|
حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی جامع صفات
حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ:”ایسا کبھی نہیں ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے سوال کیا ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو انکار کر دیا ہو”۔
(بخاری و مسلم)
فائدہ:۔
سیرت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم تمام بنی نوع انسان کے لیے ایک کامل نمونہ ہے۔ پیغمبراسلام کی سیرت میں جامعیت ہے۔ اس لیے طبقہ انسانی کے لیے محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہدایت کا نمونہ اور نجات کا ذریعہ ہے۔ اسلام میں دو چیزیں ہیں، کتاب اور سنت، کتاب سے مقصود قرآن مجید اور سنت سے مراد احادیث ہیں۔
ایک یہودی نے ایک صحابی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے طنزاّ کہا تھا کہ تمہارا پیغمبر تم کو ہر چیز کی تعلیم دیتا ہے اور معمولی باتیں بھی سکھاتا ہے تو انہوں نے فخراّ فرمایا ہاں! ہمارا پیغمبر ہم کو ہر چیز کی تعلیم دیتا ہے یہاں تک کہ استنجا اور آبدست کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ اور آج بھی اس کامل تعلیم کی سیرت کو فخر کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ گویا سیرت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کا آئینہ خانہ ہے۔ جس میں دیکھ کر ہر شخص اپنے جسم و روح، ظاہروباطن، قول و عمل، زبان و دل، آداب و رسوم، طورو طریق کی اصلاح اور درستی کرتا ہے اور اسی لیے کوئی مسلمان قوم اپنی شائستگی اور ادب و اخلاق کے لیے اپنے مذہب سے باہراور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے الگ کوئی چیز نہیں مانگتی اور نہ اس کی اس کو ضرورت ہے۔
ایسی کامل و جامع ہستی جو اپنی زندگی میں ہر نوع اور ہر قسم، ہر گروہ اور ہر صنف انسانی کے لیے ہدایت کی مثالیں اور نظیریں ہیں۔ جو غیظ و غضب اور رحم و کرم، جودوسخا اور فقر و فاقہ، شجاعت اور بہادری اور رحمدلی و رقیق القلبی، دین اور دنیا دونوں کے لیے ہم کو اپنی زندگی کے نمونوں سے بہرہ مند کر دے، جو دنیا کی بادشاہی آسمان کی بادشاہی اور آسمان کی بادشاہی کے ساتھ دنیا کی بادشاہی کی بھی بشارت دے اور دونوں بادشاہوں کے قواعد اور قوانین اور دستورالعمل کو اپنی زندگی میں برت دکھائے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کیوں دنیا کے کامل ترین انسان ہیں؟ کیونکہ زندگی میں بیک وقت اس قدر متضاد اور متنوع اوصاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم میں نظر آتے ہیں جو کسی ایک انسان میں تاریخ نے کبھی یکجا نہیں دیکھے۔ یہ اوصاف کسی میں کبھی بھی یکجا نہ ہوئے اور نہ ہو سکتے ہیں۔ بادشاہ ایسا کہ ایک پورا ملک اس کی مٹھی میں ہواور بےکس ایسا کہ خود اپنے کو بھی قبضہ میں نہ جانتا ہو بلکہ اللہ تعالٰی کے قبضہ میں ہو۔ دولت مند ایسا ہو کہ خزانے کے خزانے اونٹوں پر لدے ہوئے اس کے پاس آرہے ہوں اور محتاج ایسا کہ مہینوں جس کے گھر چولہا نہ جلتا ہو اور کئی کئی وقت اس پر فاقے گزر جاتے ہوں۔ سپہ سالار ایسا ہو کہ مٹھی بھر نہتے آدمیوں کو لے کر ہزاروں زرہ پوش فوجوں سے کامیاب لڑائی لڑا ہو اور صلح پسند ایسا کہ ہزاروں پرجوش جاں نثاروں کی ہمرکابی کے باوجود صلح کے کاغذ پے بے چوں چراں دستخط کردیتا ہو۔ شجاع اور بہادر ایسا ہو کہ ہزاروں کے مقابلہ میں تن تنہا کھڑا ہو اور نرم دل ایسا کہ کبھی اس نے انسانی خون کا ایک قطرہ بھی اپنے ہاتھ سے نہ بہایا ہو۔ فکرمند ایسا ہو کہ عرب کے ذرہ ذرہ کی اس کو فکر ہو، بیوی بچوں کی اس کو فکر ہو، غریب و مفلس مسلمانوں کی اس کو فکر ہو، خدا کی بھولی ہوئی دنیا کے سدھار کی اس کو فکر ہو، غرض سارے سنسار کی اس کو فکر ہو اور بے تعلق ایسا کہ اپنے اللہ کے سوا کسی اور کی یاد اس کو نہ ہو اور اس کے سوا ہر چیز اس کو فراموش۔ کبھی اپنے برا کہنے والوں سے بدلہ نہیں لیا اور اپنے ذاتی دشمنوں کے حق میں دعائے خیر کی ان کا بھلا چاہا لیکن خدا کے دشمنوں کو اس نے کبھی معاف نہیں کیا اور حق کا راستہ روکنے والوں کو ہمیشہ جہنم اور عذاب الٰہی سے ڈراتا رہا۔ عین اس وقت جب وہ ایک تیغ زن سپاہی نظر آتا ہے۔ وہ ایک شب زندہ دار زاہد کی صورت میں جلوہ نما ہو جاتا ہے۔ عین اس وقت جب اس پر فاتح نظر آتا ہے۔ وہ پیغمبرانہ معصومیت کے ساتھ ہمارے سامنے آجاتا ہے۔ عین اس وقت جب ہم اس کو شاہ عرب کہہ کر پکارنا چاہتے ہیں۔ وہ کھجور کی چھال کا تکیہ لگائے کھردری چٹائی پر بیٹھا درویش نظر آتا ہے۔ عین اس وقت جب لڑائیوں کے قیدی مسلمانوں کے گھروں میں لونڈی اور غلام بنا کر بھیجے جا رہے ہیں۔ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاکر اپنے ہاتھوں کے چھالے اور سینے کے داغ باپ کو دکھاتی ہیں جو چکی پیستے پیستے اور مشکیزہ بھرتے بھرتے ہاتھ اور سینے پر پڑ گئے تھے۔ عین اس وقت جب آدھا عرب اس کے زیر نگیں ہوتا ہے۔ حضرت عمر حاضردربار ہوتے ہیں۔ اِدھر اُدھر نظر اٹھا کر کاشانہ نبوت کے سامان کا جائزہ لیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھردری چٹائی پرآرام فرما رہے ہیں۔ جسم مبارک پر اس کے نشان پڑ گئے ہیں۔ ایک طرف مٹھی بھر جو رکھی ہے ایک طرف خشک مشکیزہ لٹک رہا ہے۔ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کی کُل کائنات دیکھ کر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ رو پڑتے ہیں۔ سبب دریافت ہوتا ہے تو عرض کرتے ہیں۔ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اس سے بڑھ کر رونے کا اور کیا موقع ہوگا؟ قیصروکسرٰی باغ و بہار کے مزے لوٹ رہے ہیں اور آپ پیغمبر ہوکر اس حالت میں ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے عمررضی اللہ تعالٰی عنہ! کیا تم اس پر راضی نہیں کہ قیصروکسرٰی دنیا کے مزے لوٹیں اور ہم آخرت کی سعادت!
|