پیپکو کو واپڈا میں ضم کرنیکا اصولی فیصلہ، نوٹیفکیشن جلد متوقع
حکومت نے پیپکو (پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی) کو واپڈا میں ضم کرنے کی تیاریاں کرلی ہیں کیونکہ آئی پی پیز آزاد اتھارٹی نہیں چاہتے۔ وزارت پانی و بجلی کے ذرائع نے اتوار کو ”دی نیوز“ کو بتایا ” حکومت نے پیپکو کو واپڈا میں دوبارہ ضم کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے اور اس کیلئے باقاعدہ نوٹیفکیشن جلد جاری ہوگا“۔واپڈا سے علیحدہ کئے جانے کے بعد پیپکو کو بجلی سے متعلقہ معاملات سے نمٹنے کیلئے اکتوبر 2007ء سے خودمختار ادارے کے طور پر فنکشنل کیا گیا ”نئے انتظامات کے تحت پیپکو کی آزادی ختم ہو جائے گی“۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ ” تمام آئی پی پیز نے وفاقی حکومت کو گزشتہ ہفتے مشترکہ مراسلہ ارسال کیا جس میں پیپکو کی آزادانہ حیثیت پر تحفظات کا اظہار کیا اور پچھلے پانچ چھ ماہ سے درپیش مشکلات سے آگاہ کیا گیا تھا“۔ذرائع نے بتایا کہ پیپکو کے ایم ڈی منور بصیر کو برطرف کرکے ان کی جگہ ممبر واپڈا برائے پانی فضل احمد کو مقرر کرکے پہلے ہی واپڈا کے زیرانتظام دیدیا گیا ہے۔موجودہ وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے گزشتہ جمعہ کو تمام آئی پی پیز وزارت کے اعلیٰ عہدیداران ، واپڈا اور پیپکو کی مشترکہ میٹنگ طلب کی لیکن عین آخری وقت پر اگلی کوئی تاریخ دیئے بغیر منسوخ کردی گئی۔ذرائع نے مزید بتایا کہ ”نجی پاور کمپنیوں کے مالکان کو بتا دیا ہے کہ حکومت پیپکو کو یا تو ختم کر رہی ہے یا ماضی کی طرح واپڈا میں ضم کر رہی ہے۔ اپنے مطالبات میں پاور کمپنیوں نے اپنے واجبات کی ادائیگی میں تاخیر کے باعث پیپکو کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ ” آئی پی پیز نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ انہوں نے اپنے معاہدے پیپکو سے نہیں بلکہ واپڈا سے کئے تھے“۔اپنے مشترکہ مفاد کیلئے 16 نجی کمپنیوں نے اتحاد کیاہے اور حکومت پر اچھا خاصا اثر و رسوخ رکھتی ہیں۔ خاص طور پر اس صورت میں جب وہ ملک میں پیدا ہونے والی کل بجلی کا 40 فیصد پیدا کر رہی ہیں۔حکومت پاکستان نے پیپکو کو آزاد حیثیت ڈونر ایجنسیوں کی شرائط پردی تھی۔ ان ڈونر ایجنسیوں میں ورلڈ بینک بھی شامل تھا جس نے 1992ء میں پاکستان پاور سیکٹر سٹریٹجک پلان شروع کیا تھا۔اس پلان کے تحت واپڈا کے پاور ونگ کو 4 پیداواری کمپنیوں (GENCOs) ،ایک این ٹی ڈی سی اور 9 ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں تقسیم کیا تھا۔ پیپکو 1998ء میں خودمختار حیثیت میں قائم کی گئی اور اس کا مقصد پاکستان کے پاور سیکٹر کی اصلاح کرنا تھا۔پیپکو نے 1998ء میں اصلاح اور تعمیر نو کا کام شروع کیا جس میں ابتدا میں کامیابی حاصل ہوئی۔ اصلاح کا عمل 2001ء میں اس وقت بہت حد تک سست ہوگیا جب اسے محض واپڈا کا ایک ڈویژن بنا دیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ حکومت نے پیپکو کے اختیارات کو 2007ء میں دوبارہ بحال کردیا تاکہ ملک میں طلب اور رسد کے فرق کو کم کیا جاسکے۔ منور بصیر کو اکتوبر 2007ء میں پیپکو کا ایم ڈی بنایا گیا اور کمپنی کو فیصلہ سازی میں مکمل آزادی دی گئی۔ چیئرمین واپڈا شکیل درانی اور منور بصیر کے درمیان پاور سیکٹر میں مسائل پر ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔
|