حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔”جس سے مشورہ لیا جائے اس کے لیے ضروری ہے کہ امانت کو ملحوظ رکھے اور راز فاش نہ کرے”۔
(ترمذی)
فائدہ:۔
زندگی میں بےشمار موقعے ایسے آتے ہیں جب انسان کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اپنی سوچ اور سمجھ سے کسی فیصلے پر پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔ دین مبین نے اس سلسلے میں رہنمائی فرمائی ہے۔ اور انسان کع دو ہدایتیں دی ہیں۔ مشورہ اور استخارہ۔ قرآن پاک میں اللہ تعالٰی نے مسلمانوں کی ایک شان بتائی ہے کہ:۔ ”ان کا ہر کام آپس کے مشورے سے طے ہوتا ہے”۔ (شوریٰ 38)۔
اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالٰی نے حکم فرمایا:۔ ”اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم)! ان صحابہ سے مشورہ کیا کریں اور جب آپ (مشورے کے بعد) کسی کام کا عزم کر لیں تو پھر اللہ پر توکل کیجیے۔ (آل عمران 159)۔
مشورے سے کسی کام کی مضبوطی اور پختگی معلوم ہو جاتی ہے۔ کیونکہ مشورے سے سب کی رائیں جمع ہو جاتی ہیں۔ اس لیے اس کام کی پوری حقیقت سامنے آجاتی ہے۔ مشورے میں جلد بازی کا انسداد ہے اور یہ ان کاموں میں ہے جن میں دیر کی گنجائش ہے اور دین کا فائدہ بھی ہے کہ شریعت میں اس کی فضیلت آئی ہے۔
خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ جن امور میں وحی نازل نہ ہوئی ہوتی ان میں اپنے صحابہ کرام سے مشورہ فرماتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بد کے موقع پر صحابہ سے مشورہ فرمایا اور اس پر عمل کیا۔ جنگ احد کے موقع پر بھی آپ نے مشورہ کیا اور آیا مدینے میں رہ کر کفار کا مقابلہ کیا جائے یا باہر نکل کر۔ جنگ خندق کے موقع پر خندق کھودنے کا کام حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مشورے پر کیا گیا۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے مشورے پر عمل فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہم سب کا یہ معمول تھا کہ اپنے اصحاب سے مشورہ فرماتے تھے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فرمان ہے کہ ایم کے بعد سب سے بڑی عقلمندی لوگوں سے محبت ہے اور آدمی مشورے سے بے نیاز نہیں ہو سکتا (بیہقی)۔ ایک فرمان میں یوں آتا ہے کہ ”مشورہ کرنا ندامت سے محفوظ رہنے کا ایک قلعہ ہے اور دوسروں کی ملامت سے بچنے کی ایک پناہ گاہ ہے”۔
اس سلسلے میں ایک اہم بات جو ذہن میں رہنی چاہیے کہ مشورے پر اسی وقت بھروسہ کی جا سکتا ہے جب مشورہ والوں میں باہم محبت و اتفاق ہو۔ بعض اوقات مشورہ خفیہ ہونے ہی میں مصلحت ہے۔ مشورے کے چند آداب ہیں۔ پہلا یہ کہ مشورہ ان معاملات میں کیا جاتا ہے جن کی کوئی اہمیت ہوتی ہے۔ معمولی کاموں میں مشورہ نہیں ہوتا۔ دوسرا یہ کہ جس سے مشورہ کیا جائے اس کو اس معاملے کی پوری سمجھ حاصل ہو۔ یعنی جس سے مشورہ کیا جائے وہ اس کا اہل ہو۔ تیسرا یہ کہ مشورہ دینا ایک امانت ہے۔ یعنی مشورہ دینے والا پوری دیانت داری کے ساتھ مشورہ دے اور یہ خیال نہ کرے کہ شاید میری بات سے مشورہ لینے والا ناراض ہو جائے گا۔ ایسے موقع پر ضرورتاّ غیبت بھی جائز ہے۔ مثلاّ اگر کسی کے رشتے کے سلسلے میں مشورہ ہے تو جو کچھ حقیقت معلوم ہو بتا دینا غیبت کے دائرے میں نہیں آتا۔ چوتھا یہ کہ جس سے مشورہ کیا جائے وہ ایک ہمراز ہے اور اب اس کے ذمے ہے کہ اس راز کو کسی پر ظاہر نہ کرے اس کے خلاف کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ بعض اوقات اپنے سے چھوٹے کا مشورہ بھی اہم اور فائدہ مند ہوتا ہے۔ اس سب کے علاوہ ایک اہم بات یہ ذہن میں رکھنی چاہیے اور یہ مشورہ دینے والے کے حوالے سے ہے کہ مشورے پر عمل کرنا ضروری نہیں۔ یہ مشورہ لینے والے کا اختیار ہے کہ وہ چاہے عمل کرے چاہے نہ کرے اور مشورہ دینے والے کو اس پر ناراض نہیں ہونا چاہیے۔ بعض صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشورے کے بعد خود اپنی رائے پر عمل کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کوئی برا نہیں مانا۔ پھر اب کس کا منہ ہے کہ وہ برا مانے۔
