مذاکرات ناکام ،آئند ہ لائحہ عمل اعلان آج کر ینگے ،نواز شر یف
ججوں کی بحالی کے حوالے سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان جاری مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں جس کے بعد نواز شریف نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ لائحہ عمل کا اعلان آج کیا جائے گا۔ امکان ہے کہ نواز لیگ آج وفاقی کابینہ سے علیحدگی کا اعلان کردے۔ تاہم پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ وہ پنجاب حکومت سے علیحدہ نہیں ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق امریک نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر سے ملاقات کے بعد مسلم لیگ کے صدر میاں شہباز شریف اور خواجہ آصف اور پیپلز پارٹی کے رحمن ملک اور حسین حقانی پر مشتمل وفود نے اتوار کو دوبارہ دو مرتبہ ملاقات کی تاکہ ججوں کی بحالی پر اختلافی امور کو طے کیا جا سکے۔ ملاقات میں امور طے نہیں ہوسکے جس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ججوں کی بحالی کے طریقہ کار کے بعض نکات پر اختلاف رائے ہے اور آج کی میٹنگ میں بھی یہ اختلافات ختم نہیں ہوسکے، اب مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس پیر کو (آج) اسلام آباد میں ہو رہا ہے جس میں مذاکرات میں ہونے والی باتیں رکھی جائیں گی اور لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ بارہ مئی کی ڈیڈ لائن کی پابند ہے اور اس وقت تک پیپلز پارٹی کے فیصلہ کا انتظار کریں گے، ہم نے سنجیدگی سے کوشش کی کہ اختلافی امور طے ہو جائیں۔ میاں شہباز شریف نے کہا کہ اگر اتفاق رائے نہ ہوا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ پارٹیاں ایک دوسرے کو توڑ رہی ہیں،تعاون جاری رہے گا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے حسین حقانی نے کہا کہ دونوں جماعتوں میں مفاہمت کا جذبہ ہے نکتہ نظر میں فرق کو مل جل کر حل کرنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی ایک آزاد عدلیہ دیکھنا چاہتی ہے، ہمارے مذاکرات جاری ہیں اور تعاون بھی جاری رہے گا۔ رحمن ملک نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے دل مل چکے ہیں پیپلز پارٹی ہر کام قانون اور آئین کے دائرہ میں رہ کر کرنا چاہتی ہے۔ دوسری جانب مذاکرات کی ناکامی کے حوالے سے میڈیا سے بات چیت کرے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا کہ ججز کی بحالی کے معاملے کو حل کرنے کیلئے ہماری مخلصانہ کوششیں آخری وقت تک جاری رہیں، لیکن معاملہ کسی نہج پر نہیں پہنچ سکا، ہم ججز کی بحالی باعزت طریقے سے چاہتے تھے، مذاکرات ہفتے کے روز بھی ہوئے اور اتوار کو بھی ہوئے آخری وقت تک کوششیں جاری رہیں کہ اتحاد بھی برقرار رہے اور ججز بھی بحال ہوجائیں، اب چونکہ معاملہ حل نہیں ہوسکا تو ہم آج پاکستان پہنچیں گے۔ اس سوال پر کہ کیا وہ وزارتوں سے علیحدہ ہو کر سیاسی طور پر پیپلز پارٹی کے ساتھ چلتے رہیں گے، کے جواب میں میاں نوازشریف نے کہاکہ وہ اپنی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بات کریں گے اور اس کے بعد سینٹرل ورکنگ کمیٹی کا اجلاس بھی ہے اور اگلی باتیں وہیں کریں گے ایک سوال پر میاں نوازشریف نے کہاکہ مری اور دبئی میں جس معاہدے پر دستخط ہوئے اس میں تیس روز کی بات ہوئی تھی، ہم تیس دن کے پابند تھے، اس کے بعد دبئی میں مزید بارہ دن کا اضافہ ہوا، اس کے بھی ہم پابند تھے۔ دوسری جانب برطانوی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے میاں نواز شریف نے کہا کہ میں اپنی اہلیہ کے علاج معالجے کیلئے لندن آیا تھا، زرداری صاحب بھی یہاں پر تشریف لائے ان سے بھی بات ہوئی۔ دبئی میں جو ہماری گفتگو مکمل ہوئی تھی اس میں انہوں نے مجھے اس بات کا اختیار دیا تھا کہ میں ان کی طرف سے جا کر پریس کانفرنس کے ذریعے تاریخ کا اعلان کر دوں کہ بارہ مئی کو ہم ججوں کو ایک قرارداد کے ذریعے بحال کریں گے۔ میں نے گفتگو مکمل ہونے کے بعد بارہ تاریخ کا اعلان کیا، اب ہم بھی بارہ تاریخ کے پابند ہیں اور زرداری صاحب بھی۔ لیکن اب جو دونوں جماعتوں کے درمیان ملاقاتیں ہوئی ہیں وہ بے نتیجہ رہی ہیں، غالباً دبئی میں جو بات چیت ہوئی تھی ہم اس سے بھی شاید کچھ پیچھے چلے گئے ہیں۔ رچرڈ باؤچر سے ملاقات کے حوالے سے میاں نواز شریف نے کہا کہ ہم نے کوئی مشورہ مانگا اور نہ انہوں نے کوئی مشورہ دیا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ جس مقصد کے لیے اتحاد بنا تھا اس مقصد کو ہم حاصل کرتے، کسی منفی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہم نے اتحاد نہیں بنایا تھا، اتحاد اس دن بنا تھا جب میں نے اور محترمہ بینظیر بھٹو نے میثاق جمہوریت پر دستخط کیے تھے، اب اس دستاویز کو عملی جامہ پہنانے کا موقع آیا ہے، ہمیں مصلحتوں کا شکار نہیں ہونا چاہئے، عوام نے اٹھارہ فروری کو جو فیصلہ دیا ہے اس کی رْو سے یہ تبدیلی کا مینڈیٹ ہے، عوام ججوں کو بحال ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں، وہ پرویز مشرف کو صدر نہیں دیکھنا چاہتے، وہ اپنے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ یہی وہ مینڈیٹ ہے جو عوام نے ہمیں اور پیپلز پارٹی کو دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی بحالی، اتحاد کی بقاء اور روٹی، کپڑا، مکان جیسے مسائل ایک ساتھ منسلک ہیں، یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ ایک کو چھوڑ دیں اور دوسرے کو پکڑ لیں، اس وقت جو سب سے پہلا کام کرنے والا ہے وہ لوگوں کی بیروزگاری، مہنگائی، غربت کے خاتمے کا ہے، بجلی کا بہت بڑا بحران ہے جو ان چند دنوں کا نہیں ہے۔ یہ پچھلے آٹھ سالوں کا پیدا کردہ ہے، لیکن اس کا بہت قریبی تعلق ہے معاشرے کے انصاف سے، معاشرے میں انصاف نہیں ہوگا، کہاں سے روٹی ملے گی، کہاں سے غربت، بیروزگاری ختم ہو گی، کہاں سے گْڈگورننس آئے گی، میرٹ کی حکمرانی کہاں سے آئے گی۔ ان سب چیزوں کیلئے آزاد عدلیہ کی ضرورت ہے جس کے بغیر خود پاکستان محفوظ نہیں۔ اس کے بغیر یہ آمریت پسند جرنیلوں سے پٹتا رہے گا۔
|