دعائے قنوت

حضرت عبید بن زرقی رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ جنگ احد کے موقع پر جب مشرکین کو شکست ہوئی اور (وہ واپس ہونے لگے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔ ”صفیں درست کرلو تاکہ میں اپنے پروردگار کی حمدوثناء کروں۔” چنانچہ(صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں باندھ کر کھڑے ہو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات کہے۔ ”اے اللہ ساری تعریف آپ ہی کے لیے ہے۔ اے اللہ جس چیز کو آپ کشادہ کردیں کوئی اس کو تنگ کرنے والا نہیں اور جس چیز کو آپ تنگ کردیں کوئی اس کو وسیع کرنے والا نہیں۔ اے اللہ جس کو آپ راہ راست سے ہٹا دیں کوئی اس کو ہدایت دینے والا نہیں۔ اور جس کو آپ نے ہدایت یافتہ کیا کوئی اس کو گمراہ کرنے والا نہیں۔ اور جس چیز کو آپ نے روک دیا کوئی اس کو دینے والا نہیں۔ اور جس چیز کو آپ نے عطا کیا کوئی اس کو روکنے والا نہیں۔ اور جس چیز کو آپ نے دور کردیا کوئی اس کو قریب کرنے والا نہیں۔ اور جس چیز کو آپ نے قریب کردیا کوئی اس کو دور کرنے والا نہیں۔ اے اللہ ہم پر اپنی برکتوں کو اور اپنی رحمت کو اور اپنے فضل اور اپنے رزق کو وسیع کردیجیے۔ اے اللہ میں آپ سے ایسی دائمی نعمت کا سوال کرتا ہوں جو نہ متغیر(تبدیل) ہو نہ کبھی زائل (ختم) ہو۔ اے اللہ فقر(وفاقے) کے دن آپ سے نعمت اور خوف(وپریشانی) کے دن امن(وامان) کا سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ آپ نے جو کچھ عطا کیا ہے اس کے شر سے اور جس چیز کو نہیں دیا ہے اس کے شر سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں۔ اے اللہ ہمارے لیے ایمان کو محبوب بنا دیجیے۔ اور اس کو ہمارے دلوں میں پسندیدہ کردیجیے۔ اور کفروفسق اور گناہ کو ہمارے نزدیک ناگوار کردیجیے اور ہمیں رشدوہدایت پانے والوں میں سے بنا دیجیے۔ اے اللہ حالت ایمان پر ہمیں دنیا سے اٹھایئے اور اسلام کے ساتھ زندہ رکھیے۔ اور رسوائی اور فتنے میں مبتلا کیے بغیر صالحین سے ملا دیجیے۔ اے اللہ ان کافروں کو ہلاک کردیجیے جو آپ کے پیغمبروں کو جھٹلاتے ہیں۔ اور آپ کے راستے سے روکتے ہیں۔ اور ان پر اپنا قہر و عذاب نازل کیجیے۔ اے اللہ ان کافروں کو برباد کیجیے جو اہل کتاب میں ہیں۔(یعنی یہودونصارٰی)۔ اے معبود حقیقی (ہماری التجائیں سن لے)”۔
(بخاری الادب المفرد۔مسند احمد)

فائدہ:۔
لفظ قنوت کے کئی معنی ہیں۔ اطاعت کرنا، نماز میں کھڑا ہونا، اللہ تعالٰی کے سامنے خاکساری کرنا۔ اسی طرح دعاکو بھی قنوت کہتے ہیں۔ ایک خاص دعا کو بھی قنوت کہتے ہیں۔

خدانخواستہ مسلمان سخت حالات میں گھرے ہوں اور دشمن کا خوف اور دہشت غالب ہو تو نمازوں میں قنوت نازل پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے کہ یہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین نے سخت حالات میں قنوت نازلہ کا خصوصیت کے ساتھ اہتمام کیا۔ لہٰذا مسلمانوں کو یہ چاہیے کہ آج جب کہ ملت اسلامیہ پر سخت اور مشکل ترین حالات ہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت پر عمل کرتے ہوئے خود بھی اس کا اہتمام لازماّ کریں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں۔ اپنے پروردگار سے عافیت مانگیں جو کہ خیروشر کا مالک ہے۔ جو اپنے نیک بندوں کے لیے رحمٰن و رحیم ہے اور اپنے نافرمان بندوں پر جبار قہار بھی ہے۔

دعا مومن کا ہتھیار ہے اور دعا ہی وہ چیز جو تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ لہٰذا مومن کو چاہیے کہ ہر حالت میں اللہ تعالٰی کے حضور اپنی تمام حاجتوں کو رکھے اور جب کوئی مشکل گھڑی آئے تو اللہ عزوجل سے اس اعتماد و یقین اور ایمان کے ساتھ مانگے کہ اللہ کریم ضرور دعاؤں کو سنے گا۔ اور ضرور بالضرور عطا فرمائے گا۔ جیسا کہ ایک روایت میں اس طرح آتا ہے۔ رحمت خداوندی کی وسعت کو سامنے رکھ کر دل کو اس بات پر جماؤ کہ میری دعائیں ضرور قبول ہوں گی۔ اور دل ہی دل میں اپنے گناہوں اور شامت اعمال سے ڈرتے رہو کہیں یہ گناہ قبولیت دعا میں آڑے نہ آجائیں۔ یہ ہی روح دعا ہے۔

اللہ تعالٰی ہی بے کس کی پکار سنتا ہے اور اس کی سختی دور کرتا ہے۔ دنیا کے تمام سہاروں سے مایوس اور تعلقات سے کٹ کر اور صرف اللہ تعالٰی کو واحد کارساز سمجھ کر دعا کرنا ہی وہ سرمایہ اخلاص ہے جو اللہ تعالٰی کی رحمت کو فوراّ متوجہ کرتا ہے۔

خود قرآن پاک میں مفسدوں اور ظالموں سے نجات مانگنے کے لیے دعا کی تعلیم دی گئی ہے:۔ ”اے میرے رب مفسدوں کے مقابلے میں میری مدد فرما”۔ (العنکبوت 30)۔




Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.