|
پاکستان۔۔۔ یہودوہنود کی سازشوں کی زد میں - سید احمد علی رضا
دہشت گردی کیخلاف نام نہاد جنگ میں شمولیت کے بعد سے پاکستان 36ارب ڈالر کا نقصان اٹھا چکا ہے جبکہ امریکہ سے اب تک پاکستان کو بمشکل10 ارب ڈالر ملے ہیں۔ اگلے 5 سال کے دوران مزید ساڑھے7 ارب ڈالر ملنے کی امید ہے لیکن اس امداد کا جھانسہ دے کر فنڈز خرچ کرنے کے نظام کی نگرانی کے نام پر امریکہ نے اسلام آباد میں اپنی خفیہ ایجنسیوں، فوج اور دیگر اداروں کا وسیع و عریض نیٹ ورک قائم کرلیا ہے۔ گزشتہ روز امریکی سفیر این پیٹرسن نے اعتراف کیا کہ امریکہ اسلام آباد میں 200مکان کرائے پر لے چکا ہے سفارت خانے میں توسیع کرکے میرینز کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ امریکی سفیر نے انکی تعداد کم بتائی مگر دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط انکی تعداد ایک ہزار ظاہر کر چکے ہیں۔ بدنام زمانہ تنظیم ’’بلیک واٹر‘‘ کے اہلکاروں کی اسلام آباد اور پشاور میں موجودگی اور ان کے لئے 3سو بلٹ پروف گاڑیوں کی پورٹ قاسم پر پہنچنے کی اطلاعات منظر عام پر آچکی ہیں یہ پراجیکٹ سی آئی اے کا ہے جس کا مقصد القاعدہ اور طالبان کے اہم لیڈروں تک رسائی حاصل کرنے اور ہمارے ایٹمی اثاثوں پر نظر بد رکھنا ہے۔ اس سے نہ صرف پاکستان کی خودمختاری ختم ہو کر رہ گئی ہے بلکہ سلامتی کو درپیش خطرات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں ڈرون حملوں اور دیگر اقدامات کی وجہ سے امریکہ کیخلاف نفرت کا اعتراف امریکی سفیر کے علاوہ رچرڈ ہالبروک اور مائیک مولن بھی کر چکے ہیں اس لئے اتنی بڑی تعداد میں امریکیوں کی وفاقی دارالحکومت میں موجودگی بذات خود سیکورٹی مسائل کا باعث بنی رہے گی اور عام شہریوں کی زندگی کو بھی خطرات لاحق رہیں گے۔ دوسری طرف انڈیا نے1998میں کئے جانے والے ایٹمی تجربات کو ناکام قرار دے کر پھر سے ایٹمی تجربات کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔
قارئین۔۔۔ بھارت پر علاقائی سپرپاور بننے اور تمام ہمسایہ ممالک پر اقتصادی سیاسی اور فوجی بالادستی قائم کرنے کا جو بھوت سوار ہے اس نے تنگ نظر برہمن قیادت کو ایٹمی پروگرام کی راہ دکھائی۔ پاکستان نے 1965 اور 1971 کے تلخ تجربے کی بنا پر اس بھارتی ایٹمی پروگرام کو پاکستان اپنے خلاف سمجھتا ہے اس لئے بھارت کے ایٹمی قوت بننے پر اس نے بھی بادل نخواستہ نیوکلیئر قوت بننے کا فیصلہ کیا مگر بھارت کو جوہری صلاحیت کے حصول میں مدد دینے والے ممالک بالخصوص امریکہ و برطانیہ نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا ’’اسلامی بم‘‘ کا شوشہ چھوڑ کر خوب مخالفت کی اور ایسی پابندیاں عائد کیں کہ ایک اسلامی ریاست کبھی بھی ایٹمی قوت نہ بن سکے۔ امریکہ و یورپ کی مخالفت بے جا پابندیوں اور منفی پروپیگنڈے کے علاوہ اقتصادی و معاشی مشکلات کے باوجود محدود وسائل کے ساتھ پاکستان 1982 میں ایٹمی قوت بن گیا اور وہ1998میں5بھارتی تجربات کے جواب میں6 ایٹمی دھماکے کرکے نیوکلیئر کلب کا غیراعلانیہ رکن بن گیا۔ جو پاکستان کے ایٹمی سائنس دانوں بالخصوص یورینیم کی افزودگی میں اہم کردار ادا کرنے والے’’محسن پاکستان‘‘ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ان کی ٹیم اور اٹامک انرجی کمیشن سے وابستہ قابل فخر ایٹمی ماہرین کی بڑی کامیابی تھی۔ پاکستان کا ایٹمی قوت بننا ہنود و یہود کیلئے سوہان روح بن گیا تب سے اب تک پاکستان منفی پروپیگنڈے اور امتیازی قوانین کی زد میں ہے۔ پاکستان کو مسلسل حالت جنگ میں رکھنا یہودوہنود کی پاکستان کوسیاسی، معاشی اور اقتصادی عدم استحکام کا شکار کرنے اور پاک فوج کو اپنے ہی عوام کیخلاف الجھائے رکھنے کی سازش ہے۔ امریکہ نے اب تک پاکستان سے جو کام لیا ہے اس کے عوض ہمیں ناروا شرائط کے ساتھ آئی ایم ایف کے قرضوں میں اضافے، قومی سطح پر ہیجان، خلفشار اور سلامتی کے مسائل کے سوا کچھ نہیں ملا۔ فرینڈز آف پاکستان کے اجلاس گزشتہ ایک سال سے جاری ہیں مگر پاکستان کو ایک پائی کی امداد نہیں ملی۔ امریکی قرضے اور امداد بھی قبائلی علاقوں میں اپنے کلمہ گو بھائیوں کیخلاف کارروائیوں سے مشروط ہیں اور یہ حقیقت بھی ناقابل تردید ہے کہ سوات کی طرح قبائلی علاقوں میں حالات کی خرابی میں امریکی بھارتی اور اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں کا کردار ہے تاکہ پاک فوج مسلسل پھنسی رہے اور شیطانی اتحاد ثلاثہ ہمارے ایٹمی پروگرام اسلامی تشخص اور قومی سلامتی کیخلاف اپنی سازشوں کو یکسوئی سے پروان چڑھا سکے۔ پاکستان کو اس وقت’’ را،سی آئی اے اور ’’موساد‘‘ کے ایجنٹوں کی تخریب کاری ،سوات ،مالا کنڈ، فاٹا اور صوبہ سرحد کے علاوہ بلوچستان میں دہشتگردوں اور عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں سے نمٹنے کا سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے۔ امریکہ جس برے طریقے سے پاکستان میں پاؤں پھیلا چکا ہے۔ بلیک واٹر تنظیم کے اہلکار اسلام آباد اور پشاور میں دندناتے پھر رہے ہیں ۔ امریکی فوجی دھڑا دھڑپاکستان آرہے ہیں۔ ان امریکیوں کی طرف سے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔ اب جبکہ پاک فوج کو عوام کے علاوہ سیاسی و جمہوری قوتوں کے خوشدلانہ تعاون کی وجہ سے دہشت گردوں کے خلاف سوات میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ پاکستان کے قومی مفادات اور دفاعی حکمت عملی کا تقاضہ ہے کہ پاک فوج امریکہ اور برطانیہ کی خواہش کے مطابق جنوبی وزیرستان کی دلدل میں پھنسنے کے بجائے اپنی کامیابیوں کو مستحکم کرنے اور واپسی کی حکمت عملی طے کرنے پر توجہ دے اور امریکہ برطانیہ کی طرف سے مدد کے جھانسے میں نہ آئے۔ حکومتِ پاکستان کو امداد کی مزید اپیلوں کے ذریعے امریکہ و یورپ کو یہ تاثر نہیں دینا چاہئے کہ ہم انکی جنگ پیسے لے کر لڑنے کیلئے بےتاب ہیں اور معمولی خیرات کے عوض جذبہ جہاد سے سرشار فوج کو امریکہ کے مخالفین کی سرکوبی کیلئے بآسانی استعمال کر سکتے ہیں۔ امریکہ کا ایجنڈا اب کسی سے مخفی نہیں رہا وہ اسلام مسلمانوں اور پاکستان کے دشمنوں بھارت اور اسرائیل کا آزمودہ دوست اور خیرخواہ ہے۔ پاکستان کی ایٹمی تنصیبات تک رسائی، چین اور ایران کا گھیراؤ کرنے کیلئے پاکستان میں سفارت خانے کی توسیع کی آڑھ میں فوجیوں اور جاسوسوں کی چھاؤنیاں بنائی جا رہی ہیں اور دنیا میں یہ تاثر پختہ ہو رہا ہے کہ پاکستان امریکہ کی کالونی ہے جس کا وائسرائے ہالبروک اسلام آباد میں بیٹھ کر سیاسی اور اقتصادی معاملات پر احکامات جاری کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اب امداد مانگنے کے بجائے اس ’’پرائی جنگ‘‘ سے نکلنے کی حکمت عملی وضع کی جائے جس پر اپنے پاس سے36 ارب ڈالر خرچ کرکے ہم نے رسوائی و عدم استحکام کی جو خریداری کی ہے سراسر خسارے کا سودا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت کے ممکنہ ایٹمی تجربات کا بھرپور جواب دینے کی تدبیر اور امریکی مداخلت کو روکنے کیلئے فوری اقدامات کئے جانے چاہئیں تاکہ ملک کا دفاع اور سلامتی کسی قسم کے خطرے سے دوچار نہ ہو۔
|