حضرت معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:۔”جس کے لیے اللہ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین میں تفقہ (سمجھ) عطا فرماتا ہے۔ اور میں تو (علم کو) تقسیم کرنے والا ہوں عطا کرنے والا تو اللہ ہی ہے”۔
(بخاری و مسلم)
فائدہ:۔
انسانی زندگی میں علم کی بڑی اہمیت ہے۔ علم ہی درحقیقت انسان کے اخلاق و کردار کی اصل بنیاد ہے۔ انسان کی کامیابی کا انحصار اصل میں اس بات پر ہے کہ اسے حقیقت کا علم حاصل ہو۔ جس کے مطابق وہ اپنی زندگی کو ڈھال سکے۔ اگر اسے اس بات کا علم ہی نہ ہو کہ اسے یہ زندگی کس نے عطا کی ہے اور اس زندگی کی اصل غرض و مقصد کیا ہے تو وہ کبھی بھی زندگی کی صحیح راہ پر چل نہیں سکتا اور نہ اپنے خالق کی مرضی پوری کرسکتا ہے۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہوگی جیسے کوئی گہری تاریکی میں بھٹک رہا ہو اور اسے اس کی بالکل خبر نہ ہو کہ وہ کہاں ہے اور اسے کس طرف جانا چاہیے۔ ایک مومن اور کافر میں اصل فرق علم و عمل ہی کا ہے۔ اس فرق کی بناء پر ان کی زندگیوں میں اور ان کے انجام میں ایک عظیم فرق پایا جاتا ہے۔ مومن کو دنیا میں بھی حیات طیبہ حاصل ہوتی ہے اور آخرت میں بھی وہ اللہ تعالٰی کی رضا اور اس کے دائمی جنت کا مستحق قرار پائے گا اور کافر کے حصہ میں صرف اللہ تعالٰی کی ناراضگی ہی آئے گی اور ہمیشہ کے لیے اس کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید اور احادیث میں علم و فہم کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ ارشاد باری تعالٰی ہے:۔
”بتاؤ تو علم والے اور بے علم کیا برابر ہیں؟”۔ (الزمر۔9)۔
موضوع بحث حدیث سے اور مندرجہ بالا قرآنی آیت سے علم اور عالم کی فضیلت کا اظہار ہوتا ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالٰی خیر و بھلائی کے راستہ پر لگانا چاہتا ہے۔ اسے علم کی دولت عنایت فرماتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے کہ وہ کسی شخص کو دینی امور یعنی احکام شریعت اور راہ طریقت و حقیقت کی سمجھ عنایت فرمادے جو ہدایت و راستی اور خیروبھلائی کی سب سے بڑی شاہراہ ہے۔
”دین میں تفقہ” سے مراد وہ فہم و بصیرت ہے جس کے سبب انسان پر دین کے حقائق روشن ہوتے ہیں۔ اسے دین کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ احکام دین کی غرض و غایت اور منشا کو وہ پالیتا ہے۔ وہ اندھا دھند مقلد نہیں رہتا بلکہ فہم و شعور کے ساتھ وہ اپنی زندگی میں اللہ تعالٰی کے احکام کی پیروی کرتا ہے۔ اس پر یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ اللہ تعالٰی کی اطاعت و بندگی اور اس کے احکام کی پیروی ہی میں انسان کی فلاح وکامیابی ہے۔ اللہ تعالٰی کی بندگی و اطاعت کے بغیر انسان کی زندگی، زندگی کے مفہوم سے محروم رہتی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ وہ شخص بڑا ہی خوش قسمت ہے جسے اللہ تعالٰی نے فکروبصیرت اور تفقہ کی دولت سے نوازا ہو اس لیے کہ یہ چیز جملہ بھلائیوں کا سرچشمہ ہے۔
ایک اور جگہ باری تعالٰی کا ارشاد ہے:۔”جسے حکمت(دین کی سمجھ) عطا کی گئی اسے بہت بڑی دولت عطا کی گئی”۔ (البقرہ ۔ 269)۔
دین میں تفقہ اوراس کتاب یعنی قرآن مجید، جسے اللہ تعالٰی نے ہماری ہدایت و رہنمائی کے لیے نازل فرمایا ہے، میں بصیرت حاصل کرنا ہمار فرض ہے۔ اس کے بغیر ہماری ساری کوششیں پراگندہ و پریشان اور ہماری زندگی منتش اور بے ضابطہ ہی رہے گی۔ ہمارے اعتقادات کو کھوکھلا اور ہماری عبادات کو بے روح ہونے سے جو چیز بچا سکتی ہے وہ تفقہ فی الدین اور تدبر فی القرآن و السنہ ہی ہے۔ اس لیے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو اس کی بار بار تاکید فرمائی ہے کہ وہ دین میں بصیرت حاصل کریں اور اس کی تعلیمات اور اس کے احکام کو سمجھیں۔
حدیث کے دوسرے جزو کا مطلب یہ ہے کہ علم کا سرچشمہ حقیقی تو باری تعالٰی کی ذات ہے۔ میرا کام تو صرف یہ ہے کہ میں دینی مسائل اور شرعی احکام لوگوں تک پہنچا دوں اور حدیث بیان کردوں۔ اب آگے اللہ تعالٰی کی مرضی ہے وہ جسے جتنا چاہے ان پر عمل کرنے کی توفیق اور غور و فکر کی صلاحیت عنایت فرمائے۔ اللہ تعالٰی ہم سب مسلمانوں کو دین کی صحیح فہم و فراست اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
