونے لگتا ہے)۔ اس کے کام میں اتنشار اور پریشانی ڈال دیتا ہے اور ان سب کے باوجود دنیا اسے بس اسی قدر ملتی ہے جو اس کے لیے مقدر ہوتی ہے”۔
(ترمذی، مسند احمد، دارمی)


فائدہ:۔
اعمال میں نیت کا کیا درجہ ہے؟ اور خلوص کی کتنی ضرورت ہے؟ اس حدیث پاک سے بخوبی واضح ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالٰی کو وہی عمل پسند ہے جس میں محض اللہ تعالٰی کی خوشنودی اور اس کی رضا کی نیت ہو اور جذبہ اطاعت خلوص سے بھرپور ہو۔ ورنہ جو بھی عمل بغیر اخلاص اور بغیر اچھی نیت کے کیا جائے گا چاہے وہ کتنا ہی عظیم عمل کیوں نہ ہو۔ بارگاہ خداوندی سے ٹھکرا دیا جائے گا۔ اور اس پر کوئی مفید نتیجہ مرتب نہیں ہوگا بلکہ الٹا عذاب خداوندی میں گرفتار کیا جائے گا اور اس کو حاصل اتنا ہی ہوگا جتنا کہ اس کے مقدر میں ہے۔

ایک روایت میں آتا ہے کہ اللہ تعالٰی تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں (اخلاص) اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔ (بحوالہ مسلم)۔ بغیر اخلاص کے جتنا عمل بھی کیا جائے بے فائدہ ہے اس کے برعکس جو عمل اخلاص کے ساتھ کیا جائے تو قلیل بھی کثیر ہے۔ جیسا کہ ایک روایت میں اس طرح آتا ہے کہ اپنی نیت کو ہر کھوٹ سے پاک رکھو اور جو عمل کرو اللہ تعالٰی کے لیے خالص کرو تو تھوڑا عمل بھی تمہاری نجات کے لیے کافی ہوگا۔ (بحوالہ مستدرک حاکم)۔

ان احادیث سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہو گئی کہ اللہ تعالٰی صرف وہ اعمال قبول فرماتا ہے جو اخلاص نیت سے کیے جائیں۔ ریا و نمود والے اعمال عذاب الٰہی کا باعث بنتے ہیں اگرچہ وہ ظاہری طور پراچھے اورنیک ہوں۔ حاصل یہ ہے کہ انسان کو یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اللہ تعالٰی انسان کے اخلاص کو دیکھتا ہے اور اسی اخلاص نیت کے ذریعہ سے ہی کسی کے اچھے اور برے ہونے کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اس لیے انسان کےلیے فیصلہ کن چیز یہی اس کی اخلاص نیت ہے نہ کہ اس کا مال و دولت جس کو وہ عام طور پر دنیا میں اہمیت دیتا ہے۔ اس کا یہ رویہ کم نظری اور حقیقت ناشناسی کے سوا اور کچھ نہیں۔

استغناء یعنی مخلوق سے بے نیازی اور بے پرواہی کے سلسلے میں بھی یہ ایک اہم حدیث ہے۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ استغناء کی دولت اس وقت تک کسی کو حاصل نہیں ہوسکتی جب تک کہ وہ دنیا میں طالب دنیا بننے کے بجائے آخرت کا طالب بن کر زندگی نہ گزارنے لگے۔ طلب آخرت دراصل ہماری تمام تر ذہنی و فکری پراگندگی اور پریشانیوں کا علاج ہے۔ طلب آخرت میں انسان کو وہ سکون اور جمعیت خاطر میسر آتی ہے جس کا عام آدمی تصور کرنے سے بھی قاصرہوتا ہے۔ دنیا جو زوال پزیر، محدود و مختصر شے ہے اس کا پرستار ہونا ذہنی سکون و راحت کو غارت کرنے کے برابر ہے۔ طلب کی چیز آخرت ہی ہے۔ دنیا کے طالب کو ہمیشہ فقر افلاس کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔ اس ک امعامہ کبھی درست نہیں ہوتا۔ انتشار اور پریشانی ہی اس کی زندگی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اپنے پیشِ نظر آخرت رکھتا ہے اللہ تعالٰی اس کو یہ انعام عطا فرمات ہے کہ اس کے قلب کو استغنا سے نواز دیتا ہے۔ جو زندگی کی سب سے بڑی دولت ہے۔

ایک اور روایت میں اس طرح آتا ہے کہ جو شخص دنیا کو اپنا نصب العین بنائے گا، اللہ تعالٰی اس کے دل کا اطمینان و سکون چھین لے گا اور ہر وقت مال جمع کرنے کی حرص اور لالچ کا شکار ہو گا۔ لیکن دنیا کا اتنا ہی حصہ اسے ملے گا جتنا اللہ تعالٰی نے اس کے لیے مقدر کیا ہوگا اور جن لوگوں کا نصب العین آخرت ہوگی، اللہ تعالٰی ان کو قلبی سکون و اطمینان نصیب فرمائے گا اور مال کی حرص سے ان کے قلب کو محفوظ رکھے گا اور دنیا کا جتنا حصہ ان کے مقدر میں ہوگا وہ لازماّ ملے گا۔ (الحدیث)۔




Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.