ججوں کی بحالی،بہت لچک کا مظاہرہ کرچکے مزید گنجائش نہیں،ن لیگ رہنما

مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما نے کہا ہے کہ ” مسلم لیگ ن اس وقت امریکی مشورہ نہیں مانتی جب وہ یہ محسوس کرتی ہے کہ یہ مشورہ قومی مفاد کیخلاف ہے یا پارٹی موٴقف کے برعکس ہے ۔“مسلم لیگ ن کے ایک وفاقی وزیرنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دی نیوز کو بتایا کہ ” بہت سے معاملات میں ہمارے اور امریکی مفادات یکساں ہیں ۔ ان معاملات میں ہماری رائے یکساں ہے اور تعلقات بھی تعاون پر مبنی ہیں ۔ “ انہوں نے ان خیالات کا اظہار لندن میں امریکی عہدیدار رچرڈ باؤچر کی مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سے اتوار کے روز ملاقات کی خبروں کے بعد کیا۔مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ امریکا نے معزول ججوں کی بحالی پر سخت موٴقف کے باعث ن لیگ کو حقارت سے رد کر دیا ہے۔ ” ہم نے بھی انہیں مسترد نہیں کیا ہے۔ وہ مسلم لیگ ن کو ایک حقیقت سمجھتے ہوئے اس سے ملکر کام کرنا چاہتے ہیں۔ “انہوں نے بتایا کہ ” امریکی بھی جانتے ہیں اور ہم نے بھی بڑی صراحت کے ساتھ انہیں بتا دیا ہے کہ ججوں کی بحالی کے معاملے پر ہم بہت زیادہ لچک کا مظاہرہ کر چکے ہیں اور اب مزید گنجائش نہیں ہے۔ “اور ایک لیگی رہنما نے بتایا کہ ہم نے امریکا پر واضح کر دیا ہے کہ مسلم لیگ ن معزول ججوں کے حوالے سے اپنے وعدے سے انحراف کر سکتی ہے نہ کریگی۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں متعین امریکی سفیر نے ججوں کی بحالی پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں اور باؤچر نے بھی کوئی نئی بات نہیں کی۔عوام کے سامنے امریکی سفیر یہی کہتی ہیں کہ وہ معزول ججوں کی بحالی کیخلاف نہیں ہیں۔مسلم لیگ ( ن ) کے رہنما نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ فی الوقت امریکا کی خواہش یہی ہے کہ حکمران اتحاد برقرار رہے تاکہ پاکستان میں صورتحال نارمل اور مستحکم ہو اور دہشت گردی کیخلاف جنگ متاثر نہ ہو۔ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین فرحت اللہ بابرنے رابطہ کرنے پر بتایا کہ انہیں باؤچر کی زرداری سے ملاقات کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماؤں کے درمیان مذاکرات کے متعدد دور ہوئے ہیں اور وطن واپسی پر بھی مذاکرات ہونگے۔ کیونکہ پیپلزپارٹی چاہتی ہے کہ اس کے مسلم لیگ ن کے ساتھ تعلقات کسی صورت بھی خراب نہ ہوں۔تاہم زرداری نے ایک ٹی وی کو انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ ججوں کو معزول کرنے کے غیر آئینی کام کو ختم کرنے کیلئے انتظامی حکم کے ذریعے کوئی غیرقانونی کام نہیں کرینگے۔ اس بیان سے نواز شریف اور زرداری کے درمیان معاہدے / اتفاق رائے کے امکانات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اپنی اہلیہ کی تیمار داری کیلئے لندن کے دورے کے دوران نواز شریف نے برطانوی حکام سے تفصیلی ملاقاتیں کی ہیں۔ پاکستان کی موجودہ صورتحال خصوصاً ججوں کی بحالی کا معاملہ زیر بحث آیا۔ ججوں کی بحالی پر برطانوی اور امریکی موٴقف یکساں ہے۔باؤچر کی ڈھاکا سے وطن واپسی کے دوران لندن میں زرداری اور نواز شریف سے مبینہ ملاقات کا مقصد دونوں کے اتحاد کو ٹوٹنے سے بچانا اور مختلف معاملات پر امریکی نقطہ نظر سے اگاہ کرنا تھا۔ ان کی ملاقاتوں سے پاکستانی معاملات میں ان کی دلچسپی کا اظہار ہوتا ہے۔


Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.