حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ (مسلمان) شخص میں اور کفروشرک کے درمیان فرق نماز کا ترک کرنا ہے۔
(مسلم)
فائدہ:۔
انسان کا اپنے رب سے تعلق خالق و مخلوق کا بھی اور آقا اور غلام کا بھی۔ غلام ہونے کے ناطے اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے آقا کی اطاعت میں اپنی پوری کوشش صرف کرے۔ سارے دین کا حاصل صرف اطاعت ہے۔ بلا کسی پس و پیش کے کامل اطاعت۔ نماز بھی اللہ کی اطاعت کا طریقہ ہے۔ بلکہ یہ اس کی اطاعت کا کامل طریقہ ہے۔ اس میں بندہ اپنے عجز کا اقرار کرتا ہے۔ کبھی اپنے ہاتھ باندھ کر کبھی اپنی کمر جھکا کر اور کبھی انتہائی پستی میں جاتے ہوئے اس کے سامنے اپنی جبیں جھکا دیتا ہے۔ یہ سارے کے سارے اعمال اس بات کا اظہار ہیں کہ بس تو ہی ہمارا سب کچھ ہے۔ اسی میں انسان اس اقرار کی تجدید بھی کرتا ہے کہ تیری ہی طرف ہماری کوششیں اور تجھ ہی سے ہماری امیدیں بھی۔ یہ عمل اس کی عبادت بھی ہے، اس کی حمد بھی ہے، اس کے احسانات کا شکر بھی ہے۔ اس سے ہمکلامی بھی ہے، اس کی یاد بھی ہے۔ فرمایا: ”میری یاد کے لئے نماز قائم کرو”۔ (طہٰ:14)۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”نمازی اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے اس لیے اسے یہ دیکھ لینا چاہیے کہ وہ اپنے رب سے کیا سرگوشی کر رہا ہے؟ تم میں سے کوئی اس طرح بلند آواز سے قرآن نہ پڑھے کہ دوسروں کو دقت ہو”۔ (احمد)۔
نماز کے بے شمار فضائل آئے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ بندے کے کسی عمل میں بندے کی طرف اتنا زیادہ متوجہ نہیں ہوتا جتنا کہ دو رکعتوں پر جن کو بندہ ادا کرتا ہے”۔ (ترمذی)۔ کثرت نماز جنت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کا ذریعہ ہے۔(بحوالہ مسلم)۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ: ”نماز کا اول وقت اللہ کی خوشنودی کا ہے اور آخری وقت اللہ کی معافی ہے”۔(ترمذی)۔ قرآن پاک میں آتا ہے کہ: ”بےشک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے”۔ (عنکبوت: 45)۔
اس میں کیا شک ہے کہ نماز بےحیائی اور برائی سے روکتی ہے۔ نماز سب سے پہلے تو انسان کو ظاہری طہارت پر مجبور کرتی ہے۔ اس کے بعد جو شخص تکبیر تحریمہ کہہ کر نماز میں داخل ہو گیا تو اختتام نماز تک وہ بے حیائی سے بچا لیا جاتا ہے۔ اس کی باقی زندگی پر اس کا کیا اثر ہے یہ اس کے اللہ سے تعلق پر منحصر ہے۔ اس کا تعلق عقیدہ آخرت سے بھی ہے۔ جس شخص کا عقیدہ آخرت پر ایمان پختہ ہوگا اس کے لیے دن میں پانچ بار کا قیام اس آخری قیام کی یاد دہانی کا ذریعہ ہوگا۔ جب ہر عمل کا حساب دینا ہوگا۔ پس نماز اس کے اور برائی کے درمیان حد فاصل بن جائے گی۔ ایسے انسان کی زندگی میں خیر غالب ہوگا اور وہ شر سے دور ہوگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: ”قیامت کے دن بندے کے جس عمل کا سب سے پہلے حساب ہوگا وہ اس کی نماز ہے۔ پس اگر نماز ٹھیک ادا کی گئی ہے تو فلاح اور نجات حاصل ہو جائے گی اور اگر ٹھیک ادا نہ کی گئی تو ناکامی اور خسارہ ہے”۔ (ابوداؤد)۔ البتہ نماز کے جو کچھ فضائل اور برکات اللہ اور اس کے رسول نے بتائے ہیں وہ نماز قائم کرنے پر ہیں جس کا مطلب ہے اس کو اپنے وقت پر پابندی کے ساتھ ظاہری و باطنی اطمینان کے ساتھ اس کے پورے آداب و شرائط کی رعایت سے ادا کرنا ہے۔ صرف نماز پڑھ لینے کا نام نماز قائم کرنا نہیں ہے۔ فرمایا: ”بےشک ایمان والوں نے فلاح پائی، جو نماز میں خشوع کرتے ہیں”۔ (مومنون۔ 2۔1)۔
یعنی فلاح ان کا مقدر ہے جو خشوع یعنی پوری توجہ سے نماز پڑھتے ہیں۔ اس لیے بعض علمائے کرام کے نزدیک خشوع نماز کا رکن ہے۔ بعض کے نزدیک خشوع نماز کی صحت کے لیے ضروری نہیں البتہ قبولیت کے لیے نماز میں خشوع ضروری ہے۔ اسی طرح ظاہری اطمینان کہ نماز کے اعمال اطمینان سے ادا کرنا یہ بھی واجب ہے۔ ایک حدیث شریف میں آتا ہے: ”بدترین چوری کرنے وال شخص وہ ہے جو نماز میں سے بھی چوری کرے”۔ صحابہ اکرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے عرض کیا: ”یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کوئی کس طرح چوری کرے گا؟” ارشاد فرمایا: ”اس کا رکوع اور سجدہ اچھی طرح نہ کرے”۔ (احمد، دارمی)۔ اللہ تعالٰی ہمیں صحیح طریقے سے خشوع کے ساتھ نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین!)۔
