|
اچھی نیت
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا، یا رسول اللہ صَلی اللہُ عَلَیہِ وَسَلم! ایک آدمی جہاد فی سبیل اللہ کا ارادہ رکھتا ہے اور ساتھ دنیا کا مال بھی حاصل کرنا چاہتا ہے ( اس کےلیے کتنا ثواب ہے؟) رسول اللہ صَلی اللہُ عَلَیہِ وَسَلم نے ارشاد فرمایا:۔”اس کے لیے کوئی اجروثواب نہیں”۔ لوگوں نے اسے بہت بڑی بات سمجھا اور اس آدمی سے کہا، رسول اللہ صَلی اللہُ عَلَیہِ وَسَلم سے دوبارہ مسئلہ دریافت کرو۔ شاید تم اپنی بات اچھی طرح واضح نہیں کر سکے۔ اس آدمی نے پھر عرض کیا، یا رسول اللہ صَلی اللہُ عَلَیہِ وَسَلم! ایک آدمی جہاد فی سبیل اللہ کا ارادہ رکھتا ہے اور ساتھ دنیا کا مال بھی حاصل کرنا چاہتا ہے ( اس کے لیے کتنا ثواب ہے؟) رسول اللہ صَلی اللہُ عَلَیہِ وَسَلم نے ارشاد فرمایا:۔”اس کے لیے کوئی اجروثواب نہیں”۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پھر اس آدمی سے کہا، رسول اللہ صَلی اللہُ عَلَیہِ وَسَلم سے پھر مسئلہ دریافت کرو۔ اس نے تیسری بار آپ صَلی اللہُ عَلَیہِ وَسَلم سے یہی سوال کیا تو آپ صَلی اللہُ عَلَیہِ وَسَلم نے ارشاد فرمایا:۔”اس کے لیے کوئی اجر نہیں”۔
(ابو داؤد)
فائدہ:۔
جن کاموں سے شریعت نے روک دیا ہے ان کو تو کسی بھی نیت سے کیا جائے وہ غلط اور ممنوع ہی رہیں گے۔ البتہ جن کاموں کے کرنے کا باقاعدہ حکم دیا گیا ہے ان میں اگر نیت اللہ تعالٰی کو راضی کرنے کی ہوگی تو اس اچھی نیت سے وہ کام اچھا ہو جائے گا اور اگر اس کام کے کرنے میں لوگوں کی دکھانا، اس عمل کے علاوہ کوئی دوسرا فائدہ نظر رکھنا یا اپنی نیکی جتلانا پیش نظر ہوگا تو اس نمائش اور ریاکاری کا وجہ سے یہ عمل برا ہو جائے گا۔
اس لیے نماز، روزہ اور فریضہ حج کی ادائیگی میں، صدقہ خیرات کرنے میں، دین کا علم سیکھنے میں، وعظ و نصیحت کرنے میں، تقریروتبلیغ کرنے میں، تصنیف و تالیف کرنے میں شہرت اور دکھاوے کی نیت سے بچنا چاہیے اور اللہ تعالٰی کی خوشنودی کو مدنظر رکھنا چاہیے ورنہ ان سب نیک اعمال کا اللہ تعالٰی کے یہاں کوئی وزن نہیں ہوگا۔ بلکہ اپنی بڑائی اور بزرگی جتلانے کا عذاب جھیلنا پڑے گا۔
ہرکار خیر کے بارآور ہونے کے لیے اخلاص نیت کا ہونا ضروری ہے بصورت دیگر نہ صرف ثواب سے محرومی ہوگی بلکہ اللہ تعالٰی کے یہاں سخت سزا کا بھی اندیشہ ہے۔ کیوں کہ اللہ تعالٰی سب کچھ جانتا ہے:۔
”آپ صَلی اللہُ عَلَیہِ وَسَلم کہ دیجیے! خواہ تم اپنے سینوں کی باتیں چھپاؤ، خواہ ظاہر کرو اللہ تعالٰی (بہرحال) جانتا ہے۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسے معلوم ہے اور اللہ تعالٰی ہر چیز پر قادر ہے”۔ (آل عمران۔ 29)
اس حدیث شریف کا حاصل بھی یہی ہے کہ ہر مسلمان کو اپنا عمل اللہ تعالٰی کی خوشنودی اور اس کی رضا مندی کے لیے کرنا چاہیے، لوگوں کو دکھانے اور ان کے سامنے جتانے سے بچنا چاہیے۔ اللہ تعالٰی کے یہاں انسانی عمل کی قدردانی اس کے اخلاص کی وجہ سے ہوگی۔ جس کام میں جتنا اخلاص ہوگا اتنا ہی وہ اللہ تعالٰی کے یہاں مقبول ہوگا، اللہ تعالٰی ہم سب کو ہر کام اچھی نیت سے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)۔
|