حج کی شرائط

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ:۔ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ: ”یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کون سی چیز حج کو واجب کرتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”زادِ راہ اور سواری”۔
(ترمذی و ابن ماجہ)

فائدہ:۔
حج اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ کتاب و سنت سے اس کی فرضیت ثابت ہے اور امت کا اس کی فرضیت پر اجماع ہے۔ حج کی فرضیت کا قرآن مجید میں اس طرح ذکر آیا ہے:۔ ”لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج ادا کرے۔ اور جو کوئی کفر کی راہ اختیار کرے (یعنی اس حکم کی پیروی سے انکار کرے) تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے”۔ (آل عمران۔ 97)۔

اس حدیث میں صحابی کا سوال کون سی چیز حج کو واجب کرتی ہے؟ کا مطلب یہ ہے کہ حج واجب ہونے کی کیا شرائط ہیں؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چیز تو زادِ راہ بتایا ہے جس سے مراد یہ ہے کہ اتنا مال جو سفر حج میں جانے اور آنے کے اخراجات اور تا واپسی اہل و عیال کی ضروریات کے لیے کافی ہو اور دوسری چیز سواری بتائی جس پر سوار ہوکر بیت اللہ تک پہنچا جا سکے اگرچہ حج کے واجب ہونے کی شرطیں اور بھی ہیں۔ مگر یہاں بطور خاص ان ہی دو چیزوں کا ذکر اس لیے کی گیا ہے کہ اصل میں یہی دو شرطیں ایسی ہیں جو حج کے لیے بنیادی اور ضروری اسباب کا درجہ رکھتے ہیں۔

قرآن مجید کے اوپر گذری ہوئی آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ”استطاعت رکھ سکتے ہوں” کا مطلب انتہائی وسیع ہے فقہاء کے نزدیک اس میں مندرجہ ذیل باتیں شامل ہیں۔

صحت و تندرست ہونا، بیمار، اندھے و لنگڑے اپاہج پر حج فرض نہیں۔

قادر ہونا، یعنی اس قدر مال ہونا کہ اخراجات سفر برائے سواری، رہائش اور خوراک موجود ہو۔ دوسروں کا دست نگر نہ بنے۔

اہل و عیال میں جن لوگوں کا نفقہ اس کے ذمہ واجب ہے ان کے ضروری اخراجات کے لیے اتنا مال ہو جو اس کے واپس آنے تک ان لوگوں کے لیے کافی ہو۔

راستے میں امن ہونا، یعنی راستہ محفوظ ہو۔ جان و مال کا خوف نہ ہو۔ مثلاّ جنگ، فسادات، سفر کے دوران لوٹ مار وغیرہ۔

کوئی ایسی رکاوٹ نہ ہو جیسے قید، جیل یا ظالم حکمران کی سختی۔

مندرجہ بالا پانچ شرائط کے ساتھ عورت پر حج کی فرضیت کے لیے ایک اور شرط یہ ہے کہ عورت کے ساتھ اس کا محرم ہو۔ کسی مسلمان عورت کے لئے جائز نہیں کہ وہ محرم کے بغیر حج کے لیے جائے۔ محرم ہونے کی شرط کے حوالے سے مندرجہ ذیل باتوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

عورت کا محرم اس کا شوہر ہے یا ہر وہ شخص ہے جس کے ساتھ اس عورت کا نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو۔

سفر حج میں عورت کے محرم کے لیے ضروری ہے کہ وہ عقل اور بالغ ہو۔ نابالغ بچے حج میں محرم کی شرط کو پورا نہیں کرتے۔ اور بالغ ہونے کا اعتبار کم از کم پندرہ سال کی عمر ہے اور اس بات کا بھی لحاظ بھی رکھا جائے کہ اس کے اندر سوجھ بوجھ بھی پائی جاتی ہو۔ نیز عورت کے لیے ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ عدت کے ایام میں نہ ہو۔

یہ آیت ہر صاحب استطاعت کے لیے وجوب دلیل ہے۔ قرآن کی اس آیت کا اختتام اللہ تعالٰی کی جانب سے ایک سنگین دھمکی سے ہو رہا ہے۔ یعنی اگر تم استطاعت رکھنے کے باوجود حج نہ کرو گے تو اللہ تعالٰی کا کیا بگڑے گا وہ تو سارے جہان والوں سے بے نیاز ہے۔ البتہ سارے کا سارا نقصان تمہارا ہی ہوگا۔

کیونکہ حج اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک رکن ہے اور ہر زی استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک دفعہ فرض ہے اور قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے ادا کرنے میں کوتاہی کرنا سنگین جرم ہے اور استطاعت کے باوجود حج نہ کرنے والے کا ایمان خطرے میں ہے۔ اللہ تعالٰی سب مسلمانوں کو حج کی استطاعت اور توفیق عطا فرمائے۔ آمین!




Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.