نواز شریف کی علیحدگی: صدر پرویز کی ”خوابوں کی انتظامیہ “ کیلئے راہ ہموار

نواز شریف کی زیر قیادت مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے علیحدگی سے صدر پرویز مشرف اور کچھ مغربی دارالحکومتوں کی ”خوابوں کی انتظامیہ“ کیلئے راہ ہموار ہوجائیگی۔ یہ وہ انتظامیہ ہوگی جس کا خواب اٹھارہ فروری کے انتخابات سے بھی خاصا قبل دیکھا گیا تھا اور اس میں صرف چھ ہفتے لگے ہیں۔ سویا ہوا ایوانِ صدر جاگ رہا ہے اور اس نے ان ارکان پارلیمنٹ سے اپنے رابطے متحرک کردیئے ہیں جو ہر سرد و گرم میں ایوانِ صدر کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی حکمرانی کیلئے واحد انتخاب ہے؛ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اتحادی کوئی بھی ہو۔ موجودہ حکومت کو مستقبل قریب میں بقاء کا کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ مسلم لیگ (ن) حکومت سے باہر جانے کیلئے ایک اور ڈیڈلائن دے گی۔ موجودہ ڈیڈ لائن کا خاتمہ نواز لیگ کی جانب سے حمایت واپس لینے پر منتج ہوگا اور حکومت کو غیر معینہ مدت تک حمایت کی پیشکش نہیں کی جائے گی۔ نواز لیگ کے حلقے نواز شریف کی جانب سے کئے گئے فیصلے پر مطمئن ہیں۔ اعلیٰ سطح کے سیاسی ذرائع نے اتوار کو دی نیوز کو بتایا کہ سید یوسف رضا گیلانی کو ایوان میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کیلئے مزید دس ارکان کی ضرورت ہوگی کیونکہ پی پی کے ایک سو اکیس، ایم کیو ایم کے پچیس، اے این پی کے تیرہ، جے یو آئی، ایم ایم اے کے چھ، این پی پی کا ایک، بی این پی عوامی کا ایک رکن ملکر تین سو بیالیس کے ایوان میں ایک سو ستاسٹھ ارکان بنتے ہیں۔ آزاد اٹھارہ ارکان بھی حکومت کی مخالفت نہیں کر رہے اور اگر ق لیگ کے فارورڈ بلاک نے حکومت کی حمایت کا فیصلہ کیا تو حکومت مزید پرسکون محسوس کر ے گی۔ ذرائع نے کہا کہ صدر پرویز پنجاب میں حکومت کی تبدیلی دیکھنے کے خواہاں ہیں کیونکہ وہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کی حکومت میں نواز لیگ کی موجودگی برداشت نہیں کریں گے۔ اس سلسلے میں سرکاری طور پر کچھ نہیں کہا گیا لیکن گورنر پنجاب کو صوبے میں خصوصی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جو یہ ہے کہ وہ ارکان اسمبلی سے رابطہ کریں۔ وزیراعلیٰ پنجاب صوبائی گورنر سے فاصلہ برقرار رکھے ہوئے ہیں جبکہ گورنر وزیراعظم گیلانی، جو اس وقت لاہور میں ہیں، کیلئے غیر معمولی خیر سگالی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ذرائع نے نشاندہی کی کہ صدارتی کیمپ صورتحال کا فائدہ اٹھانے کیلئے تمام ذرائع کا استعمال کر رہا ہے۔ آئندہ سال کا بجٹ، حکومت کی پہلی بڑی آزمائش ہوگی جو آئندہ ماہ قومی اسمبلی میں پیش کیا جائیگا۔ اس ہفتے کے اختتام پر آصف زرداری لندن سے اسلام آباد پہنچیں گے، اس ہی دوران صدارتی کیمپ اسلام آباد میں حکمران اتحاد کی صفوں میں حتمی تبدیلی کیلئے اپنی سرگرمیاں تیز کردے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر آئندہ دو برس کا عرصہ بغیر کسی بڑی مشکل کے گزار لیں گے۔


Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.