مہمان کا اکرام

حضرت ابو شریح خویلد بن عمرو خزاعی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ:”جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے تو اسے مہمان کی عزت کرتے ہوئے اس کا حق ادا کرنا چاہیے۔ صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم نے عرض کیا۔ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔ ایک دن اور رات (یعنی اس میں اپنی استطاعت کے مطابق بہتر کھانا تیار کرے) اور مہمان نوازی تین دن ہے۔ پس جو اس کے علاوہ ہو۔ وہ صدقہ ہے”۔
(بخاری و مسلم)

فائدہ:۔
دنیائے اخلاق و اخلاص میں مہمانی و میزبانی کا خاص اہمیت حاصل ہے۔ مہمان کی عزت اور مناسب خاطرداری بھی ایمان کے شعبوں میں سے ایک اہم شعبہ ہے۔ اس حدیث مبارک سے بھی اس کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ اس عمل سے باہمی محبت و الفت میں اضافہ ہوتا ہے۔ تعلقات و روابط کو استحکام نصیب ہوتا ہے۔ مہمان کے اکرام کا مطلب یہ ہے کہ اس کا خوش اخلاقی کے ساتھ خیر مقدم کرنا چاہیے اور اس کو ہر ممکن آرام پہنچانے کی فکر کی جائے۔

آج مہمانی و میزبانی ہو یا شادی و نکاح ہو۔ احباب و اعزا کی محفلیں ہوں یا رشتے داروں یا قرابت داروں کا اجتماع ہو، غرض یہ کہ ہمارے معاشرے کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جو اسلامی اقدار سے کھلی بے نیازی اور تعلیمات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی خلاف ورزی کا بدترین نمونہ نہ بن چکا ہو۔ لہٰذا رحمت کو زحمت سے اور محبت کو نفرت سے بچانے کے لیے مہمان و میزبان کے جو حقوق و فرائض احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بیان کیے گئے ہیں۔ ان کو اپنانے کی فکر کرنی چاہیے۔ تاکہ محبت میں اضافہ ہو اور اتباع سنت کا اجروثواب بھی حاصل ہو۔




Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.