حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: اللہ تبارک و تعالٰی کا ارشاد ہے کہ: ”اے آدم کے بیٹے اگر تونے صدمہ کے شروع میں صبر کیا اور میری رضا اور اجروثواب کو پیش نظر رکھا تو میں تیرے لیے جنت سے کم اور اس کے سوا کسی اجروثواب پر راضی نہ ہوں گا”۔
(ابن ماجہ)
فائدہ:۔
انسان کی زندگی دو حال سے خالی نہیں ہوتی یا تو اسے آرام و عیش حاصل ہوگا یا سے کسی تکلیف اور مصیبت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہوگا۔ ان میں سے جو حالت بھی پیش آئے مومن اس سے خیر ہی سمیٹتا ہے اور یہ خصوصیت صرف مومن ہی کو حاصل ہوتی ہے۔ غیر مومن شخص نہ خوشیوں اور آرام و راحت سے کوئی فائدہ اٹھاتا ہے اور نہ رنج و مصیبت سے۔ اسے اگر آرام و راحت کی زندگی میسر ہوتی ہے تو وہ متکبر بن جاتا ہے۔ اس کی زندگی میں سرکشی اور ناشکری کے سوا آپ کچھ نہیں دیکھیں گے۔ اور اگر کوئی مصیبت پیش آتی ہے تو وہ بے قرار ہو کر بے صبری کا مظاہرہ کرنے لگتا ہے۔ پھر ایک شکایت کرنے والے بندے کے سوا آپ اسے کچھ نہیں پائیں گے۔ لیکن مومن کا طرزعمل اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ خوشی و راحت میں وہ اپنے اللہ کا شکر گزار ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی مصیبت اور تکلیف پہنچتی ہے تو وہ صبر کا دامن تھام لیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس میں اس کے لیے کوئی نہ کوئی بھلائی ہوگی۔ وہ اپنے رب کے فیصلے پر راضی ہوتا ہے۔ یہ صبروشکر درحقیقت زندگی کی وہ اعلٰی قدریں ہیں جن کے بغیر ہم کسی اعلٰی کردار کا تصور نہیں کرسکتے۔
اولاد ہو یا رشتہ دار ان کے جُدا ہونے کا غم فطری ہے۔ دنیا میں رنج و غم دو دوچار ہونے کا یہ سلسلہ زندگی کے ساتھ لگا ہی رہتا ہے۔ دنیا میں اس غم سے فرار نہیں۔ مومن بھی اس رنج و غم سے دوچار ہوتا ہے۔ لیکن وہ اس پر اللہ تعالٰی کی رضا کی خاطر صبر سے کام لیتا ہے۔ یہ رنج و مصیبت جس پر اہل ایمان صبر کرتے ہیں۔ اللہ تعالٰی اس ان کے عام گناہوں اور کوتاہیوں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بندہ مومن جب دنیا سے جاتا ہے تو وہ گناہوں سے بالکل پاک و صاف ہوتا ہے۔ مصیبت پر صبر اختیار کرنے کا اجروثواب اس ے بڑھ کر اور کیا ہوسکتا ہے۔ ایک حدیث پاک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح فرمایا کہ مومن مردوں اور مومن عورتوں پر آزمائشیں آتی رہتی ہیں۔ کبھی خود اس پر کوئی مصیبت ہے۔ کبھی اس کی اولاد پر اور کبھی اس کے مال پر (اور وہ صبر اختیار کرتا رہتا ہے۔ جس سے اس کا قلب صاف ہوتا رہتا ہے اور برائیاں اس سے دور رہتی ہیں)۔ یہاں تک کہ جب وہ اللہ تعالٰٰی سے ملتا ہے تو اس کے ساتھ کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ (بحوالہ ترمذی)۔
قرآن مجید میں اللہ تعالٰی کا فرمانِ عالی شان ہے کہ: ”اور ہم ضرور تمہیں خوف و خطر، بھوک، جان و مال اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے تمہاری آزمائش کریں گے اور ان لوگوں کو خوشخبری دیجئے جو مصیبت پڑنے پر (صبر کرتے ہیں اور) کہتے ہیں اللہ ہی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے۔ ان پر ان کے رب کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی اور اس کی رحمت ہوگی اور ایسے ہی لوگ راہ ہدایت پر ہیں”۔(البقرہ 157۔155)۔
مطلب یہ کہ ہم ہر حال میں اللہ کی رضا پر راضی ہیں۔ اس کا ہر کام مصلحت، حکمت اور انصاف پر مبنی ہے وہ جو کچھ کرتا ہے کسی بڑے خیر کے پیش نظر کرتا ہے۔ وفادار غلام کا کام یہ ہے کہ کسی وقت بھی اس کے ماتھے پر شکن نہ آئے۔
کسی صدمہ کا اثر درحقیقت ابتداء ہی میں سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ کچھ وقت گزر جانے پر تو فطری طور سے غم اور صدمہ کا اثر خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔ اسی لیے اس حدیث پاک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدمہ کے شروع میں صبر کرنے کے اجروثواب کا ذکر فرمایاہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالٰی کی طرف سے اعلان فرمایا ہے کہ جو صاحبِ ایمان بندہ کسی صدمہ کے پہنچنے پر اللہ تعالٰی کی رضاور ثواب کی نیت سے صبر کرے گا تو اللہ اس کو ضرور جنت عطا فرمائے گا اور جنت سے کم درجہ کی کوئی چیز اس کے صبر کے بدلے میں دینے پر اللہ تعالٰی راضی نہ ہوگا۔
جب کسی بندہ مومن کو کسی قسم کا صدمہ پہنچے تو اگر اس وقت اس حدیث کو اور اللہ تعالٰی کے اس وعدہ کو یاد کرکے صبر کرلے تو انشاءاللہ تعالٰی اس صبر میں ایک خاص لذت اور علاوت ملے گی اور آخرت میں اللہ تعالٰی کی طرف سے یقیناّ جنت بھی عطا ہوگی۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو ہر وقت اور ہر حال میں صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)۔
