مومن اور منافق کی زندگی کی مثال

حضرت کعب ابن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:۔ ”مومن کی مثال کھیت کی تروتازہ اور نرم شاخ کی سی ہے کہ جسے ہوائیں جھکا دیتی ہیں، کبھی اسے گرادیتی ہیں اور کبھی سیدھا کردیتی ہیں۔ یہاں تک کہ اس کا وقت پورا ہو جاتا ہے اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی سی ہے جو جما کھڑا رہتا ہے اسے کوئی جھٹکا نہیں لگتا (یعنی نہ تو وہ ہوا کے دباؤ سے گرتا ہے اور نہ جھکتا ہے) یہاں تک کہ وہ دفعتہّ زمین پر آگرتا ہے”۔
(بخاری و مسلم)

فائدہ:۔
اس حدیث مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن اور منافق کی زندگی کا فرق انتہائی دلکش مثال کے ذریعے واضح فرمایا ہے۔ اس حدیث میں مومن کی مثال تو کھیتی کی تروتازہ اور نرم شاخ سے دی جارہی ہے کہ جس طرح ہواؤں کے تھپیڑے اس شاخ پر اثر انداز ہوتے رہتے ہیں اور کبھی وہ ہوائیں اس شاخ کو گرادیتی ہیں اور کبھی سیدھا کردیتی ہیں۔ لیکن وہ شاخ ہواؤں کے سخت و تند تھپیڑے کھا کھا کر بھی اپنی جگہ اپنے وقت کے آخری لمحہ تک کھڑی رہتی ہے۔ اس طرح مومن کا حال بھی یہی ہے کہ کبھی تو اسے مصائب و مشکلات اور ضعف و بیماری کے سخت تھپیڑے گرادیتے ہیں۔ کبھی صحت و تندرستی اور خوشی و مسرت کے جانفزا جھونکے ان کی زندگی میں بشاشت و انبساط کی زندگی پیدا کردیتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنی زندگی کے دن پورے کرتا رہتا ہے۔

یہاں منافق کی مثال صنوبر کے درخت سے دی گئی ہے کہ جس طرح صنوبر کا درخت بظاہر ایک جگہ کھڑا رہتا ہے اور اس پر ہوا کا دباؤ اثرانداز نہیں ہوتا مگر جب اس کا وقت آتا ہے تو وہ یکبارگی زمین پر آگرتا ہے۔ بالکل اس طرح منافق کا حال ہے کہ وہ دنیاوی زندگی میں بظاہر خوش و خرم اور ہشاش بشاش نظر آتا ہے۔ نہ اس پر مصائب و مشکلات کی بارش ہوتی ہے اور نہ بیماری و ضعف کے تھپیڑے اس پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ یکبارگی بغیر کسی بیماری و ضعف کے موت کی وادی میں گر جاتا ہے۔

حدیث کا حاصل یہ ہوا کہ مومن و مسلمان کی زندگی مصائب و مشکلات اور تکلیف و پریشانی میں گزرتی ہے۔ کبھی وہ بیماری و ضعف کے جال میں پھنسا رہتا ہے۔ کبھی اسے مال و زر کی کمی اپنے لپیٹ میں لیتی ہے۔ کبھی دوسرے دنیاوی حوادث و آلام اس کی روشن زندگی پر سیاہ بادل بن کر چھا جاتے ہیں۔ مگر مومن و مسلمان اسی حالت میں جئے جاتاہے اور یہ تمام چیزیں اس کے حق میں اخروی سعادت و خوش بختی کی علامت قرار دی جاتی ہیں۔ بشرطیکہ صبر و رضا اور شکر کا دامن کسی مرحلے پر ہاتھ سے نہ چھوٹے۔

اس کے مقابلہ میں منافق و فاسق کی زندگی ایسی ہوتی ہے جس پر نہ تو زیادہ تر غم و آلام کا سایہ ہوتا ہے نہ بیماری و پریشانی کے سیاہ بادل اور نہ دوسری دنیاوی ذلت و ناکامرانی اور مصیبت و پریشانی کا چکر۔ بلکہ وہ بظاہر تندرست و توانا اور خوش و خرم رہتا ہے۔ اس طرح نہ اسے وہ درجہ ملتا ہے جو مصائب و پریشانی کے کفارہ کے طور پر مومن و مسلمان کو حاصل ہوتا ہے اور نہ اس وہ ثواب و سعادت میسر آتی ہے جو مصائب و پریشانی میں مبتلا ہوکر مومن و مسلمان کی اخروی کامیابی و فلاح کا ضامن بنتی ہے۔




Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.