حضرت ابو کبشہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔”اس امت کی مثال ان چار آدمیوں کی طرح ہے جن میں سے ایک کو اللہ نے مال اور علم عطا کیا ہو تو وہ اپنے علم پر عمل کرتا ہو اور اپنے مال کو حق کے مطابق خرچ کرتا ہو۔ دوسرا وہ آدمی جسے اللہ نے علم دیا ہو اور مال نہ دیا ہو اور وہ یہ کہتا ہو اگر میرے پاس بھی اسی طرح مال ہوتا تو میں بھی اسے اسی طرح خرچ کرتا”۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:۔ ”دونوں ثواب میں برابر ہیں۔ تیسرا آدمی وہ ہے جسے اللہ نے مال تو دیا ہو لیکن علم نہ دیا ہو اور وہ اسے ناحق خرچ کرتا ہو اور چوتھا وہ آدمی ہے جسے اللہ نے نہ علم دیا نہ مال اور وہ یہ کہتا ہو کہ اگر میرے پاس بھی مال ہوتا تو میں بھی اسی طرح (عیاشی) میں خرچ کرتا تو یہ دونوں گناہ میں برابر ہیں”۔
(ابن ماجہ)
فائدہ:۔
نیت، ارادہ اور قصد ہم معنی الفاظ ہیں اور یہ دل کی ایک صفت ہے۔ یہ ایک چھپی ہوئی چیز ہے اور اللہ کے سوا اس پر کوئی واقف نہیں۔ بخلاف عمل کے جو ظاہر ہوتا ہے اور پوشیدہ عمل کو فضیلت حاصل ہوتی ہے۔ انسان کے عمل میں اس کی نیت کو بہت دخل ہے بلکہ عمل کے قبول یا رد ہونے میں نیت ہی معیار ہے۔
ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ بندہ نیک اعمال کیا کرتا ہے اور ان کو فرشتے صحیفوں میں لے کر اوپر چڑھتے ہیں اور اللہ کے سامنے رکھے جاتے ہیں۔ اور اللہ رب العزت ان اعمال کو قبول نہیں فرماتے اس لیے کہ کرنے والے نے اس اللہ تعالٰی کی نیت نہیں کی تھی۔ پھر اللہ اس شخص کے واسطے کچھ اور اعمال کا اجر لکھواتا ہے جبکہ اس شخص نے وہ عمل نہیں کیے ہوتے۔ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں کہ اس نے ان کاموں کی نیت کی تھی مندرجہ بالا حدیث میں بھی محض نیت کے باعث عمل کی خوبیوں اور برائیوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شریک فرمایا۔
بعض صالحین کا قول ہے کہ اکثر کام چھوٹے ہوتے ہیں۔ نیت ان کو بڑا کردیتی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا کہ عمل سے پہلے نیت عمل کو تلاش کرنا چاہیے اور جب تک خیر کی نیت کروگے خیر میں رہو گے۔ جب تک نیکی اور بھلائی ہو سکے کیا کرو اور جب عمل سے تھک جاؤ یا اس کو چھوڑ بیٹھو تو دل سے اس کا ارادہ کرو اس لیے کہ جو عمل خیر کا ارادہ کرتا ہے وہ ایسا ہی ہوتا ہے کہ گویا خیر کرتا ہے۔ البتہ اگر کوئی یہ سمجھ بیٹھے کہ گناہ بھی نیت کے سبب نیکی بن جاتا ہے تو یہ محض غلطی ہے بلکہ شرع کے خلاف ہونے سے یہ خود ایک گناہ ہوگا۔ شریعت جہاں حسن نیت پر اجر دیتی ہے وہیں وہ شرط بھی باندھتی ہے کہ عمل بھی شریعت کے مطابق ہو۔
نیت سے جڑا ہو مسئلہ اخلاص ہے۔ جو چیز کسی دوسرے چیز کی ملاوٹ سے پاک ہو تو اسے خالص کہتے ہیں۔ اور کسی چیز کو ملاوٹ سے پاک کرنے کو اخلاص یعنی خالص کرنا کہتے ہیں۔ شریعت میں اخلاص اس کو کہتے ہیں کہ نیت صرف رضائے الٰہی ہو اور تمام ملاوٹوں سے پاک ہے۔ نیت کی طرح اخلاص بھی دل کا فعل ہے۔ اور صرف اللہ رب العزت ہی اس آگاہ ہوتاہے۔ اخلاص کے ضد شرک ہے۔ جو مخلص نہیں وہ مشرک ہے۔ چنانچہ سورہ کہف کی آیت نمبر ایک سو دس میں ارشاد ہوتا ہے:۔
”سو جو کوئی اپنے رب سے ملنے کی آرزو رکھتا ہے تو اسے چاہیے کہ نیک کام کرتا رہے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے”۔
حسن نیت اور اخلاص وہ دو چیزیں ہیں کہ اگر انسان ان دونوں کے ساتھ اپنی زندگی اور اپنے اعمال کو جوڑ دے تو اس کا ہر ہر عمل اس کے لیے باعث اجر ثواب بن جائے گا۔ زندہ رہنے کے لیے کھانا ہر انسان کی ضرورت ہے لیکن بندہ مومن صرف پیٹ بھرنے کے لیے نہ کھائے بلکہ اس نظر سے کہ اس سے اللہ تعالٰی کی عبادت کے لیے طاقت حاصل ہوگی تو یہی کھانا اس کے لیے باعث اجرو ثواب بن جات اہے۔ اسی طرح سونا بھی عبادت ہے اگر اس نیت سے سویا جائے کہ آئندہ کی عبادت کے لیے قوت اور راحت ہو جائے۔ اب یہ سونا اس کو مخلصوں کا درجہ دلائے گا۔ اس کے برخلاف وہ عمل جو سراسر نیکی ہو۔ مثلاّ علم دین پڑھنا پڑھانا۔ لیکن انسان کی نیت اس سے رضائے الٰہی نہ ہو تو وہی عمل وبال جان ہے۔ اللہ ہم سب کو اپنے اعمال میں حسن نیت اور اخلاص کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
