جیو کو ججوں کی بحالی سے متعلق کوئی پروگرام نہ کرنے کی ہدایت

پاکستان کے مقبول ترین ٹیلی ویژن نیٹ ورک جیو سے کہا گیا ہے کہ وہ اعلیٰ عدالتوں کے جج صاحبان کی بحالی کے سوال پر کوئی پروگرام نہ کریں اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی تذکرہ کریں۔ دبئی سے اپنی نشریات پیش کرنے والے اس ٹیلی ویژن نیٹ ورک کو باضابطہ طور پر اس بارے میں آگاہ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ جیو نے اعلیٰ عدالتی ججوں کی برطرفی اور ان کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کے بارے میں اپنے ناظرین کو پوری صورتحال سے باخبر رکھنے کے لئے جامع پروگرام، مذاکرے اور خبروں کے خصوصی بلیٹن پیش کئے ہیں یہ سلسلہ نو مارچ سن دو ہزار سات سے شروع ہو گیا تھا جب پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو برطرف کیا گیا تھا۔ وہ بحال ہوئے انہیں پھر دیگر سینئر جج صاحبان کے ساتھ معزول کر دیا گیا اور حراست میں لے لیا گیا ان تمام واقعات کے تناظر میں وکلا، میڈیا معاشرے کے با شعور طبقوں اور محب وطن سیاسی جماعتوں نے ملک گیر تحریک چلائی جس کی بے لاگ خبروں اور تبصروں کے لئے جیو نے زبردشت شہرت حاصل کی اور دنیا بھر میں جیو کے اس کردار کو بے حد سراہا گیا۔ اس دوران ایک موقع پر جیو اسلام آباد کے دفتر پر حملہ کیا گیا جس میں جیو کے کارکنوں کو نشانہ بھی بنایا گیا۔ معلوم ہوا ہے کہ جیو کے ناظرین کے پسندیدہ پروگرام ڈاکٹر شاہد مسعود کے ”میرے مطابق“ حامد میر ”کیپٹل ٹاک“ اور مزاحیہ پروگرام ”ہم سب امید سے ہیں“ کے بارے میں بھی حکومتی بے چینی سے آگاہ کیا گیا ہے یہی نہیں روزنامہ ”جنگ“ اور ”دی نیوز“ کے انصار عباسی اور دیگر چار رپورٹرز اور تجزیہ نگاروں کی رپورٹنگ کے ضمن میں بھی حکومتی حلقوں کی طرف سے عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا۔



Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.