شوکت عزیز دور میں نا اہل شخص کو کمپٹیشن کمیشن کا سربراہ بنایا گیا ،صدیق الفاروق

پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی ترجمان صدیق الفاروق نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے دور میں نا اہل اور کرپٹ شخص کو لاکھوں روپے تنخواہ کے عوض کمپٹیشن کمیشن کا سربراہ بنایا گیا جس نے میرٹ اور قواعد سے ہٹ کر بھرتیاں کیں اور اہل ملازمین کی جگہ خوبصورت لڑکیاں تعینات کر لیں، چیئرمین نے مارکیٹ ریٹ سے تین گنا زائد کرایہ پر عمارت حاصل کر کے کمیشن کا ہیڈ آفس قائم کیا، پرویز مشرف اکیلا ڈکٹیٹر نہیں بلکہ اس نے اپنے دور میں ہر ادارے کے اندر آمر بٹھائے جن کا کام طبقاتی کشمکش اور نفرت کے بیج بونا ہے۔اتوار کو یہاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدیق الفاروق نے کہا کہ دو اکتوبر2007 کو صدارتی آرڈیننس کے ذریعے مناپلی کنٹرول اتھارٹی کو کمپٹیشن کمیشن سے بدل کر لامحدود اختیارات دے دئیے گئے جبکہ کمیشن کے فیصلوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی صرف اور صرف سپریم کورٹ میں کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم شوکت عزیز نے عالمی بینک سے ریٹائرڈ شدہ اپنے ایک ماتحت افسر خالد مرزا کو کمیشن کا چیئرمین مقرر کر دیا جس نے عہدہ سنبھالتے ہی مناپلی کنٹرول اتھارٹی کے پرانے ملازمین کو ڈرانے، دھمکانے اور انہیں تضحیک کا نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کے چیئرمین خالد مرزا نے پرانے ملازمین کو 6 ماہ کی ایڈہاک ملازمت کے خطوط پکڑا دئیے لیکن پرانے ملازمین کی کوششوں اور اس وقت کی حزب اختلاف جماعتوں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور ایم ایم اے کی جانب سے اسمبلی میں آواز اٹھانے پر نئے قانون میں ملازمین کی تحفظ کی شق تو شامل کر لی گئی لیکن خالد مرزا اپنے آپ کو ہر قسم کے قانون سے بالاتر سمجھتا ہے۔


Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.