پردہ کی اصلیت

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”تم(نامحرم) عورتوں کے پاس جانے سے بچو(اور اس معاملہ میں بہت احتیاط کرو)۔ ایک شخص نے دریافت کیا کہ شوہر کے قریبی رشتہ داروں(دیور وغیرہ) کے بارے میں آپ کا کیا ارشاد ہے؟(کیا ان کے لیے بھی یہی حکم ہے؟)آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”وہ تو بالکل موت اور ہلاکت ہیں”۔
(بخاری و مسلم)

فائدہ:۔
اسلام دین فطرت ہے۔ اس کی تمام تر تعلیمات انسانی فطرت و طبیعت کے عین مطابق ہیں۔ اور ان پر عمل کرنا کوئی نا ممکن کام نہیں ہے۔ اسلام نے انسان کے دنیاوی اور اخروی وقار کا نہ صرف پورا پورا خیال رکھا ہے بلکہ اسے عزت و وقار سے رہنے کی تاکید کی ہے۔ جونہی کسی باوقار انسان کی عزت پر حرف آتا ہے اسلام کا قانون تعزیر حرکت میں آجاتا ہے۔ مجرم کے لیے عبرتناک سزا اور مومن کےلیے تحفظ ناموس کی خوشخبری دیتا ہے۔ پردے کا شرعی حکم بھی عورت کی عزت و کرامت اور اس کے وقار کے پیش نظر دیاگیا ہے۔ اس کا مقصد عورتوں پر پابندی لگانا یا انہیں مردوں سے کم تر دکھانا ہرگز نہیں۔

حدیث میں آتا ہے کہ:”عورتیں انسان ہونے میں مردوں کے برابر ہیں۔ (بحوالہ ابوداؤد۔ ترمذی و ابن ماجہ)۔

دنیا کے کسی مذہب اور قانون میں کسی تمدن اور سوسائٹی میں عورت کو وہ مقام اور مرتبہ نہیں دیا گیا جو مقام اور مرتبہ عورت کو اسلام نے دیا ہے۔ پردہ ہی عورت کی عزت، وقار، عفت، عصمت اور عظمت کا محافظ ہے۔ پردہ و حجاب عورت کی فطرت کے عین مطابق ہے۔ جہاں دنیا میں بگاڑ کی بہت سی صورتیں ہیں وہاں عورت کی بے پردگی بھی بہت بڑا سبب ہے۔ عورت بناؤسنگھار کرکے سوائے شوہر اور محرم کے کسی غیر محرم کے سامنے نہیں آسکتی۔ یہ اسلام میں ناجائز اور حرام ہے۔ ایسا کرنا عورت کے لیے مؤجب عذاب ہے۔

شوہر کے قریبی رشتہ داروں میں اس کے باپ اور اس کی اولاد تو بیوی کے لیے محرم ہیں۔ ان کے علاوہ شوہر کے سارے رشتہ دار حتٰی کہ حقیقی بھائی بھی نامحرم ہیں۔

اس حدیث مبارکہ میں پردے کے متعلق ایک نہایت ہی اہم بات بیان کی گئی ہے۔ جس سے مسلمانوں کی اکثریت غافل ہے اور وہ یہ ہے کہ عورت کے لیے اپنے شوہر کے سگے بھائیوں اور چچاذاد وغیرہ بھائیوں سے بھی پردہ کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ قریبی ہونے کی وجہ سے ان کی گھروں میں ہر وقت آمدورفت رہتی ہے اور تنہائی کے بے شمار مواقع ان کو میسر آتے ہیں۔ ان کا آزادانہ طور پر گھر میں آنا اور خلوت و جلوت میں بے تکلف اور بے پردہ ملنا اور باتیں کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے مطابق انتہائی خطرناک اور عفت و دیانت کے لیے گویا زہر قاتل ہے۔ اس لیے بہ نسبت دوسروں کے۔ ان کے ساتھ فتنے میں مبتلا ہونے کے بہت زیادہ امکانات ہیں۔ اس لیے انہیں موت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی وہ دینی اعتبارسے ہلاکت کا باعث ہیں۔ یا مطلب ہے کہ اس کا انجام موت ہے۔ اگر وہ دونوں غلطی کر بیٹھیں۔ کیونکہ اسلام مملکت کی سزا رجم ہے۔ ہلاکت کی ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ خاوند کو اگر بیوی پر کس اور کے ساتھ آشنائی کا شبہ ہو جائے تو وہ غیرت میں آکر اسے مار دے یا طلاق دے دے۔ طلاق سے بھی اس کی زندگی اجیرن ہو جائے گی۔ اہل عرب کے ہاں عام طور پر کسی خطرناک چیز سے خوف دلانے کے موقع پر موت کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ جیسا کہ اہل عرب کہہ دیا کرتے تھے کہ شیر مرگ ہے یعنی شیر کے قریب جانا موت کی آغوش میں چلے جانا ہے۔ اس لیے ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ غیر محرم عورت کے ساتھ تنہائی اختیار کرنے سے اس طرح ڈرو جیسے موت سے ڈرا جاتا ہے۔

اور جب دیور اور جیٹھ وغیرہ سے پردہ ضروری ہے تو شوہر کے دوستوں سے پردہ کیوں ضروری نہیں ہوگا۔ اس معاملے میں بھی اب بہت زیادہ لا پرواہی برتی جا رہی ہے۔ اس کے جو خطرناک نتائج سامنے آرہے ہیں وہ وقتاّ فوقتاّ اخبارات کے ذریعے منظرعام پر آتے رہتے ہیں لیکن پھر بھی لوگ سمجھتے نہیں اور بے پردگی وبائے عام کی طرح پھیلتی جارہی ہے۔



Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.