|
کینہ اور عداوت
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” جنت کے دروازے پیر اور جمعرات کے دن کھولے جاتے ہیں۔ پھر ہر ایسے بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرتا ہو۔ البتہ وہ شخص اس بخشش سے محروم رہتا ہے۔ جس کی اپنے بھائی کے ساتھ کینہ و عداوت ہو۔ اور فرشتوں سے کہا جاتاہے کہ انہیں دیکھتے رہو یہاں تک کہ یہ باہم مل جائیں۔ انہیں دیکھتے رہو یہاں تک کہ یہ باہم میل ملاپ کرلیں”۔
(مسلم)
فائدہ:۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحمتہ اللعالمین ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ساری دنیا کے لیے آب رحمت ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالٰی کی عام مخلوق اور عام انسانوں کے ساتھ حسن سلوک کے بارے میں اپنے ماننے والوں کو جو ہدایات اور نصیحتیں فرمائیں۔ وہ اپنی جگہ بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا پیغمبر ماننے والی امت چونکہ اللہ تعالٰی کے حکم سے دینی رشتہ کے ذریعہ ایک برادری بنا دی گئی ہے۔ اور اب رہتی دنیا تک اس برادری ہی کو نبوت کی نیابت اور نمائندگی کرنی ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے جبکہ امت کے مختلف افراد اور عناصر دینی اخوت، اللہ تعالٰی کی رضا کے لیے ایک دوسرے سے محبت، مخلصانہ ہمدردی و خیر خواہی اور بے غرضانہ تعاون کے ذریعے ایک وحدت بنے رہیں اور ان کے دل آپس میں پوری طرح جڑے رہیں۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیمات میں اس پر خاص الخاص زور دیا ہے۔
ایک اور حدیث میں اس طرح آتا ہے کہ: ”ہر ہفتہ دو مرتبہ یعنی پیر اور جمعرات کو لوگوں کے اعمال پیش ہوتے ہیں۔ پھر مومن بندے کی مغفرت کردی جاتی ہے۔ سوائے اس بندے کے جو اپنے اور اپنے بھائی کے درمیان کینہ اور عداوت رکھتا ہو۔ پس (اللہ تعالٰی کا فرشتوں کو) حکم ہوتا ہے کہ انہیں چھوڑے رکھو ( ان کے معاملہ کو التواء میں رکھو) یہاں تک کہ یہ دونوں رجوع کریں اور دشمنی سے باز آجائیں۔ (بحوالہ مسلم)۔
یہ روایتیں بتاتی ہیں کہ انسان کے اعمال کا برابر جائزہ لیا جاتا رہتا ہے۔ اور ہفتہ میں خاص طور سے دو مرتبہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ کس شخص کی کیا پوزیشن ہے۔ کون جنت اور مغفرت کا مستحق ہے اور کس پر جنت حرام ہے۔ جس کے لیے نہ جنت کے دروازے کھلیں اور نہ اس کی مغفرت ہوگی۔ یہاں تک کہ وہ اپنی اصلاح کرلے اور اپنا معاملہ درست کرلے۔
ایمان نہ ہونے کی صورت میں تو نجات و مغفرت کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن مومن شخص کے لیے بھی اس وقت تک جنت کے دروازے بند رہتے ہیں اور اس کی مغفرت بھی التواء میں رہتی ہے جب تک کہ ایمان کے تقاضے پورے نہ کر لے۔ یا دوسرے لفظوں میں ایسی زندگی اختیار نہ کرلے جو زندگی اہل جنت کی ہوتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اہل جنت میں باہم کوئی عداوت اور کینہ نہ ہوگا۔ ان کے قلوب اس طرح کی برائیوں سے پاک ہوں گے۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ جنت ان کے لیے ہے جو اپنے دلوں میں اپنے بھائیوں کے لیے بدخواہی اور عداوت کا کوئی جذبہ نہ رکھتے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ جن کے دلوں میں اپنے بھائی کے تئیں بغض و عناد ہوتا ہے۔ ان کے لیے جنت کے دروازے بند ہی رکھے جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ دروازے ہفتے میں دو بار کھلتے ہیں اور دل صاف رکھنے والوں کی مغفرت کی جاتی ہے اور ان کو بلند درجات سے نوازا جاتاہے۔
ان روایتوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ پیر اور جمعرات کو کثرت سے اللہ تعالٰی کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔ جو ان بندوں کی مغفرت اور نجات کا باعث ہوتی ہیں جو اس کے مستحق ہوتے ہیں۔ ان موقعوں پر لوگوں کے اعمال کا جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ یہ فیصلہ کیا جاسکے کہ وہ خوش قسمت لوگ کون ہیں۔ جو اللہ تعالٰی کی رحمت و مغفرت اور اس کی جنت کے حقدار ہیں اور کون ہیں جن کے حصے میں محرومی کے سوا اور کچھ نہیں آسکتا اور وہ کون ہیں جن سے امید کی جاسکتی ہے کہ شاید وہ اپنی اصلاح کرلیں اور اللہ تعالٰی کی رحمت انہیں اپنے سایہ شفقت میں لے لے۔ اللہ تعالٰی ہم سب مسلمانوں کی کینہ و عداوت اور ہر قسم کے دوسرے برے اخلاق سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔
|