حضرت عمروبن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:۔ ”بخدا میں تمہارے لیے فقروافلاس سے نہیں ڈرتا بلکہ مجھے تمہارے بارے میں اس بات کا خوف ہے کہ دنیا تم پر کشادہ کردی جائے گی (اور تم مالداروں کا طور طریقہ اختیار کرکے مختلف قسم کی آفتوں اور بلاؤں کے ذریعہ ہلاکت و تباہی میں مبتلا ہو جاؤ گے) جس طرح سے ان لوگوں پر کشادہ کی گئی جو تم سے پہلے گزرے ہیں (اور وہ مال و دولت کی بےحد رغبیت و محبت رکھنے کی وجہ سے فقراء اور مساکین پر رحم نہیں کھاتے تھے اور ان کی مددواعانت سے گریز کرتے تھے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کو تباہ و برباد کردیا گیا) چنانچہ تم بھی دنیا کی طرف رغبت کروگے(یعنی دنیا کو اختیار کروگے اور اس کی طرف نہایت رغبیت رکھو گے کہ ایک دوسرے سے مال و دولت اور جاہ و حکومت حاصل کرنے کے لیے لڑائی جھگڑا شروع کردوگے) جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں نے اس کی طرف رغبت کی تھی اور پھر یہ دنیا تم کو اسی طرح برباد کردے گی جس طرح ان کو تباہ و برباد کرچکی ہے”۔
(بخاری و مسلم)
فائدہ:۔
اس حدیث مبارکہ میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی ایک انتہائی اہم اور نازک معاملے کی طرف راہنمائی فرمائی جو کہ آج کے حالات میں حرف بحرف صحیح ثابت ہو رہی ہے۔ اگرچہ فقروافلاس کی وجہ سے آدمی فتنہ و آزمائش میں پڑ سکتا ہے۔ لیکن اس سے بڑھ کر اس کے بارے میں اندیشہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ اس کے لیے مال و متاع کی راہیں کھل جائیں اور وہ دولت کی چاہت میں اپنی اصل ذمہ داریوں کو فراموش کر بیٹھے۔ اسے صرف فکر ہو تو اس بات کی کہ کتنی جلد وہ اپنے لیے زیادہ سے زیادہ سرمایہ سمیٹ لے۔ وہ حرص کا ایسا بندہ بن کر رہ جائے کہ نہ اسے فقراء و مساکین پر رحم آئے اور نہ اپنی دولت کو راہ خدا میں کرسکے اور بالآخر اللہ تعالٰی کے غضب میں گرفتار ہو کر رہے۔ جس طرح پچھلی قومیں اللہ تعالٰی کے عذاب کا شکار ہوئی ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بعض پچھلی قوموں اور امتوں کا یہ تجربہ تھا کہ جب ان کے پاس دنیا کی دولت بہت زیادہ آئی تو ان میں دنیاوی حرص اور دولت کی رغبت و چاہت اور زیادہ بڑھ گئی اور وہ دنیا ہی کے دیوانے اور متوالے ہوگئے اور اصل مقصدِ زندگی کو بھلا دیا۔ پھر اس کی وجہ سے ان میں باہم حسدوبغض بھی پیدا ہوا اور بالآخر ان کی اس دنیا پرستی نے ان کو تباہ و برباد کردیا۔ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کے بارے میں اسی کا زیادہ ڈر تھا۔ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازراہ شفقت امت کو اس خطرے سے آگاہ کیا ہے اور فرمایا ہے کہ تم پر فقروناداری کے حملے کا مجھے زیادہ ڈر نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس تم میں بہت زیادہ دولت آجانے سے دنیا پرستی میں مبتلا ہوکر تمہارے ہلاک و برباد ہوجانے کا مجھے زیادہ خوف اور ڈر ہے۔
مال و دولت کی وہ فراخی اور آسودگی جو دنیا کا گرویدہ بناتی ہے۔ حرص و طمع میں مبتلا کرتی ہے۔ جوڑنے سمیٹنے اور ذخیرہ اندوزی کا خوگر کرتی ہے اور آخرکار یہ چیزیں انسان کو اخلاقی و روحانی طور پر تباہ برباد کردیتی ہیں اور اخروی ہلاکت کا بھی ذمہ دار بنادیتی ہیں۔ اس لیے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو دنیاوی خوشحالی و آسودگی اور مالداری سے اپنے خوف کا اظہار فرمایا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا مقصدومدعا اس خوشنما فتنہ کی خطرناکی سے امت کو خبردار کرنا ہے۔ تاکہ ایسا وقت آنے سے پر اس کے برے اثرات سے اپنا بچاؤ کرنے کی فکر کی جائے۔
اللہ تعالٰی تمام امت کو ان تمام فتنوں سے محفوظ فرمائے جو مسلمانوں میں آپس میں نفاق اور دشمنی کا باعث بنتے ہیں۔ آمین!
