پی پی اور ن لیگ لندن کے بجائے پاکستان میں فیصلے کریں،فضل الرحمٰن
جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے حکمران اتحاد میں شامل دونوں بڑی جماعتوں کو ججز کی بحالی کے ایشو پر لندن میں کسی بھی فیصلے سے روکنے کے لئے اتحاد کے قائدین سے رابطہ کرلیا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ دونوں جماعتوں کے قائدین کو لندن کے بجائے پاکستان آکر فیصلے کرنے چاہئیں۔ انہوں نے پاکستان کے داخلی معاملات کے حوالے سے رچرڈ باؤچر کی سیاستدانوں سے ملاقات کو بھی سفارتی آداب کے منافی قرار دیا ہے۔ یہاں بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ امریکہ پاکستان کے داخلی معاملات کے حوالے سے زبردستی سے کام لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس حد تک امریکی مداخلت بڑھ گئی ہے کہ امریکی سفیر‘ ہمارے وفاقی وزراء اور سٹاک مارکیٹ تک کے دورے کررہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی سیاست اور معیشت میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی مداخلت سے پاکستان کے نظام پر امریکی اثر و رسوخ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قومی حکومت میں ہماری شمولیت کا بنیادی مقصد ہی بیرونی دباؤ سے پاکستان کو آزاد کرانا ہے۔ ہم مرحلہ وار آگے بڑھیں گے۔ دہشت گردی کے ایشو پر حکومت طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات پر آگئی ہے۔ ا یک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ سیاستدان کبھی قومی ایشو کو دنوں میں بند نہیں کرتے۔ تیس دنوں میں ججز کا مسئلہ حل نہ ہوا تو پھر اسے دس دنوں کیلئے بند کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکمران اتحاد اس غلطی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ دونوں بڑی جماعتوں کے قائدین کو کوئی بھی فیصلہ لندن کے بجائے پاکستان آکر کرنا چاہئے اس حوالے سے رابطے کرکے یہی پیغام دے رہے ہیں کہ ملک آکر بات چیت کی جائے پھر کوئی غلطی نہ کی جائے۔ یہ کہنا کی کسی کی حکومت سے علیحدگی کے بعد اتحاد برقرار رہے گا اور مشکلات پیدا نہیں ہوں گی اس بات میں وزن نہیں ہے۔
|