زنا کی حقیقت

حضرت ابو ہریرہ سے رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:۔ ”ابن آدم (انسان) کے لیے اس کے زنا کا حصہ لکھ دیا گیا ہے۔ وہ یقیناّ اسے پانے والا ہے۔ آنکھوں کا زنا (نامحرم عورت کی طرف) دیکھنا ہے۔ کانوں کا زنا(حرام آواز کا) سننا ہے۔ زبان کا زنا(ناجائز) بات کرنا ہے۔ ہاتھ کا زنا(ناجائز) پکڑنا اور پیر کا زنا(ناجائز کام کی طرف) چل کا جانا ہے اور دل(بدکاری) کی خواہش اور تمنا کرتا ہے، اور اس کے بعد شرم گاہ اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنا دیتی ہے یا ترک کردیتی ہے”۔
(بخاری و مسلم و سنن ابی داؤد)

فائدہ:۔
زنا کے معنی ہیں نکاح کے بغیر مرد کا کسی عورت سے جسمانی رابطہ قائم کرنا۔ قانون کی نظر میں زنا کا اطلاق صرف جسمانی تعلق پر ہوتا ہے۔ مگر اخلاق کی نظر میں دائرہ ازدواج کے باہر صنف مقابل کی جانب ہر میلان، ارادے اور نیت کے اعتبار سے زنا ہے۔ اجنبی کے حسن سے آنکھ کا لطف لینا۔ اس کی آواز سے کانوں کا لذت یاب ہونا، اس کسے گفتگو کرنے میں زبان کا لوچ کھانا، اس کی طرف قدموں کا بار بار اٹھنا، یہ سب زنا کے مقدمات ہیں اور خود معنوی حیثیت سے زنا ہیں۔

قانون اس زنا کو نہیں پکڑتا۔ یہ دل کا چور ہے اور صرف دل ہی کا کوتوال اس کو گرفتار کرسکتا ہے۔ اس حدیث پاک میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام عوامل کی خبر دی ہے۔ قرآن مجید میں کئی بار غافل انسانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ تمہارا کوئی بھی عمل اللہ تعالٰی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ارشاد باری تعالٰی ہے۔ ”بےشک کان، آنکھ اور دل ان سب کی بابت پاز پرس ہوگی(کہ ان سے کس طرح کام لیا)۔ (بنی اسرائیل۔36)۔

ایک اور جگہ قرآن میں اس طرح آتا ہے کہ ”اور تیرا رب گھات میں ہے(ہر ایک کے عمل کو دیکھ رہا ہے)(فجر 14)۔ یعنی کوئی بھی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ تمام مخلوقات کے اعمال دیکھ رہا ہے اور اسی کے مطابق وہ دنیا اور آخرت میں سزا اور جزا دیتا ہے۔

دیکھنا، سننا، چل کر جانا وغیرہ یہ سب اسباب زنا ہیں۔ لیکن مجازاّ ان محرکات اور عوامل پر بھی زنا کا اطلاق ہوتا ہے جو حقیقی زنا کا باعث اور ذریعہ بن سکتے ہیں۔ تاکہ انسان ان اسباب سے بھی اپنا دامن بچا کر رکھے۔ اس لیے اگر وہ احتیاط نہیں کرے گا تو شرم گاہ اس کی تصدیق کردے گی یعنی وہ بدکاری میں مبتلا ہو جائے گا اور اگر اسباب زنا سے دور رہے گا تو شرم گاہ اس کی تکذیب کردے گی یعنی اور بدکاری سے محفوظ رہے گا۔

جو عوامل زنا کا باعث بنتے ہیں ان میں نگاہ کا فتنہ سر فہرست ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”ہر بری آنکھ(چاہے مردکی ہو یا عورت کی) زانی ہے۔ (بحوالہ ترمذی)۔ کسی مرد یا عورت کو شہوت کی نگاہ سے دیکھنا آنکھوں کا زنا ہے۔ ٹیلی وژن، وی سی آر، سینما، ڈش، سی ڈی وغیرہ میں فحش مناظر کو دلچسپی سے دیکھنا بھی آنکھوں کے زنا میں شامل ہے۔ شہوانی جذبہ سے نامحرم کی باتوں کو سننا اور بے حیائی کی باتوں اور فحش گانوں سے محظوظ ہونا کانوں کا زنا ہے۔ کیونکہ بسا اوقات زبان خاموش رہتی ہے مگر دوسری حرکات سے قوت سامعہ کو متاثر کیا جاتا ہے اس کا تعلق بھی نیت کی خرابی سے ہے اور اسلام اس کی بھی ممانعت کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالٰی ہے:۔ ”اور وہ اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلیں کہ جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہے (یعنی زیور وغیرہ) اس کا حال معلوم ہو۔ (یعنی جھنکار سنائی دے)۔ (النور 31)۔

لگاوٹ کی باتیں کرنا زبان کا زنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نا محرم سے براہ راست یا کسی ذریعہ سے اس موضوع پر باتیں کرنا یا اسے رومانی غزلیں اور اشعار وغیرہ سنانا، زبان کا زنا ہے۔ شیطان نفس کا ایک بڑا آلہ کار جو بدنگاہی کے بعد ہے وہ زبان ہے۔ کتنے ہی فتنے ہیں جو زبان کے ذریعے سے پھیلتے ہیں۔ قرآن نے اس کی ناکہ بندی اس طرح کی ہے۔ ”اگر تمہارے دل میں خدا کا خوف ہے تو نرم زبان سے بات نہ کرو کہ جس شخص کے دل میں (بدنیتی کی بیماری ہو) ہو تم سے کچھ امیدیں وابستہ کرلےگا۔ (الاحزاب 32)۔

نامحرم کو پکڑنا یا چھونا ہاتھ کا زنا ہے۔ اس مقصد کے لیے چلنا پاؤں کا زنا ہے۔ اس مقصد کو اپنے دل میں جگہ دینا اور اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے منصوبہ بنانا اور اس اسکیمیں تیار کرنا، مذکورہ تمام مقدمات زنا کا پیش خیمہ ہیں۔ غرض انسانی جسم کا ہر وہ حصہ زانی ہے جو بری نیت سے دوسری صنف کے جسم سے مس کرتا ہے۔ مومن کا کردار یہ ہے کہ وہ بدکاری کے کسی سبب اور محرک کے بھی قریب نہیں پھٹکتا۔




Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.