حج کی فرضیت

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو خطبہ دیا اور فرمایا: ”لوگو! تم پر حج فرض کیا گیا ہے۔ لہٰذا حج کرو”۔ ایک آدمی نے پوچھا:۔”یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا ہر سال حج کریں”؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ حتٰی کہ صحابی نے تین مرتبہ یہ سوال کیا۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” اگرمیں ہاں کہہ دیتا تو تم پر ہر سال حج فرض ہو جاتا اور تم یہ نہ کرسکتے۔ پھر فرمایا جو چیز میں تم کو بتانا چھوڑ دوں اس بارے میں تم بھی مجھ سے سوال نہ کیا کرو۔ تم سے پہلے لوگ اپنے انبیاء سے زیادہ سوال کرنے اور ان سے اختلاف کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئے۔ لہٰذا جب میں تمہیں کسی بات کا علم دوں تو حسب استطاعت اس پرعمل کرو اور جب کسی چیز سے منع کروں تو رک جاؤ (یعنی سوال و جواب مت کرو)”۔
(مسلم)

فائدہ:۔
حج اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ جو لوگ حج کرنے کی قدرت رکھتے ہیں ان پر حج کرنا فرض ہے۔ حج کی فرضیت کا حکم نو ہجری میں آیا ہے۔ جب اللہ تعالٰی کا یہ حکم نازل ہوا:۔

”لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج ادا کرے”۔(آل عمران۔97)۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ہجری میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنھم کی ایک جماعت کے ساتھ اپنےوصال سے صرف تین مہینے قبل ادا کیا۔ یہ حج حجہ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔ اسی حج کے موقعہ پر عرفات کے میدان میں قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی:۔

”آج میں نے تمھارے لیے تمھارے دین کو مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور میں پسند کیا کہ تمھارا دین اسلام ہو”۔(المائدہ۔3)۔

حج اسلام کا آخری اور تکمیلی رکن ہے۔ بندے کو اگر صحیح حج نصیب ہو جائے تو گویا اسے سعادت کا اعلٰی مقام حاصل ہو گیا اور اسے ایسی نعمت حاصل ہو گئی جس سے بڑی نعمت کا تصور اس دنیا میں نہیں کیا جا سکتا۔

اللہ تعالٰی نے جب حج کی فرضیت کا فرمان نازل فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو امت پر نافذ کرنے کے لیے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ حج کریں۔ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے سامنے حج کی فرضیت بیان فرما رہے تھے اور انہیں حج کرنے کا حکم دے رہے تھے تو ایک صحابی اقرع بن حابس رضی اللہ تعالٰی عنہ دریافت کر بیٹھے کہ کیا حج ہر سال کیا جائے گا؟ وہ یہ سمجھے کہ جس طرح دیگر عبادتیں یعنی نماز، روزہ اور زکٰوہ ادا کی جاتی ہیں اسی طرح حج بھی مقرر ہوگا۔ یہ صحابی ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا۔ ان کو تعلیم و تربیت حاصل کرنے کا ابھی پورا موقع نہیں ملا تھا اسی لیے ان سے یہ لغزش ہوگئی کہ ایسا سوال کر بیٹھے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا کہ ”اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا” اس کا منشا اور مطلب یہ ہے کہ سوال کرنے والے کو سوچنا اور سمجھنا چاہیے تھا کہ میں نے حج کے فرض ہونے کا جو حکم سنایا تھا اس کا تقاضا اور مطالبہ عمر بھر میں بس ایک حج کا تھا۔ اس کے بعد ایسا سوال کرنے کا نتیجہ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ اگر میں ہاں کہہ دیتا (اور ظاہر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہاں جب ہی کہتے جب اللہ تعالٰی کا حکم ہوتا) تو ہر سال حج کرنا فرض ہو جاتا۔ اور امت سخت مشکل میں پڑ جاتی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگلی امتوں کے بہت سے لوگ کثرت سوال اور قیل و قال کی اس بری عادت کی وجہ سے تباہ ہوئے۔ انہوں نے اپنے نبیوں سے سوال کر کر کے شرعی پابندیوں میں اضافہ کرایا اور پھر اس کے مطابق عمل نہ کرسکے۔ حدیث کے آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑی اہم اور اصولی بات فرمائی کہ:”جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو حسب استطاعت اس پر عمل کرو اور جب کسی چیز سے منع کروں تو رک جاؤ”۔ مطلب یہ ہے کہ میرئی لائی ہوئی شریعت کا مزاج سختی اور تنگی کا نہیں ہے بلکہ سہولت اور وسعت کا ہے۔ جس حد تک تم سے تعمیل ہو سکے اس کی کوشش کرو۔ بشری کمزوریوں کی وجہ سے جو کمی رہ جائے گی اللہ تعالٰی کے رحم و کرم سے اس کی معافی کی امید ہے۔



Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.