حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:۔”چھوٹا بڑے کو سلام کیا کرے، اور راستہ سے گزرنے اور چلنے والا بیٹھے ہوؤں کو سلام کیا کرے اور تھوڑے آدمی زیادہ آدمیوں کی جماعت کو سلام کیا کریں”۔
(بخاری و مسلم)
فائدہ:۔
سلام ایک ایسی عظیم عبادت ہے جو جھگڑوں کو ختم کردیتی ہے۔ کیونکہ اگر باہم دشمنیاں بھی ہوں، عداوتیں بھی ہوں اور دشمن آپ کو سلام کرے تو دشمنیاں ڈھیلی پڑ جائیں گی۔ کیونکہ آپ سلام کرنے والے کو وعلیکم السلام کہنے پر مجبور ہوں گے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے لیے سلامتی ہو۔ جب سلامتی کی دعا کوئی دے گا تو جھگڑا کیوں کرے گا؟ اس لیے احادیث مبارکہ میں سلام کو پھیلانے کی نہایت تاکید فرمائی گئی ہے۔
ایک حدیث میں اس طرح آتا ہے کہ:۔ ”تم جنت میں نہیں جا سکتے جب تک کہ پورے مومن نہ ہو جاؤ ( یعنی تمہاری پوری زندگی ایمان والی نہ ہو جائے) اور یہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ تم میں آپس میں محبت نہ ہو جائے۔ کیا میں تہمہیں وہ طریقہ نہ بتا دوں جس کے کرنے سے تمہارے درمیان پیار و محبت پیدا ہو جائے (وہ یہ ہے کہ) سلام کو آپس میں خوب پھیلاؤ۔ (بحوالہ مسلم)۔
یہا سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آسان اور عملی تدبیر کا ذکر فرمایا ہے اور وہ یہ کہ اگر مومن اپنے معاشرے میں ایک دوسرے سے بیگانہ بن کر نہ رہیں بلکہ جب وہ آپس میں ملیں تو ایک دوسرے کو سلام کیا کریں اور ان کا یہ سلام محض رسمی بن کر نہ رہے بلکہ اس کے پیچھے صحیح جذبہ اور صحیح فکروشعور کارفرما ہو۔ وہ سلام کرکے دل سے اس بات کا اظہار کررہے ہوں کہ وہ دنیا اور آخرت میں ایک دوسرے کی سلامتی اور بھلائی اور کامیابی کی خواہش رکھتے ہیں۔ بےشک اس میں شبہ نہیں کہ سلام کے اسلامی طریقہ کو اگر سماج میں رواج دیا جائے تو لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے احترام و محبت کا جذبہ ابھر سکتا ہے۔
اس حدیث میں ایک دوسرے کو باہمی سلام کرنے کے بارے میں آداب کا ذکر ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا ہے کہ کم عمر والا بڑی عمر والے کو پہلے سلام کرے۔ اس سے بڑے کی عزٹ و توقیر مقصود ہے اور آنے والے کو حکم ہے کہ بیٹھے ہوئے کو سلام کرے۔ اس کی حکمت و علت یہ معلوم ہوتی ہے کہ آنے والے سے ضرر و نقصان کا اندیشہ ہوسکتا ہے۔ مگر جب وہ پہلے سلام کرےگا تو گویا خطرہ کا اندیشہ ختم ہوگیا اور اس طرح کم تعداد، زیادہ تعداد والوں کو سلام کیا کریں اس میں کثرت کو قلت پر فوقیت اور افضلیت کی طرف اشارہ ہے۔ گویا اسلام نے مرتبوں کا خیال رکھنے کا اہلِ اسلام کو سبق دیا ہے۔ جس پر اس امت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر حالت میں عمل پیرا ہونا چاہیے۔
اسی طرح ایک اور حدیث مبارکہ میں اس طرح آتا ہے جو شخص سواری پر ہو وہ پیدل چلنے والے کو سلام کرے۔ پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کرے اور تھوڑے آدمی زیادہ آدمیوں کی جماعت کو سلام کیا کریں۔ (بحوالہ بخاری و مسلم)۔
اس حدیث میں پہلے کی حدیث میں بیان کردہ آداب کے ساتھ یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ سوار پیدل چلنے والوں کو سلام کیا کریں۔ اس ہدایت کی یہ حکمت ظاہر ہے کہ سوار کو بظاہر دنیاوی بلندی اور بڑائی حاصل ہے اور سواری پر بیٹھا انسان ذرا بڑائی کے زعم اور تکبر میں مبتلا ہو جایا کرتا ہے۔ اس لیے ازالہ کے لیے حکم فرمایا کہ سوار پہلے سلام کرکے اپنی بڑائی کی نفی اور اپنی تواضع اور محبت کا اظہار کرے۔
ایک اور حدیث میں اس طرح آتا ہے کہ سلام کرنے کی عادت عام کرو۔ (بحوالہ ترمذی)۔
یعنی ایک دوسرے کو سلام کرو خواہ تعارف ہو یا نہ ہو۔ لیکن آج کل ہمارے معاشرے کا یہ حال ہے کہ جب تک تیسرا آدمی تعارف نہ کرائے نہ بول، نہ چال نہ سلام نہ کلام، یہ متکبرانہ تمدن ہے۔ یہ اسلام کا تمدن نہیں ہے کہ کوئی تیسرا تعارف کرائے۔ خود سلام ہی ہمارا تعارف ہے۔ دو حقیقی بھائی اتنے قریب نہیں ہوتے جتنا دینی رشتے کی وجہ سے دو مسلمان قریب ہوتے ہیں۔ یہاں ایک اور بات بھی قابل غور ہے کہ اکثر تعارف کرانے میں یہ دیکھا گیا ہے کہ اگر کوئی امیر آدمی ہے تو اس کا تعارف کرا دیا جاتا ہے لیکن اگر کوئی غریب آدمی آئے تو اس کا تعارف نہیں کرایا جاتا۔ گویا آپ کا سلام بڑے آدمی کو تو ہوگا لیکن چھوٹے کو نہیں۔ یہ خود ایک تکبر ہے کہ چھوٹوں کو مونہہ نہ لگایا جائے اور بڑوں کے سامنے جھکا جائے۔ سلام کے آداب میں یہ بھی ہے کہ جب دو آدمی آپس میں ملیں تو یہ انتظار نہ کریں کہ دوسرا مجھے سلام کرے۔ کوشش کریں کہ میں پہلے سلام کروں یہ زیادہ افضل ہے نہ کہ انتظار کرے۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال پر یقین و عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
