ایک غیرقانونی کام کو درست کر نے کیلئے دوسراغیراقانونی اقدام نہیں کرسکتا

پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ان کا صدر پرویز مشرف سے کوئی رابطہ نہیں، ججوں کی بحالی کیلئے قانونی پوزیشن کو مد نظر رکھنا ضروری ہے، اگر ماضی میں کسی نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو مجھ سے بھی ایسا ہی کرنے کی توقع نہ رکھی جائے، ایک غیر قانونی کام کو درست کرنے کیلئے دوسرا غیر قانونی کام نہیں کرسکتا، حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، اس وقت پاکستان کی سالمیت برقرار رکھنا سب سے اہم ذمہ داری ہے، قبائلی علاقوں کے عوام ہمارے ساتھ ہیں، معزول ججوں کی بحالی کیلئے قانونی پوزیشن کو مد نظر رکھنا ضروری ہے، حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، وزیراعظم بننے کی خواہش نہیں، اس وقت پاکستان کی سالمیت کو برقرار رکھنا سب سے اہم ذمہ داری ہے، پارٹی معاملات بتدریج بلاول بھٹو زرداری کو سونپ دیئے جائیں گے، مخلوط حکومت میں کمزوری کا عنصر شامل ہوتا ہے، اتحادیوں کیساتھ تعلقات ٹھیک رہنے کی امید ہے، ججز کا معاملہ آئینی معاملات سے علیحدہ کرکے نہیں نمٹایا جاسکتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانوی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ آصف زرداری نے کہا کہ ملک میں جاری مفاہمت اور مصالحت کے عمل کا تقاضا ہے کہ ایک دوسرے کے نکتہ نظر کا احترام کرتے ہوئے آگے بڑھا جائے، مخلوط حکومتوں میں کمزوری کا عنصر ہوتا ہے اور کوئی بھی جلد انتخابات نہیں چاہتا، امید ہے کہ اتحادی جماعتوں کے تعلقات ٹھیک رہیں گے، حکومت میں شامل اتحادیوں کے درمیان ججز کی بحالی کے معاملے پر مکمل اتفاق ہے لیکن اختلاف صرف اس بات پر ہے کہ طریقہ کار کون سا اختیار کیا جائے۔ ایک سوال پر آصف علی زرداری نے کہا کہ وہ وزارت عظمیٰ کے خواہاں نہیں ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو بتدریج پارٹی ذمہ داریاں سونپ دی جائیں گی۔ مانیٹرنگ سیل کے مطابق آصف علی زرداری نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے وزراء پنجاب حکومت سے الگ نہیں ہونگے۔


Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.