|
سیدھے ہاتھ کی فضیلیت
حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے گھر کی پلی ہوئی بکری کا دودھ نکالا گیا پھر اس میں اس کنویں کا پانی ملایا گیا جو حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کے گھر میں تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ پیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے الٹے ہاتھ کی جانب ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سیدھے ہاتھ کی طرف ایک دیہاتی تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ (بچا ہوا دودھ) ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو عنایت فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس دیہاتی کو دے دیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سیدھے ہاتھ کی طرف تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیدھا مقدم ہے پھر سیدھا (یعنی جو اس قریب سے ہو)”۔
(بخاری و مسلم)
فائدہ:۔
اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوتی ہیں کہ سب سے پہلے تو یہ کہ حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے تواضع کے طور پر اپنا نام لیا حالانکہ یہ سار واقعہ ان کے اپنے گھر کا ہے۔ لہٰذا وہ یہ کہہ سکتے تھے کہ اس دودھ میں اس کنویں کا پانی ملایا گیا جو میرے گھر میں تھا۔ دوسرے بات یہ کہ یہ سنت کا طریقہ ہے کہ تقسیم سیدھے ہاتھ کی طرف سے شروع ہرنی چاہیے۔ اور پھےترتیب وار تقسیم کی جائے یہاں تک کہ اس شخص تک پہنچے جو الٹے طرف ہو۔ تیسری اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمال عدل اور حق شناسی کا پتہ چلتا ہے کہ باوجود یہ کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی عزیز تھے اس مجلس میں موجود تھے اور یہ کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی نے بھی اس سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست فرمائی تھی۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی کو فوقیت دی۔ یعنی صرف سیدھے جانب سے آغاز کرنے کے لیے۔
اس سے ہم سب کو یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ زندگی کے ہر معاملے میں جو بظاہر چھوٹا اور معمولی ہی کیوں نہ معلوم ہو سنت کا خاص اہتمام کرنا چاہیے۔
نقش قدم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں جنت کے راستے
اللہ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے
|