والدین کی خدمت، جہاد سے بھی مقدم

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا(اور اللہ تعالٰی کی رضا اور حصول ثواب کی خاطر جہاد میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی) اور عرض کیا کہ میں جہاد میں جانا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟ اس نے کہا جی ہاں زندہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: ”تو پھر ان کی خدمت کرکے جہاد کرو”۔
(بخاری و مسلم)

فائدہ:۔
قرآن و احادیث میں والدین کی ساتھ حسن سلوک کی بہت تاکید آئی ہے۔ بندوں کے حقوق میں سب سے زیادہ حق والدین کا رکھا گیا ہے۔ قرآن کریم کے متعدد مقامات پر اللہ تعالٰی نے اپنی توحید و عبادت کا حکم دینے کے ساتھ والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید کی ہے جس سے اس امر کی وضاحت بخوبی ہو جاتی ہے کہ ربوبیت کبریٰ (یعنی اللہ تعالٰی کی عبادت) کے تقاضوں کو صحیح طریقے سے وہی سمجھ سکتا ہے اور انہیں ادا کر سکتا ہے جو ربوبیت صغریٰ(یعنی والدین) کی اطاعت و خدمت کے تقاضوں کو سمجھتا اور ادا کرتا ہے۔ جو شخص یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ دنیا میں اس کا وجود والدین کی باہم قربت کا نتیجہ اور ان کی تربیت، ان کی غایت مہربانی اور شفقت کا ثمرہ ہے۔ اس لیے مجھے ان کی خدمت میں کوئی کوتاہی اور ان کی اطاعت سے سرتابی نہیں کرنی چاہیے وہ یقیناّ خالق کائنات کو سمجھنے اور اس کی توحیدوعبادت کے تقاضوں کی ادائیگی سے بھی قاصر رہےگا۔ ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہیے اور اس حسن سلوک کی توفیق کو دونوں جہان کی سعادت سمجھنا چاہیے۔ اللہ تعالٰی کے بعد انسان پر سب سے زیادہ حق ماں باپ ہی کا ہے۔ ماں باپ کے حق کی اہمیت اور عظمت کا اندازہ اس سے کیجیے کہ اللہ تبارک و تعالٰی نے قرآن پاک میں جگہ جگہ ماں باپ کے حق کو اپنے حق کے ساتھ بیان کیا ہے اور شکر گزاری کے ساتھ ساتھ ماں باپ کی شکرگزاری کا تاکید کی ہے۔ ”اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو”۔ (النساء ۔ 36)۔

اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر والدین کو خدمت کی ضرورت ہوتو جب تک جہاد فرض عین نہ ہو جائے اس وقت تک ان کی خدمت میں مشغول رہنا جہاد میں جانے سے بھی افضل ہے۔ اور یہ واقعہ عام طور سے مسلمان جانتے ہیں کہ حضرت اویس قرنی رضی اللہ تعالٰی عنہ یمن کے باشندے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے لیے آنا چاہتے تھے۔ لیکن چونکہ ان کی والدہ کو خدمت کی ضرورت تھی اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے پاس آنے سے منع کرکے والدہ کی خدمت کا حکم دیا، چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نہ کر سکے۔ لیکن والدہ کی خدمت کی بدولت اللہ تعالٰی نے ان کو وہ مقام بخشا کہ بڑے بڑے صحابہ کرام بھی ان سے دعا کرواتے تھے۔ جب حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دور میں وہ مدینہ تشریف لائے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ انتہائی اشتیاق کے ساتھ ان سے ملنے اور ان سے دعا لینے کے لیے تشریف لے گئے۔

والدین کے ساتھ حسن سلوک عام حالات میں ایسا عمل ہے جس میں محنت و مشقت زیادہ نہیں ہے۔ کیونکہ ہر انسان کو فطری طور پر اپنے والدین سے محبت ہوتی ہے۔ اس لیے ان کی خدمت اور حسن سلوک پر دل خود ہی آمادہ ہوتا ہے۔ دوسرے طرف والدین کو اپنی اولاد پر جو شفقت ہوتی ہے اس کی وجہ سے وہ خود اپنی اولاد سے ایسا کام لینا پسند نہیں کرتے جو اس کے لیے زیادہ مشکل ہو۔ بلکہ معمولی سی خدمت سے بھی خوش ہو جاتے ہیں اور دعائیں دیتے ہیں۔ نیز اللہ تعالٰی نے اس عمل کو اتنا آسان بنا دیا ہے کہ ایک حدیث کی رو سے والدین کو ایک مرتبہ محبت کی نظر سے دیکھ لینا بھی ثواب میں مقبول (نفلی) حج کے ثواب کے برابر ہے۔ غرض والدین سے محبت رکھ کر ان کی اطاعت اور خدمت کرکے انسان اپنے نامہ اعمال میں عظیم الشان نیکیوں کا بہت بڑا ذخیرہ جمع کر سکتا ہے۔

لیکن یہاں ایک اہم نکتہ اور سمجھ لینا چاہیے کہ جہاد اور دین کی خدمت صرف ان لوگوں کا کام نہیں۔ جن کے ماں باپ حیات نہ ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین جہاد کرتے تھے ان میں بڑی تعداد انہی کی ہوتی تھی۔ جن کے ماں باپ زندہ ہوتے تھے۔ ہر شخص کو اپنے حالات کے پیش نظر خود فیصلہ کرنا چاہیے۔



Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.