میڈیا کسی جج کی تصویر اور خبر بغیر اجازت نشر یا شائع نہیں کر سکے گا،سپر یم کورٹ کا حکم
سپریم کورٹ نے تمام ٹی وی چینلز اور اخبارات کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی اجازت کے بغیر کسی جج کی خبر شائع / نشر کریں اور نہ ہی کسی جج کی تصویر شائع / نشر کی جائے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے یہ احکامات توہین عدالت کے از خود نوٹس کیس، جو جیو نیوز کے اسلام آباد میں بیورو چیف ابصار عالم کے خلاف لیا گیا تھا، کے بعد جاری کئے گئے ہیں۔ یہ از خود نوٹس جیو نیوز پر آٹھ مئی کی شام چلنے والے اس نیوز ٹِکر کے بعد لیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر، جسٹس نواز عباسی، جسٹس فقیر محمد کھوکھر اور سیکریٹری داخلہ سید کمال شاہ کے درمیان ملاقات ہوئی ہے۔ تاہم سپریم کورٹ نے یہ پایا کہ جیو نیوز پر مختصر وقت کیلئے چلنے والے ٹِکر، جن میں مزید کوئی تفصیل نہیں دی گئی تھی اور اس میں مناسب طور پر علیحدہ سے سیکریٹری داخلہ اور سپریم کورٹ کے پی آر او کا موقف بھی پیش کیا گیا تھا، ججوں کو اسکینڈلائز کرنے اور عدالت کو ایکسپلائٹ کرنے کی کوشش تھی جو کہ آئین کے آرٹیکل انیس کی صریح خلاف ورزی ہے۔ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ابصار عالم کو بارہ مئی کی صبح ساڑھے نو بجے ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ اس حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کریں کہ مذکورہ خبر کا ذریعہ کیا تھا اور آخر کس بنیاد پر مذکورہ نیوز آئٹم نشر کیا گیا۔ شریف الدین پیرزادہ، عبدالحفیظ پیرزادہ اور وسیم سجاد کو اس اہم مقدمے میں، جس میں آئین کے آرٹیکل انیس کے تحت دیئے گئے بنیادی حقوق پر بحث و مباحثہ ہوگا، سپریم کورٹ کی معاونت کیلئے معاون خصوصی مقرر کیا گیا ہے۔ روزنامہ ”جنگ“ کے رپورٹر، ایڈیٹر اور پبلشر کو بھی وہی خبر شائع کرنے پر پیر کو سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہونے کیلئے طلب کرلیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو عدالت کے احکامات سے متعلق کسی بھی قسم کی خبر سپریم کورٹ کے پی آر او سے اس کے اجزاء کے درست ہونے اور اس کی تصدیق کے بغیر شائع یا نشر کرنے پر پابندی عائد کرنے کو مناسب سمجھا ہے۔ ”جیو“ اور دیگر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو دی گئی ہدایات سے صحافیوں، وکلاء، سول سوسائٹی کے ارکان اور عوام میں اس مقدمے سے متعلق بہت دلچسپی پیدا ہوگئی ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو جاری ہونے والی مذکورہ بالا ہدایات اس ہی اظہار وجوہ کے نوٹس کے ذریعے دی گئی ہیں جو جیو نیوز اسلام آباد کے بیورو چیف ابصار عالم کو جاری کیا گیا تھا۔
|