حضرت ابوالجیح عریاض بن ساریہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (ایک مرتبہ) نہایت موثر وعظ میں ارشاد فرمایا، جس سے دل ڈر گئے اور آنکھیں بہہ پڑیں، ہم نے کہا، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ تو آخری الوداع کہنے والے کا وعظ ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں وصیت فرما دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی اور سمع و طاعت (یعنی امیر کی بات سننے اور اس پر عمل کرنے) کی وصیت کرتا ہوں۔ اگرچہ تم پر کوئی حبشی غلام امیر مقرر ہوجائے۔ (یادرکھو!) تم میں سے جو (میرےبعد) زندہ رہے گا، وہ بہت اختلاف دیکھے گا۔ پس تم میری سنت کو اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑنا۔ ان کو دانتوں سے مضبوط پکڑ لینا۔ دین میں نئے نئے کام (بدعات) ایجاد کرنے سے بچنا، اس لیے کہ ہر بدعت گمراہی ہے”۔
(سنن ابوداؤد و ترمذی)
فائدہ:۔
اس حدیث میں تقوٰی اور امیر کی فرماں برداری اختیار کرنے کے علاوہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور سنت خلفائے راشدین کے اتباع کی تلقین کے علاوہ بدعات سے بچنے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس حدیث مبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی خبر بھی دی ہے کہ امت اختلافات کا شکار ہو جائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ صحیح راستے کی نشاندہی بھی فرما دی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اس اختلافات والے دور میں میری سنت اور خلفائے راشدین کے طریقے کو اپنانے ہی میں نجات ہے۔ بظاہر اس حدیث مبارک سے مراد آج کا ہی دور لگتا ہے۔ کیونکہ آج امت کا شیرازہ بکھر ہوا ہے۔ اور وہ ایک دوسرے سے باہم دست و گریباں ہیں۔ کاش! آج مسلمان اس معیار نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی واحد معیار حق تسلیم کرلیں۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو صحیح دین سمجھنے کی اور صحیح سنت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)۔
