نیت کی پاکیزگی

حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:۔ اللہ عزوجل صرف اس عمل کو شرف قبولیت عطا کرتا ہے۔ جو خالص اسی کے لیے ہو اور جس کے ذریعہ اس کی خوشنودی چاہی گئی ہو”۔
(ابو داؤد و نسائی)

فائدہ:۔
کام کوئی بھی ہو اچھا ہو یا برا، کام کی نیت اور ارادہ ہمیشہ اس کام سے پہلے ہوتا ہے اس لیے نیت کے بگاڑ سدھار کی بحث عمل کے بگاڑ سدھار سے ظاہر ہے کہ پہلے ہونی چاہیے۔ نیت کی پاکیزگی اور اخلاص نیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنا ہر عمل اللہ تعالٰی کی رضا کے لیے انجام دینے لگے۔ اس کے بعد ذرا سی اور جدوجہد اور کوشش کی جائے تو اس سے آگے کا ایک یہ مقام بھی حاصل ہو جاتاہے کہ مباحات تک میں کوئی نہ کوئی نیت خیر پیدا ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر یہ مقام بلند نہ بھی حاصل ہوسکے تو اتنا تو ہر شخص پر فرض ہے کہ جو اعمال خالص عبادت ہیں جیسے نماز، روزہ، زکوٰہ، حج اور ذکر و تلاوت اور علم وغیرہ ان کے کرنے میں سوائے رضائے الٰہی کے اور کچھ مقصود نہ ہو۔ قرآن کریم میں اور احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اخلاص پر بہت زور دیا گیا ہے اور مختلف عنوانات سے بار بار اس کی تلقین کی گئی ہے۔

اخلاص ہر عمل صالح میں لازمی چیز ہے اور اس کو تباہ کرنے والی چیز دنیا کی محبت ہے۔ مال کا لالچ، شہرت اور نام و نمود کی حرص، لوگوں کو معتقدومداح بنانے اور ان کے رائے اپنے بارے میں بہتر کرنے کی خواہش، یہ چیزیں انسان کو اخلاص سے ہٹاکر ریاکاری اور نام آوری کے جذبات پر ڈال دیتی ہیں۔ ان چیزوں سے نظر ہٹا کر محض رضائےالہٰی کو مقصود بنا لیا جائے۔ یہی اخلاص ہے جو ہر عمل صالح کے روح اور اصل جوہر ہے۔ اللہ تعالٰی کےیہاں صرف وہ عمل مقبول ہے جو محض اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیا جائے۔ عمل صالح کے نتیجہ میں انسان کی صلاح و نیکی کا اگر ڈنکا بجنا ہے تو وہ بہرحال بج کر رہے گا۔ اگر لوگوں کے دلوں میں اس کی عزت و سربلندی مقدر ہو چکی ہے تو وہ ہوکر رہے گی۔ لوگ اسے نیک عمل کرتے دیکھیں گے تو خود ہی اسے نیک سمجھیں گے۔ پھر نیت میں اس کو شامل کرکے کیوں انسان اپنا عمل برباد کرے۔

جو دل اخلاص عمل سے خالی ہو اسے مقبولیت حاصل نہیں ہوتی۔ جیسے چٹان جس پر مٹی پڑی ہو بارش سے فصل نہیں اُگ سکتی لیکن اگر نفس اخلاص سے معمور ہو تو اس کی برکتوں کا اس سایہ ہوتو معمولی سی چیز کو پہاڑ کے برابر وزنی بنا دیتا ہے اور اگر اخلاص سے خالی ہو تو بھس کا ڈھیر اللہ کے نزدیک کیا مقام حاصل کرسکتا ہے اسی لیے ایک روایت میں اس طرح آتا ہے۔ ”اپنے دین کو خالص کرلو، تھوڑا سا عمل جہنم سے بچانے کے لیے کافی ہوگا۔ (بحوالہ حاکم)۔

نیکیوں کا اجر احادیث وقرآن میں دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک آتا ہے۔ اس کا دارومدار دلوں میں پوشیدہ اخلاص اور نیت کی پاکیزگی پر ہے جس سے صرف وہی ذات واقف رہتی ہے جو حاضروغائب کا علم رکھتی ہے چنانچہ نیت کی پاکیزگی اور عمل کی للہیت کے تناسب سے اجر میں اضافہ ہی متوجہ ہوتا ہے۔ اور ان کا وہی عمل قبول کرتا ہے جو باعث تقرب ہوتا ہے۔

ایک روایت میں اس طرح آتا ہے کہ جب قیامت آئے گی تو دنیاوی کاموں کو اللہ کے حضور پیش کیا جائے گا۔ اس میں سے جو کام اللہ تعالٰی کے لیے کیے گئے ہوں گے انہیں الگ کردیا جائے گا۔ اور جو دوسرے مقاصد کے لیے انجام دیئے گئے ہوں گے انہیں جہنم کی آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ (بحوالہ بیہقی)۔

جو ان حقائق کو اپنی زندگی سے وابستہ کردے گا وہ اس دنیا میں بھی راحت و آرام کی سانس لے گا اور آخرت میں بھی ابدی مسرت سے ہمکنار ہوگا۔ کسی چیز کے کھونے سے اسے نقصان ہوگا نہ کس عمل پر اسے غم و افسوس ہوگا جیسا کہ ایک روایت میں اس طرح آتا ہے۔ ”جس نے دنیا کو چھوڑا اس حال میں کہ اللہ وحدہ لاشریک کے لیے خالص عمل کیا تھا۔ نماز قائم کی تھی اور زکوٰہ دی تھی تو اللہ اس سے راضی ہے۔ (بحولہ ابن ماجہ)۔




Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.