|
صلح کرادینا
حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:”کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ روزہ، صدقہ اور نماز سے بھی درجہ میں افضل کیا چیز ہے؟” ہم نے عرض کیا کہ کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور بتائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”وہ ہے دو آدمیوں کے درمیان صلح کرانا اور دو آدمیوں کے درمیان فساد ڈالنا وہ فعل ہے جو (تمام نیکیوں کو) مونڈ دینے والا ہے”۔
(ترمذی و ابوداؤد)
فائدہ:۔
زندگی کے عملی میدان میں آدمی معیار مطلوب پر پورا اتر سکے تو یہ اس بات کی پہچان ہوگی کہ دین حق اس کا کردار بن چکا ہے۔ عملی زندگی میں جب تک وہ اپنے خدا پرست ہونے کا ثبوت نہیں دیتا، یہ نہیں کہا جا سکتا کہ دین اس کا کردار بن چکا ہے۔ ممکن ہے ایک شخص بظاہر نماز، روزہ اور دیگر عبادتوں کی پابندی کرتا ہو لیکن کردار و سیرت کے لحاظ سے وہ بھروسہ کے قابل نہ ہو۔ اسی لیے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ آدمی کے اچھے ہونے کے لیے یہ ضروری سمجھتے تھے کہ وہ اخلاق و کردار اور معاملات میں اچھا ثابت ہو۔ صرف کسی کی نماز کو دیکھ کر اس کے اچھے ہونے کا فیصلہ کرنے کو وہ صحیح نہیں سمجھتے تھے۔
اگر ایک شخص لوگوں کے درمیان اصلاح کے لیے کوشاں ہو تو اس کا یہ عمل اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ شخص اخلاق و کردار کا حامل ہے۔ اس اعتبار سے روزہ و نماز اور صدقہ وغیرہ کی عبادات کے مقابلہ میں اس کے اس عمل کو ایک امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ جبکہ نماز، روزہ اور صدقہ اس کے اصل فائدوں اور اس کی برکتوں کا تعلق خاص طور سے آدمی کی اپنی ذات سے ہوتا ہے جبکہ اصلاح اور فتنہ و فساد کی روک تھام کے خوشگوار نتائج سے پورا سماج فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک بات اور بھی ہے کہ اصلاح کے کام سے طاعات و عبادات کے لیے راہیں ہموار ہوتی ہیں اور اس کے ذریعہ سے ساری بدبختیاں دور ہو جاتی ہیں۔ دین میں اصلاح ذات البین یعنی ایک دوسرے میں صلح کرانے کی اہمیت اس قدر ہے کہ اس سلسلہ میں جھوٹ بولنے تک کی اجازت ہے۔ حدیث میں ہے:۔
”جھوٹ صرف تین مواقع پر جائز ہے۔ مرد کا اپنی بیوی کو راضی کرنے کی غرض سے جھوٹ بولنا۔ جنگ میں جھوٹ بولنا اور لوگوں کے درمیان صلح کرانے کی غرض سے جھوٹ بولنا”۔(ترمذی و احمد)۔
اگر دو مسلمانوں کے درمیان کوئی تنازعہ ہو تو ان کے درمیان صلح کرادینا نہایت اجروثواب کا کام ہے۔ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے۔
”(یاد رکھو!)۔ سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ پس اپنے دو بھائیوں میں صلح کرادیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے”۔(الحجرات۔10)۔
یعنی جب مسلمان سب آپس میں بھائی بھائی ہیں تو ان سب کی اصل ایمان ہوئی۔ اس لیے اس اصل کی اہمیت کا تقاضا ہے کہ ایک ہی دین پر ایمان رکھنے والے آپس میں نہ لڑیں بلکہ ایک دوسرے کے دست و بازو، ہمدرد و غمگسار اور مونس و خیرخواہ بن کر رہیں۔ اور کبھی غلط فہمی سے ان کے درمیان بغض اور نفرت پیدا ہو جائے تو اسے دور کرکے انہیں آپس میں دوبارہ جوڑ دیا جائے۔ اس غرض کے لیے دونوں کو ایک دوسرے کی ایسی باتیں پہنچانی چاہئیں جن سے ان کے درمیان آپس میں محبت پیدا ہو اور غلط فہمیاں دور ہوں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:”وہ شخص جھوٹا نہیں جو لوگوں کے درمیان مصالحت کرائے اور کوئی بھلائی کی بات دوسرے تک پہنچائے یا کوئی بھلائی کا کلمہ کہے”۔(بخاری و مسلم)۔
اس کے برعکس لوگوں کے درمیان بغض و عداوت پیدا کرنا ایک شیطانی عمل ہے اور ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کو کسی عمل سے اتنی خوشی نہیں ہوتی، جتنی دلوں میں پھوٹ ڈالنے سے ہوتی ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ وہ اپنا سب سے بڑا کارنامہ اس کو سمجھتا ہے کہ میاں بیوی میں تفرقہ ڈال دے۔ اس کے برخلاف اگر دو مسلمانوں کے درمیان، خاص طور سے میاں بیوی کے درمیان غلط فہمیاں دور کرکے ان کے تعلقات کو خوشگوار بنانے کی کوشش کی جائے تو یہ انتہائی ثواب کا کام ہے۔ یہ بات خاص طور سے ان لوگوں کی یاد رکھنی چاہیے جو ایک ساتھ رہتے ہیں۔ نیز ساس، بہو اور نند بھاوج کے درمیان ہمارے معاشرے میں جو تنازعات ہوتے ہیں۔ وہ عموماّ اسلام کی اس تعلیم کو نظر انداز کرنے سے ہوتے ہیں۔ اگر اس تعلیم پر عمل کیا جائے تو دنیا و آخرت دونوں سنور جائیں۔
|