|
کلمہ خیر اور کلمہ شر کی کی اہمیت
حضرت بلال بن حارث رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”آدمی کئی کلمہ خیر اپنی زبان سے ادا کرتا ہے اور اسے اس کی قدرومنزلت کا علم نہیں ہوتا لیکن اللہ تعالٰی اس کے سبب اس کے لیے اپنی رضا اور خوشنودی اس دن تک کے لیے لازم کر دیتا ہے جب کہ وہ اس سے ملاقات کرے گا۔ اور اسی طرح آدمی کلمہ شر اپنی زبان سے ادا کرتا ہے اور اسے اس کی حقیقت کا اور اس کے انجام کا علم نہیں ہوتا۔ اور ہوتا یہ ہے کہ اللہ تعالٰی اس کے سبب اس پر اپنے غیض و غضب کو اس دن تک کےلازم کر دیتا ہے جب کہ وہ اس سے ملے گا”۔
(ترمذی، مالک و شرح السنہ)
فائدہ:۔
اس حدیث پاک میں زبان کی خوبی اور خرابی دونوں چیزیں بتائی گئی ہیں۔ کلمہ کتنا قیمتی ہوسکتا ہے اور کس قدر ضرر رساں اور نقصان دہ ہو سکتا ہے دونوں کا اندازہ حدیث بالا سے واضح طور پر لگایا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالٰی کا نام لینا۔ اللہ تعالٰی کی بات کسی کو پہنچا دینا، کسی مظلوم کی داد رسی کے لیے کوئی کلمہ کہہ دینا، کسی ظالم بادشاہ کے سامنے حق کہہ دینا ان سب چیزوں سے بڑے بڑے درجات حاصل ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات دھیان بھی نہیں ہوتا اور انسان کی زبان سے خیر کے کلمات نکل جاتے ہیں اور اونچے درجات کا سبب بن جاتے ہیں۔ اس کے برعکس یہ بھی ہے کہ غفلت اور بے دھیانی میں زبان سے بعض مرتبہ ایسا کلمہ نکل جاتا ہے۔ جو انسان کو ہلاکت کی گہرائیوں میں دھکیل کر دوزخ میں پہنچا دیتا ہے اور یہ معمولی گہرائی نہیں ہوتی بلکہ ایک روایت کے مطابق اس کی گہرائی مشرق و مغرب کے درمیان جو فاصلہ ہے اس بھی زیادہ اس گہرائی کا فاصلہ ہوتا ہے۔ (بحوالہ بخاری)۔
ساتھ ہی حدیث سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالٰی کی رضامندی اور خوشنودی وقتی اور عارضی نہیں ہوتی۔ قیامت کے دن یعنی یوم آخر تک کے لیے ہوتی ہے۔ بعد ازاں اس پر اللہ تعالٰی کی جو عنایتیں اور رحمتیں ہوں گی ان کا کیا کہنا۔ ان سے تو وہ براہ راست فیض یاب ہوگا۔ یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ جس سے اللہ تعالٰی راضی ہوتا ہے اسے دنیا میں نیک اعمال کی توفیق ملتی رہتی ہے۔ جو اللہ تعالٰی کی خوشنودی کا سبب ہوتی ہے۔ اللہ تعالٰی اس کو برزخ میں قبر کے عذاب سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس کی قبر کو کشادہ کر دیا جاتا ہے۔ پھر وہ قیامت کے دن نیک بختی و سعادت کے ساتھ اٹھے گا کہ اس پر حق تعالٰی کی رحمت کا سایہ ہوگا۔ جنت میں داخل کیا جائے گا اور وہاں کی نعمتیں اس کا نصیب بنیں گی۔
اس کے برعکس وہ شخص جس کی زبان سے نکلی ہوئی بات اللہ تعالٰی کے غضب کو بھڑکا دیتی ہے۔ اس پر بھی اللہ تعالٰی کا غصہ اور غضب وقتی اور عارضی نہیں ہوتا۔ اللہ تعالٰی قیامت تک اس پر غضبناک رہتا ہے۔ بعد کا کیا ذکر جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ اس کے لیے کافی ہوگی۔ یہ الگ بات ہے کہ دنیا میں توبہ کرکے کوئی اپنی اصلاح کرلے، اس کے بارے میں اللہ تعالٰی کا فیصلہ بدل جاتا ہے۔ وہ اس کی خطاؤں کو معاف فرما کرکے اپنا مقرب بندہ بنا سکتا ہے۔ توبہ کا دروازہ بہرحال ہر ایک لیے کھلا ہے۔
حدیث پاک میں جو فرمایا گیا ہے کہ:”اس دن کے لیے لازم کردیتا ہے جب کہ وہ اس سے ملے گا”۔ تو اس کا یہ مطلب ہرگز یہ نہیں کہ اللہ تعالٰی کی رضا یا اس کی خفگی بس اسی دن تک محدود رہے گی۔ اس کے بعد منقطع ہو جائے گی۔ اس کی تائید قرآن کریم کی اس آیت سے بھی ہوتی ہے۔ جس میں اللہ تعالٰی نے ابلیس سے فرمایا:۔
اور تیرے اوپر یوم الجزا تک میری لعنت ہے۔ (ص۔78)۔
اس کا مفہوم ہرگز یہ نہیں کہ یوم الجزا کے بعد ابلیس لعنت کی گرفتاری سے چھوٹ جائے گا۔ یوم الجزا تک تو اس پر لعنت اور اللہ تعالٰی کی پھٹکار ہے ہی، اس کے آگے اس لعنت کے ساتھ عذاب جہنم کا اضافہ بھی ہو جائے گا۔ جسے ابلیس اور اس کے پیروکار خود دیکھ لیں گے۔ اسی طرح حدیث میں مذکورہ لوگوں کے حق میں اللہ تعالٰی کی خوشنودی یا خفگی کا تعلق موت کے دن کے بعد بھی ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔
|