”سر کش“میڈیا کو سبق سکھانے کی تیاریاں مکمل کر لی گئیں

پاکستان میں میڈیا کو ایک بار پھر شدیدمسائل کا سامنا ہے، خطرے کی گھنٹیوں نے بجنا شروع کر دیا، کھلم کھلا دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ میڈیا میں موجود ”ٹربل میکرز“ کی فہرستیں تیار کی جا رہی ہیں اور این آر او کے دھلے دھلائے انٹیلی جنس مخبروں کو انبگڑے ہوئے صحافیوں کو سیدھا کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ کچھ میڈیا ہاؤسز کو سازشوں میں ملوث قرار دے کر متنبہ کیا جارہا ہے کہ ایک بار پھر نتائج کے بھگتنے کے لئے تیار ہو جائیں ۔ ”سر کش میڈیا “کو سبق سکھانے کیلئے اسٹیج تیار کیا جارہا ہے۔ یہ حملے غیر محسوس ،بے رحمانہ ،واضح اور کھلے ہو سکتے ہیں، کچھ لوگوں کو خدشہ ہے کہ ان حملوں کا اگر آغاز نہیں ہوا لیکن تیاری کر لی گئی ہے اور منصوبہ بندی کو جلد عملی جامہ پہنادیا جائے گا ۔صحافی خطرے کی بو سونگھ لیتے ہیں لیکن ہر گزخوفزدہ نہیں ہوتے۔ یہ کافی مطمئن ہیں اور جنگ کیلئے تیا رہیں ،آزادی صحافت کی وہ جنگ جس کی ضمانت آئین نے دی ہے۔ یہ حربے ہماری تقدیر کے حالیہ آقاؤں کے لئے تو نئے ہو سکتے ہیں کہ وہ ریاست کے اہم ستون یعنی صحافت کو اپنی مرضی کے مطابق چلائیں لیکن جو لوگ اس پیشے سے وابستہ ہیں وہ اس سے بخوبی آگاہ ہیں۔پاکستان کے پہلے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ایوب خان کی جانب سے نافذ کردہ ڈریکولائی پریس قوانین سے لے کر صدر ضیاء کے صحافیوں کو سر عام کوڑے مارنے تک اور پھر صدر پرویز کے تین نومبر دو ہزار سات کے بعد میڈیا کیلئے بنائے گئے کالے قوانین کے علاوہ ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف اور بینظیر بھٹو کے جمہوری ادوار میں بھی جس نے بھی میڈیا کی آواز دبانے کی کوشش کی انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔لیکن شاید ایسا لگتا ہے کہ حکمرانوں کو دوسروں کے تجربات سے کسی بھی قسم کا سبق لینے کی کوئی عادت نہیں۔ میڈیا کے جن افراد پر مستقبل میں عائد کی جانے پابندیوں کے حوالے سے جو سوچ بچار کی جارہی ہے ان کا واحد قصور یہ لگتا ہے کہ یہ لوگ ماضی اور ماضی میں کئے گئے وعدے یاد دلا رہے ہیں۔ یہ اداروں کے استحکام اور عدلیہ کی بحالی کی بات کرتے ہیں۔ مارگلہ روڈ پرجمعے کو مسلم لیگ ق کی ایک خاتون رکن قومی اسمبلی کی جانب سے دیئے گئے عشائیے کے موقع ”مشہور و معروف “ صحافیوں کو میڈیا کوملنے والی دھمکیوں کے حوالے سے اپنے خیالات کے اظہار کا موقع دیا گیا۔ ”آج“ ٹی وی کے مقبول پروگرام ”بولتا پاکستان “ کے میزبان اور معروف صحافی نصرت جاوید کو یقین ہے کہ میڈیا کیخلاف کریک ڈاؤن بہت قریب ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ بیس سے پچیس دن میں ہم پر لاگو کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی مفاد کے حصول کے لئے معاشی ایمرجنسی نافذ کی جاسکتی ہے۔”کیپٹل ٹاک“ کے میزبان اور سینئر کالم نگار ” حامد میر“ نے کہا کہ یہ سیاہ دن دس دن سے زیادہ دور نہیں، انہوں نے کہاکہ نشان زد صحافیوں کی فہرست میں پانچ کی بجائے سترہ نام شامل کئے جا چکے ہیں اور ان میں اکثریت اس تقریب میں شریک ہے۔حامد میر کے تجزئیے کے مطابق جن میڈیا ہاؤسز کو سب سے پہلے نشانہ بنایا جائے گا ان میں جیو نیوز،دی نیوزاورآج ٹی وی شامل ہیں۔ہمارے گروپ ایڈیٹر شاہین صہبائی کے سامنے شاید میڈیا کیخلاف کئے جانے والے اقدامات کی واضح تصویر موجود ہے لیکن اپنے مزاج کے پیش نظر انہوں نے یہ راز خود تک ہی محدود رکھے۔ سید طلعت حسین نے ایوان صدر کی پشت پناہی کے حامل کچھ کاروباری افراد سے اپنی حالیہ گرما گرم ہونے والی بحث کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان افراد کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان میں موجود تمام برائیوں کی جڑ میڈیا ہے۔ ان صاحب کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ انہوں نے نو مارچ دو ہزار سات کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی برطرفی کو باقاعدہ جشن کی طرح منایا تھا کیوں کہ انکے خیال میں معزول چیف جسٹس نے انکے ارمانوں پر اوس ڈال دی تھی۔ان صاحب کے مطابق یہ سب کیا دھرا میڈیا کا ہے اور اس ولن کے کردار والے میڈیا کو کچل دینا چاہیے۔ ”اے آر وائی “کے” کاشف عباسی“ نے بھی اس سلسلے میں خود پر ڈالے جانے والے دباؤ کے حوالے سے بتایا۔ اس دوران دبئی سے ڈاکٹر شاہد مسعود نے واضح کیا کہ انہوں نے اپنے مقبول پروگرام ”میرے مطابق میں رحمن ملک کا بطور خاص ذکر کیوں کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ مجھے اسلام آباد کے گذشتہ دورے کے دوران آصف زرداری کی موجود گی میں رحمن ملک کی جانب سے کھلی دھمکیاں دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ”صورتحال یقینی طور خطرناک ہو چکی ہے“،انہوں نے مزید بتایا کہ رحمن ملک نے میڈیا کے ”مکوں“کے جواب میں ”اپنے مکوں “کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ رحمن ملک نے خود کو اسٹیبلشمنٹ کے طور پر متعارف کرایا اور تما م خفیہ اداروں کا ماسٹر کہا ۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ ”میرے لئے یہ سب کچھ حیران کن تھا“ ۔ڈاکٹر شاہد مسعود نے محترمہ بینظیر بھٹو کی آزاد میڈیا کیلئے کئے جانے والی کوششوں اور خصوصی طور پر تین نومبر سن دو ہزار سات کے بعد کئے جانے والے اقدامات کاذکر کیا، ان کا کہنا تھا کہ لیکن اب تمام معاملات بدل چکے ہیں صورتحال تبدیل ہو چکی ہے۔ میڈیا ریاست کا سلامت رہ جانے والا واحد ستون ہے لیکن اسے بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ ریاست کا دوسرے اہم ستون عدلیہ پہلے ہی جنرل پرویز مشرف کے تین نومبر کو کئے جانے والے اقدامات نے مفلوج کردیا۔ نئی حکومت پہلے ہی بے یقینی اور اعتماد کے فقدان کا شکار ہیں۔انتظامیہ کا کہیں وجود نہیں اور وہ سابق فوجی حکومت کی باقیات کے اسٹیٹس کو کی یرغمال بنی ہوئی ہے۔کیا کوئی ایسا ہے جوآج جمہوریت کے دعوے داروں اورہماری تقدیر کے آقاؤں سے یہ پوچھے کہ وہ کن بنیادوں اور وجوہات کی بناء پر ملک کو چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ کیا کوئی ریاست ان اہم ستونوں کے بغیر بھی قائم رہ سکتی ہے؟ کیا ملک چلانے کیلئے ہمارے حکمرانوں کے پاس کوئی نیا وژن ہے جو کہ اس دنیا کے تجربات سے ہٹ کر ہے؟ کیا ہم دنیا کے سامنے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں ہم حقیقتا بنانا ریپبلک ہیں ؟



Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.