علم اور اخلاص نیت

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:۔ ”وہ علم جس سے اللہ کی رضا چاہی جاتی ہے۔ (یعنی دین اور کتاب و سنت کا علم)، اگر اس کو کوئی شخص دنیا کی دولت کمانے کے لیے حاصل کرے تو وہ قیامت میں جنت کی خوشبو سے محروم رہے گا”۔
(ابوداؤد، ابن ماجہ و مسنداحمد)

فائدہ:۔
جس طرح ہر جاندار کی روح ہوتی ہے اسی طرح عبادت کی روح اخلاص ہے۔ بغیر روح کے جاندار مردہ اور بغیر اخلاص کے عبادت غیر مقبول ہے۔ بغیر اخلاص کے عمل خواہ کتنا ہی اعلٰی کیوں نہ ہو بے اثر ہے۔ قرآن و حدیث میں تدبر کرنے سے اخلاص کی اہمیت با آسانی واضح ہو جاتی ہے۔ مسلمان کی نظر میں اخلاص نیت کا معاملہ دینی و دنیاوی امور میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ اس لیے کہ سب اعمال اس کی بنیاد پر سرزد ہوتے ہیں اور اسی کے اعتبار سے وہ درست یا غلط قرار پاتے ہیں۔

لہٰذا ضروری ہے کہ ہر عمل شروع کرنے سے پہلے انسان اپنی نیت کو پرکھ لے اور اسے اللہ تعالٰی کے لیے خالص کرلے تاکہ وہ عمل اللہ تعالٰی کے ہاں مقبول ہو کر رضائے الٰہی کا سبب بن سکے اور اس بندے کے لیے جس نے وہ عمل کیا ہے اجروثواب کا باعث بنے۔

اخلاص کی اہمیت پر قرآن و حدیث میں متعدد دلائل موجود ہیں اور محدثین نے اپنی تصانیف میں اخلاص کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اخلاص پر دلالت کرنے والی احادیث آغاز ہی میں ذکر کی ہیں تاکہ عالم یا طالب علم ابتدا ہی سے اپنی نیت کی اصلاح کر لے۔ کیونکہ بغیر اخلاص نیت کے علم تو حاصل ہوگا مگر جو مقصد رضائے الٰہی ہے اس سے محروم رہے گا۔

ارشادِباری تعالٰی ہے:۔ ”خبردار! عبادت خالص اللہ ہی کے لیے ہے”۔ (الزمر 3)

یعنی یہ اسی اخلاص عبادت کی تاکید ہے جس کا ذکر قرآن و حدیث میں بہت سے مقامات پر آیا ہے۔ اخلاص اپنے رب کے ساتھ مضبوط تعلق اور سچی محبت کی دلیل ہے۔ ایک مخلص بندہ اپنی تمام عبادات اور معاملات اپنے خالق و مالک کے لیے خالص کر دیتا ہے۔ اور درحقیقت اللہ تعالٰی ہی اس لائق ہے کہ اس کے لیے اپنے اعمال خالص کیے جائیں اور اس سے سچی محبت کی جائے۔

اب جو شخص علم دین محض اس لیے حاصل کرے کہ اس کے ذریعہ دنیا کی دولت و عزت سمیٹے اور اسے حصول دنیا کے لیے وسیلہ بنائے تو اس کے لیے حدیث مبارکہ میں سخت وعید بیان فرمائی گئی ہے۔

البتہ اگر علم دینی نہ ہو دنیاوی ہو تو اس کو اس مقصد کے لیے کہ اسے حصول دنیا کے لیے وسیلہ اور ذریعہ معاش بنا لیا جائے گا حاصل کرنا کوئی برا نہیں ہے لیکن اس میں بھی شرط ہے کہ وہ علم ایسا نہ ہو جس کے حصول کو شریعت درست قرار نہیں دیتی، مثلاّ علم نجوم وغیرہ یا دوسرے ایسے علم جو عقیدہ و عمل پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

اس حدیث پاک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ایسا عالم جس کی نیت حصول علم کے سلسلہ میں خالص اللہ کی رضا کے لیے نہ ہو اسے جنت کی خوشبو بھی میسر نہیں آئے گی۔ یہ اشارہ ہے بہشت میں عدم دخول سے اور مبالغہ ہے محرومی جنت سے اور اس سے مراد یہ ہے کہ ایسا شخص مخلص اور مقرب بندوں کے ہمراہ بغیر عذاب کے جنت میں داخل نہیں ہوگا۔

علم اپنی لطافت اور نورانیت کے سبب ریاکاری، خودنمائی، غروروتکبر اور بےجا فخر کی غلاظتوں کو برداشت نہیں کر سکتا۔ جب علم کی اولین کرن یہی چاہتی ہے کہ وہ انسان کے دل و دماغ سے ظلم و جہل کی ہر تاریکی کو دور کر دے تو یہ کیسے برداشت کیا جاسکتا ہے کہ ایک عالم جس کے دماغ میں علم کی روشنی بھری ہو وہ صرف اس علم سے دنیا کی متاع حاصل کرے۔

اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ ہماری نیتوں کو اپنی رضا کے لیے خالص کر لے اور اللہ تعالٰی حاملین علم و دین کو توفیق عطا فرمائے کہ ہمیشہ ان کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و تنبیہات رہیں۔ آمین!



Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.