حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ”یہ دین (اسلام) ہمیشہ قائم رہے گا اور مسلمانوں میں سے ایک نہ ایک جماعت اس دین کی حفاظت کے لیے قیامت (قائم ہونے کے قریب) تک لڑتی رہے گی (یعنی روئے زمین جہاد سے خالی نہیں رہے گی۔ کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی صورت میں ہمیشہ جہاد ہوتا رہے گا)”۔
(مسلم)
فائدہ:۔
جہاد کا مطلب ہے انتہائی قوت سے حملہ آور دشمن کی مدافعت کرنا۔ اصطلاح شریعت میں جہاد کا مفہوم یہ ہے کہ کفار کے ساتھ لڑی جانے والی جنگ میں اپنی طاقت خرچ کرنا، اس طرح کہ خواہ اس میں اپنی جان کو پیش کیا جائے یا اپنے مال کے ذریعہ مدد کی جائے اور خواہ اپنی عقل و تدبر یعنی اپنے رائے اور مشوروں کا تعاون دیا جائے یا محض اسلامی لشکر میں شامل ہو کر اس کی نفری میں کثرت اور اضافہ کیا جائے اور یا ان کے علاوہ کسی بھی طریقے سے دشمنانِ اسلام کے مقابلے میں اسلامی لشکر کی معاونت و حمایت کی جائے، جہاد کا نصب العین یہ ہے کہ دنیا میں ہمیشہ اللہ کا بول بالا رہے۔ اللہ تعالٰی کی سرزمین پر اس کا جھنڈا سر بلند رہے اور اس کے باغی منکروں کا دعوٰی سرنگوں رہے۔
جہاد اسلام کا ایک رکن اعظم ہے۔ جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔ یہ فرض کفایہ ہے لیکن جس شہر اور ملک کے مسلمانوں کو کفار اور دشمنانِ دین کی جارحیت اور جنگی حملوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہو اور وہ کافروں کے مقابلہ سے اور اپنے دفاع سے عاجز ہو جائیں اور دشمنوں کا مقابلہ کرنے میں کوتاہی یا ناکام ہوجائیں تو اس وقت ان کے پڑوسی شہر و ملک کے مسلمانوں بلکہ مابین المشرق و المغرب کے تمام مسلمانوں پر واجب ہوگا کہ وہ جہاد میں شریک ہوکر اسلام اور مسلمانوں کے وقار کا تحفظ اور دشمنان دین کا دعوٰی سرنگوں کریں۔ اسی طرح جب کافر مسلمانوں کے ملک پر چڑھ آئیں تو ہر مسلمان پر جہاد فرض ہے۔ یہاں تک کہ عورتوں اور بوڑھوں اور بچوں پر بھی اور اس کے ترک سے سب گناہگار ہوں گے۔ لیکن آج ہمارے زمانہ میں چند دنیادار، خوشامد خورے، جھوٹے، دغاباز مولویوں نے کافروں کی خاطر، عام مسلمانوں کو بہکا دیا ہے کہ اب جہاد فرض نہیں رہا ہے۔ ان کو اللہ تعالٰی سے ڈرنا چاہیے اور توبہ کرنی چاہیے۔ جہاد کی فرضیت قیامت تک باقی رہے گی۔ جیسا کہ اس حدیث مبارکہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اس سبب سے قائم رہے گا کہ مسلمانوں میں سے کوئی نہ کوئی جماعت اور کوئی نہ کوئی قوم ہمیشہ دین کے دشمنوں سے لڑتی رہے گی اور اللہ کے باغیوں کا دعوٰی سرنگوں کرتی رہے گی۔
اللہ تعالٰی کا ارشاد پاک ہے کہ: ”کافروں سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہوجائے”۔ (البقرہ۔ 193)۔
اس آیت میں دین اسلام کو غالب کرنے کے لیے جہاد کا حکم دیا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ ارشاد ہوا کہ دین کو غالب کرنے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے کا فتنہ جب تک ختم نہ ہوجائےاس وقت تک جنگ کرتے رہو۔ ایک اور جگہ ارشاد باری تعالٰی ہے کہ: ”آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بےبس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پا کر دبا لیے گئے اور فریاد کررہے ہیں کہ اے ہمارے رب! اس بستی سے نکال، جس کے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مددگار پیدا فرما”۔ (النساء۔ 75)۔
یعنی جن مسلمانوں پر ظلم و ستم ہو رہا ہے، خواہ وہ دنیا کے کسی بھی حصہ میں بسے ہوں، ان کو ظلم و ستم سے نجات دلانے کے لے دوسرے تمام مسلمانوں کو جہاد کے لیے اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔
اللہ تعالٰی تمام امت کو جہاد کے مقصدومعنی اور اس کی فرضیت کی صحیح فہم عطا فرمائے اور مجاہدین اسلام کی ہر طرح سے مدد کی توفیق عطا فرمائے کیونکہ:۔
بہت ہے نسبتیں تم سے بقائے جاودانی کو
تمہیں چاہو تو بخشو تازگی اب زندگانی کو
تمہارے عزم کی ٹھوکر میں ہے ہر تاج سلطانی
تمہیں بخشی گئی ہے ایک عالم کی نگہبانی
