حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ”جب نماز کی اقامت کہی جائے تو تم اس کی طرف دوڑ بھاگ کر مت آؤ بلکہ اطمینان کے ساتھ آؤ، پھر جس قدر نماز تمہیں مل جائے ادا کرلو اور جو نہ پاؤ اسے پوری کرلو”۔
(بخاری و مسلم)
فائدہ:۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نماز کے لیے اس طرح آنا ہے کہ وقار اور سنجیدگی کا اظہار ہو۔ رکعتیں چھوٹ جانے کے خوف سے بھاگ دوڑ کرنا نماز کے ادب کے خلاف ہے۔ جو رکعتیں مل جائیں انہیں ادا کر لینا چاہیے۔ باقی امام کے سلام پھیرنے کے بعد پوری کر لینا چاہیے۔
