امیر یا حاکم کی اطاعت کب تک؟

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:۔”مسلمان مرد پر (اپنے مسلمان حکمران کی بات) سننا اور ماننا فرض ہے۔ چاہے وہ بات اسے پسند ہو یا ناپسند، سوائے اس کے کہ اسے گناہ کرنے کا حکم دیا جائے۔ پس جب اسے اللہ کی نافرمانی کا حکم دیا جائے تو پھر اس پر سننا اور ماننا فرض نہیں (بلکہ انکار کرنا ضروری ہے)”۔
(بخاری و مسلم)

فائدہ:۔
امیر و حاکم کی بات کو سننا اور اس کے احکام و فرامین کی اطاعت کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے خواہ اس کا حکم و فرمان طبیعت و پسند کے موافق ہو یا غیر موافق ہو لیکن شرط یہ ہے کہ اس کا کوئی حکم شریعت کی حدود سے باہر نہ ہو ایسی صورت میں تو اس کی اطاعت و فرمانبرداری واجب نہیں ہوگی۔ یہاں مسلمانوں کے لیے مسلم حکمرانوں کی اطاعت کی حدود واضح کردی گئی ہیں۔ مسلم حکمرانوں کی عزت اسی میں ہے کہ وہ اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکموں سے انحراف نہ کریں ورنہ آخرت کے عذاب کے علاوہ دنیاوی ذلت سے بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ تاریخی طور پر اور آج کل کے حالات سے اس بات کا مشاہدہ ہر ذی شعور انسان بخوبی کرسکتا ہے۔ کہیں کل کے امیر آج کے اسیر ہیں اور کہیں اپنی ہی سر زمین اس کے لیے تنگ کردی گئی ہے۔

شریعت اسلام کے مطابق حکمران لوگوں پر اقتدار اعلٰی نہیں رکھتا۔ اوہ ایک نمائندہ کارکن ہے جسے لوگوں نے منتخب کیا ہے اور اس کے اختیارات کا سرچشمہ اللہ تعالٰی کے قانون کی اطاعت ہے۔ وہ قانون جو حکمران اور رعایا دونوں پر یکساں عائد ہوتا ہے اور ایک سنجیدہ باوقار عہد(جسے آج کل الیکشن کہتے ہیں) سے اس کی تکمیل ہوتی ہے۔ جس پر اللہ تعالٰی خود شاہد ہے۔ وہ حکمران جو لوگوں کے ذریعے منتخب ہوکر اللہ تعالٰی کے احکام کے مطابق حکومت کرنے آتے ہیں۔ لوگوں کی اطاعت اور حمایت کے مستحق اس وقت تک ہیں جب تک وہ خود اللہ تعالٰی کے احکام کے پابند رہیں۔ اگر عوام ایسے حکمرانون کو اپنی حمایت اور تعاون پیش نہ کرے تو ان کا یہ فعل انتظامیہ کے خلاف غیر ذمہ دارانہ قانونی خلاف ورزی شمار ہوگی اور اللہ تعالٰی کی نافرمانی بھی۔ اسی طرح اگر حکمراں اللہ تعالٰی کے متعین کردہ راستہ سے ہٹ جاتے ہیں یا اس کے قانون کی پابندی نہیں کرتے تو یہ بھی نہ صرف عوام کے ساتھ ہی خلاف ورزی اور بد عہدی ہے بلکہ وہ عوام کی حمایت اور وفاداری کا حق کھو دیتے ہیں۔

اس بات کو قرآن کریم اس پیرئے میں بیان کیا گیا ہے:۔ ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں۔ پھراگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھیردو۔ اگر تم واقعی اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی ایک صحیح طریق کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے”۔ (النساء ۔ 59)۔

یہاں بات وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی ہے کہ امراء و حکام کی اطاعت اگرچہ ضروری ہے لیکن وہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے ساتھ پابند ہے۔ کیونکہ گناہ میں اطاعت نہیں۔ اطاعت صرف معروف اور نیکی میں جیسا کہ ایک روایت میں اس طرح آتا ہے۔ کسی بھی ایسے حکم کی اطاعت و فرمانبرداری جائز نہیں ہے۔ جس کا تعلق گناہ سے ہو(خواہ وہ حکم امیروحاکم کی طرف ہو یا ماں باپ اور استاد کی طرف سے) اطاعت و فرمانبرداری تو صرف اچھے حکم میں واجب ہے۔ (بحوالہ بخاری و مسلم)۔

لہٰذا اولی الامر حکمران یا متخب نمائندوں کی اطاعت اسی وقت تک ہوگی۔ جب وہ خود اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک فیصلہ کن بیان میں فرمایا تھا کہ کسی ایسے انسان کی وفاداری اور اطاعت کسی پر فرض نہیں ہوتی جو خود اللہ تعالٰی کی اطاعت نہیں کرتا اور خود کو اس کے قانون کا پابند نہیں بناتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی جانشین اس اصول کو بہت واضح طور سمجھتے تھے اور انہوں نے اپنی پالیسی کے بارے میں پہلے ہی بیان میں صاف طور پر اعلان کردیا تھا کہ ان کی اطاعت اور حمایت لوگوں پر اس وقت تک فرض ہے جب تک کہ وہ خود اللہ تعالٰی کی اطاعت میں سرگرم رہیں اور اگر وہ اللہ تعالٰی کی بتائی ہوئی راہ سے ہٹ جائیں تو انہیں اللہ تعالٰی کے بندوں سے اطاعت کرنے کا کوئی حق نہ رہے گا۔

لہٰذا قرآن پاک کی واضح آیتوں اور ان احادیث کی روشنی میں اب ان حکمرانوں کا فرض ہے جن کو لوگوں نے منتخب کیا ہے وہ اس منصب کو ایک اہم اور ذمہ داری کا منصب جانتے ہوئے انتہائی عدل و انصاف کے ساتھ اپنے ملک کے لوگوں کی بلا تفریق خیر خواہی و فلاح کے اقدامات کریں۔ اور اپنا منشور قرآن و سنت کو بنائیں۔




Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.