قبر بنانے کے متعلق ہدایات

حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر پکی بنانے سے اس پر عمارت بنانے سے اور اس پر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے”۔
(مسلم)
فائدہ:۔
قبر سفر آخرت کی پہلی منزل ہے جو مومن کے لیے جنت کا ایک باغ اور کافر کے لیے دوزخ کا ایک گڑھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کے متعلق بہت واضح ہدایات دی ہیں۔ مندرجہ بالا حدیث میں اس حوالے سے چند ہدایتیں موجود ہیں۔

ایک ہدایت یہ کی گئی ہے کہ قبر دیکھنے میں اس قدر سادہ ہو کہ اس کو دیکھ کر اس دنیا کی بے ثباتی اور فانی ہونے کا احساس ہو اور آخرت کی یاد اور فکر دل میں پیدا ہو۔ اسی لیے اس کو پکا کرنے اور اس پر عمارت کھڑی کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔ ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اس کام پر معمور فرمایا تھا کہ تم جو تصویر دیکھو اسے چھوڑو نہیں بلکہ اسے مٹا دو اور جس قبر کو بلند دیکھو اسے برابر کر دو (بحوالہ مسلم)۔ یہاں مٹانے سے مراد اسے اتنی نیچی کردو کہ زمین کی سطح سے قریب ہو جائے اور صرف اس کا نشان باقی رہ جائے۔ ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک اونٹ کے کوہان کی طرح تھی(بخاری)۔ چنانچہ قبر کو ایک بالشت اونچا رکھنا مستحب ہے۔

دوسری ہدایت یہ ہے کہ اس پر بیٹھنا منع ہے۔ قبر پر بیٹھنے سے اس لیے منع فرمایا گیا ہے کہ مومن کے اکرام و شرف کے خلاف ہے اس طور پر کہ قبر کے اوپر چڑھ کر بیٹھنے سے صاحب قبر کی تحقیر اور بے وقعتی لازم آتی ہے۔

ایک اور حدیث شریف میں یوں آتا ہے کہ نہ قبروں پر بیٹھو اور نہ ان کی طرف رخ کرکے نماز پڑھو(بحوالہ مسلم)۔ قبر کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے سے منع کرنے کا خاص مقصد امت کو شرک کے شبہ سے بھی بچانا ہے۔



Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.