فقرکاعلاج۔ اللہ عزوجل کی عبادت کے لیے فارغ ہونا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے کہ:۔ ”ابن آدم! تو میری عبادت کے لیے اپنے آپ کو فارغ کرلے میں تیرے سینے کو استغناء سے بھر دوں گا اور تیرے فقرواحتیاج کے راستے کو بند کردوں گا اور اگر تونے ایسا نہیں کیا تو میں تیرے ہاتھ کو(دنیاکے) مشاغل سے بھردوں گا اور تیرے فقروافلاس کو بھی نہیں روکوں گا”۔
(بخاری و مسلم)

فائدہ:۔
فقر سے بچنے اور حصول رزق کے اسباب میں سے ایک سبب یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالٰی کی عبادت کے لیے فارغ ہوجائے۔ اللہ تعالٰی کی عبادت کے لیے فارغ ہونے سے مراد یہ نہیں کہ بندہ دن رات مسجد میں بیٹھا رہے اور حصول رزق کے لیے کوئی کوشش نہ کرے۔ بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جب اللہ تعالٰی کی عبادت کرے تو قلب اور قالب یعنی دل اور جسم دونوں حاضر ہوں۔ عبادت میں خشوع و خضوع ہو۔ رب ذوالجلال کی عظمت و کبریائی اس کے دل میں جاگزیں ہو۔ اس کو اس بات کا ادراک و احساس ہو کہ وہ کائنات کے مالک اللہ تعالٰی سے ہم کلام ہے۔ جیسا کہ ایک روایت میں اس طرح آتا ہے:۔ ”اللہ تعالٰی کی عبادت اس طرح کرو گویا تم انہیں دیکھ رہے ہو۔ اگر اس کیفیت کو نہ پاسکو تو یہ تو ہو کہ اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے”۔ (بحوالہ مسلم)

حدیث پاک میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو خبر دی ہے کہ پوری توجہ اور یکسوئی سے اللہ تعالٰی کی عبادت کرنے والے کے لیے اللہ تعالٰی کی طرف سے دو انعامات ملنے کا وعدہ ہے۔ پہلا انعام یہ ہے کہ وہ اس کے دل کو تونگری سے بھر دیں گے اور دوسرا انعام یہ ہے کہ وہ اس کو لوگوں سے بے نیاز فرمادیں گے۔ اللہ تعالٰی کا فرمان ہے کہ ”میری بندگی اور میری عبادت کا تجھے یہ فقد صلہ ملے گا کہ تو غیر اللہ سے بے نیاز ہو جائے گا۔ تجھے غیر اللہ کی پرواہ نہ ہوگی۔ علم و معرفت کی وجہ سے تو غنی ہو جائے گا۔ تیرے رزق میں برکت ہوگی۔ تو کبھی ذلیل نہیں ہوسکتا۔ تیرے وقار اور عزت کا میں محافظ ہو جاؤں گا۔ تھوڑے رزق میں بھی تجھے ایسی آسودگی حاصل ہوگی جو کسی دولت مند کو اپنی دولت کی فراوانی کے باوجود بھی حاصل نہیں ہو سکتی”۔

ساتھ ہی حدیث پاک میں توجہ اور دھیان سے عبادت نہ کرنے والوں کے لیے اللہ تعالٰی کی طرف سے دو سزاؤں کے خطرے کی طرف تنبیہ کی گئی ہے۔ پہلی سزا یہ ہے کہ وہ دنیا کے بےکار کاموں میں الجھ جائے گا اور دوسری سزا یہ ہے کہ وہ ہمیشہ لوگوں کا دست نگر اور محتاج رہے گا۔ یعنی اگر اپنے رب کی عبادت اور بندگی سے بے پرواہ ہو کر مشاغل دنیا ہی میں لگا رہا تو بس تو دنیا ہی کا ہو کر رہے گا۔ جس سے تجھے فراغ حاصل نہیں ہوسکتا۔ تو پریشان اورسرگرداں ہی رہے گا۔ تیری بھوک اور ہوس کبھی نہ جائے گی۔ زیادہ سے زیادہ دنیا سمیٹنے کی فکر میں اپنے دل کا اطمینان و سکون کھو بیٹھے گا۔ حقیقی راحت و سکون کی زندگی تجھے میسر نہ آسکے گی۔

ایک اور روایت میں اس طرح آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:۔ ”تمہارے رب تبارک و تعالٰی ارشاد فرماتے ہیں کہ: اے آدم کے بیٹے! میری عبادت کے لیے فارغ ہو جاؤ۔ میں تیرے دل کو تونگری سے پُر کردوں گا اور تیرے دونوں ہاتھوں کو رزق سے بھر کردوں گا۔ اے آدم کے بیٹے! مجھ سے دوری اختیار نہ کر (اگر تونے ایسا کیا) تو میں تیرے دل کو محتاجی سے بھردوں گا اور تیرے دونوں ہاتھوں کو (دنیا کے) کاموں میں لگا دوں گا”۔ (بحوالہ حاکم)

مختصراّ یہ کہ جو لوگ اپنے آپ کو دل وجان کے ساتھ اللہ تعالٰی کی عبادت میں لگاتے ہیں ان کے دلوں کو دلوں کے پیدا کرنے والے، خزانوں کے مالک اللہ تعالٰی تونگری سے لبریز کردیں گے۔ پھر محتاجی کا احساس اور دست نگری کا تصور کیسے اس کے قریب پھٹک سکتا ہے اور جس کے ہاتھوں کو کائنات کے رازق رزق سے بھر دیں وہ غربت و افلاس کا شکار کیونکر ہو سکتا ہے؟




Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.