پنجاب میں پی پی اور ق لیگ کی مخلوط حکومت بنانے کیلئے کوششیں شروع
معزول ججوں کی بحالی کے مسئلے پر حکمران اتحاد کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد وفاق اور پنجاب میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے درمیان مخلوط حکومت سازی کی کوششیں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ پنجاب میں ن لیگ کے بغیر حکومت سازی کیلئے مخالفین کو صرف پندرہ سے بیس
اراکین صوبائی اسمبلی کی ضرورت ہے جس کیلئے پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ق) کے فارورڈ بلاک کے ارکان کو بھی واپس لانے کیلئے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض نادیدہ طاقتیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے اتحاد توڑ کر پنجاب میں نیا کھیل کھیلنا چاہتی ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ ق کے فارورڈ بلاک کے رہنما کرنل (ر) عباس چوہدری کا کہنا ہے کہ نئی صورتحال میں فارورڈ بلاک کی اہمیت میں اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ ان کے ساتھ شامل چھبیس ارکان اسمبلی کے بغیر کوئی بھی پنجاب حکومت میں نہیں بنا سکے گا۔ ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی جانب سے وزارتوں سے مستعفی ہونے کے بعد ایم کیو ایم کے نئے وزراء کو ان وزارتوں کے قلمدان دیئے جائینگے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ میاں نوازشریف اور میاں شہبازشریف نے آصف علی زرداری اور ایوان صدر پر واضح کردیا ہے کہ مسلم لیگ ن کسی بھی صورت میں پنجاب حکومت سے دستبردار نہیں ہوگی اور اس نے پنجاب اسمبلی میں اراکین صوبائی اسمبلی کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے کے لیے کام شروع کردیا ہے۔
|