حضرت امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خصوصی فضلیت

حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں منبر پر (خطبہ دیتے ہوئے) دیکھا کہ حسن ابن علی رضی اللہ تعالٰی عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے (دائیں یا بائیں) پہلو میں تھے۔ کبھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (وعظ و نصیحت میں تخاطب کےلیے) لوگوں کی طرف دیکھتے اور کبھی (پیارومحبت بھری نظروں سے) حسن بن علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی طرف دیکھنے لگتے اور فرماتے کہ:۔ ”یہ میرا بیٹا ”سید” ہے۔ امید ہے کہ اللہ تعالٰی اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا”۔
(بخاری)

فائدہ:۔
”دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا”۔ یہ ارشاد نبوت دراصل ان واقعات و حالات کی سچی پیشن گوئی تھی۔ جو حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی خلافت کے بعد ظہور پزیر ہوئے، اس وقت ملت اسلامیہ کا بڑا حصہ واضح طور پر دو طبقوں میں بٹ گیا تھا۔ ایک طبقہ حضرت امام حسن کی خلافت و امارت کا قائل تھا اور دوسرا طبقہ حضرت امیر معاویہ کی امارت و حکمرانی کو تسلیم کرتا تھا اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اس زمانہ میں خلافت و امارت کے سب سے بڑے حقدار حسن ہی تھے۔ کیونکہ نہ صرف ذاتی، نسبی اور دینی عظمت وحشمت وبزرگی اور فضیلت و برتری ان کو حاصل تھی۔ جس کی ایک بڑی دلیل یہی حدیث ہے کہ لسانِ نبوت نے ان کو سید فرمایا۔ ملی و سیاسی سطح پر بھی ان کو زبردست حمایت و طاقت حاصل تھی اور تقریباّ چالیس ہزار جوانمردوں کا لشکر جان کی بازی لگا دینے کا عہد کرکے ان کے ساتھ تھا۔ دراصل حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے زمانہ خلافت میں ہی ان کے اور حضرت امیر معاویہ کے مابین شدید اختلاف تھے۔ اور ابھی حضرت امام حسن کی بیعت خلافت کو چھ یا سات ماہ ہی گزرے تھے کہ قتل و قتال سے بچنے کے لیے، اور انہوں نے اس خوف سے کہ نانا جان کی امت افتراق و انتشار اور باہمی خونریزی کا شکار ہو جائے گی، حکمرانی اور ملکی قیادت کو ٹھکرا دیا اور آخرت کی فلاح و کامرانی کو اپنا منتہائے مقصود سمجھا۔ چنانچہ انہوں نے کسی کمزوری اور مجبوری کے تحت نہیں بلکہ اتحاد امت کے مقصد کے تحت اپنی مرضی اور خوش دلی کے ساتھ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے صلح کرلی اور ان کے حق میں خلافت سے دستبردار ہوگئے اور ان کے ہاتھ میں بیعت کی اور متفقہ طور پر بغیر کسی اختلاف کے امیر معاویہ کو امیرالمومنین اور خلیفتہ المسلمین مان لیا اور پھر کوئی اختلاف باقی نہ رہا۔ اس زمانے میں کوئی ایک آدمی بھی ایسا باقی نہ رہا جس نے حضرت امام حسن اور حسین کے ساتھ امیر معاویہ کی بیعت نہ کی ہو۔ اس کے بعد امام حسن خود مدینہ طیبہ تشریف لے گئے۔ اس کے بعد امیر معاویہ نے بیس برس چالیس ہجری سے ساٹھ ہجری تک بلا شرکت غیر حکمرانی کی۔ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ اس زمانہ میں فرمایا کرتے تھے خدا کی قسم! مجھ کو یہ گوارا نہیں کہ امت محمدیہ میں سے کسی کے خون کا ایک قطرہ بھی زمین پر گرے۔ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مدینہ پہنچ کر یکسوئی کی زندگی اختیار فرمائی اور عبادت و ریاضت اور دین کی تبلیغ کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیا۔

حضرت امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حق میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی کہ ”اللہ تعالٰی اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا”۔ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ دونوں ہی فرقے (یعنی امیر معاویہ کے پیرو اور حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ اور ان کے بعد حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پیرو) ملت اسلامیہ کا جز اور مسلمان تھے باوجودیکہ ان دونوں میں سیاسی اختلاف تھا۔ نیز امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کا امیر معاویہ کے حق میں دستبردار ہو جانا اور ان سے صلح اور بیعت کرلینا اس امر کی دلیل ہے کہ امیر معاویہ کی خلافت و امارت شرعی طور پر قانونی اور جائز تھی۔

بلاشبہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ کا فضل و شرف اس بات سے مکمل طور پر عیاں ہے کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سید فرمایا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھانے میں مشغول ہوتے تھے کہ حسن جو اس وقت چھوٹے سے تھے، مسجد میں آجاتے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جاتے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن اور پیٹھ پر چڑھ کر بیٹھ جاتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ سے اپنا سر اس قدر آہستگی اور احتیاط سے اٹھاتے کہ حسن نیچے اتر جاتے۔ (ایک دن) بعض صحابہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم آپ کو اس منے کے ساتھ وہ معاملہ کرتے دیکھتے ہیں جو کسی اور کے ساتھ نہیں دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: یہ منا میری دنیا کا پھول ہے۔ بلاشبہ میرا یہ بیٹا سید ہے۔ اور امید ہے کہ اللہ تعالٰی اس کے ذریعے سے دو گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا۔ (الحدیث)۔




Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.