انتخابات دو ہزار آٹھ کے بعد: پاکستانی سیاست کا نیا چہرہ -   محمد بن قاسم

سابقہ حزبِ مخالف کے اب کامیاب افراد کو کن خواہشات سے ترغیب مل رہی ہے، اور شکست کھانے والوں اور نئی حکومت کو کن چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔۔۔ آپ کے لیے ایک بھرپور تجزیہ۔۔۔۔

پاکستانی انتخابات دو ہزار آٹھ کے نتائج دلچسپ اور کسی حد تک غیر متوقع بھی ثابت ہورہے ہیں۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستانی عوام نے ملک میں موجود معاشی، سیاسی، اور امن و امان کی صورتِ حال کی بناء پرسابقہ حکومت کے رہنماؤں کے کارناموں کو بھی نظر انداز کردیا ہے۔ ایک فلسفیانہ کہاوت ہے کہ ”دنیا میں صرف تبدیلی ہی کو ثبات حاصل ہے“۔ چنانچہ یہ ”ثبات“ پا کستانیوں کو حاصل ہوگیا ہے۔ اس صورتِ حال میں سب سے دل چسپ یہ امر ہے کہ پاکستانی فوج اور اس کے چند روز پہلے تک کے اصلی سربراہ جناب ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے قوم کے ساتھ کیا گیا اپنا صاف و شفاف، غیرجانبدار، اور بروقت انتخابات کاوعدہ بخوبی نباہ دیا۔ جو گرگِ باراں دیدہ ہیں اور تاریخ پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں وہ اس خوف میں مبتلا تھے کہ کہیں یہ انتخابات بھی انیس سو ستر جیسے نتائج لاکر قوم کو ایک بار پھر بربادی کی جانب گامزن نہ کردیں۔ تاہم ملک میں ایک سے زیادہ سیاسی پارٹیوں کی کامیابی نے انیس سو ستر کی یک طرفہ جیت کو خواب وخیال میں تبدیل کرکے میدانِ سیاست میں کھیل کوازحد دلچسپ بنادیا ہے۔ اب ملک میں کسی ایک پارٹی کو اپنی آمریت مسلط کرنے کے مواقع محدود ہوجائیں گے۔ مخلوط پارٹیوں کی حکومت میں رہنماؤں کو وسیع تر بنیاد پر عوامی خواہشات اور ملکی مفادات کا خیال رکھنا پڑتاہے۔ مثلا بھارت میں امریکہ کے ساتھ حالیہ ایٹمی معاہدہ میں بھارتی کمیونسٹ سیاستدانوں نے اڑچن ڈالی، اور یہ ایک اہم معاہدہ جو بھارت کے مفاد اور اس کی علاقہ میں ایٹمی چوہدراہٹ کے لیے بہت ہی مفید ہوگا تاخیر کا شکار ہوگیا۔ جب کہ پاکستان کی تاریخ ہر کھلی آنکھ اورذہن کو صاف صاف بتاتی ہے کہ انیس سو ستر میں یک حزبی سیاسی قوت نے مشرقی اور مغربی پاکستان، دونوں حصوں میں ایسا ذہن پیداکردیا جو قطعی عدم لچک پر قائم رہا، اور آخرکار اس خطہ میں ہندوؤں کی بالادستی کے خلاف دوقومی نظریہ کی بنیاد کو ٹھیس پہنچاگیا۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کی حربی تاریخ کی سب سے بڑی شکست اور توہین وجود میں آگئی، اور اندرا گاندھی نے وہ تاریخی الفاظ( آج ہم نے مسلمانوں سے ایک ہزار سال کا بدلہ لے لیا ہے) کہے جن کی وجہ سے پاکستان کو آخرکار ایٹمی طاقت بننا پڑا (یہ ہی وہ لمحہ تھا جب کہ محسن پاکستان، جناب ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب نے دل میں یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنا کر چھوڑیں گے، اور اس ہی جذبہ کی بنیاد پر انھوں نے از خود اپنی خدمات اس وقت کے وزیراعظم کو فراہم کیں)۔

متحدہ پاکستان کے انیس سو ستر کے زمانہ کے چرب زبان سیاستدانوں نے مشرقی اور مغربی پاکستان دونوں خطوں میں عوام کو آفاقی اقدار کی تبلیغ کے بجائے اتھلی اور نابینا قلیل المدتی، فوری مفاد کی اقدار کو فروغ دیا۔ اس صورتِ حال سے ان عاقبت نا اندیش افراد نے ”ایک نیا لنگڑا پاکستان“ تخلیق کردیا، اورصوبائی خود مختاری کے کھوکھلے نعروں کی وجہ سے مغربی پاکستان میں پنجاب کے علاوہ ہر صوبہ میں علاقائیت کی تحریکوں کو مزید مہمیز ملی۔ آج بلوچستان اور سرحد میں برپا رہنے والی شورشوں کے ڈانڈے اس دور سے بھی جاملتے ہیں۔ آفاقیت اور متحدہ پاکستان سے ہماری سیاسی پارٹیوں کو کتنی دلچسپی تھی، اس کا اندازہ اس سادہ سی حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی نے جو اس وقت بھی مشتبہ اور دلکش مگر کھوکھلے نعروں (روٹی ، کپڑا، مکان) او ر حکومت پر مبہم الزامات (معاہدہ تاشقند کی تھیلہِ میں بلّی!) کی بنیاد پر مقبولیت پارہی تھی، اس نے مشرقی پاکستان میں اپنا ایک بھی امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا، اور ابتداء ہی سے اس کی نیت اور علاقائی سیاست کی سمت کا اندازہ لگایا جاسکتاتھا۔ چنانچہ اس تاریخ کے پیشِ نظر حالیہ انتخابات پاکستان کے لیے ایک نعمت لے کر آئے ہیں۔ اب حکومت چلانے کے لیے زیادہ تر سیاسی قوتوں کو آپس میں نئے سیاسی معاہدات کرنے پر مجبورہونا پڑے گا۔ جہاں تک پاکستان پیپلز پارٹی کا تعلق ہے تو اس کے لیے قومی مفاہمتی آرڈیننس کو بچانا سب سے اہم ہے۔ اس معاملہ سے ان کا جو مالی مفاد وابستہ ہے وہ اس قدر بڑی نوعیت کا ہے کہ اس کی خاطر وہ ہر حد کو جانے کو تیار رہے گی۔

مرحومہ بےنظیر کے ایک کالج کے زمانہ کے دانشور دوست، اور مشہورعالم معیشت دان جان گالبرائتھ کے فرزند، پیٹرگالبرائتھ نے محترمہ کی شہادت کے فوری بعد یہ پیشگوئی کی کہ پی پی پی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کئی دھڑوں میں تقسیم ہوجائے گی۔ چنانچہ، اب یہ نظر آرہا ہے کہ اس معاملہ کے لیے ایندھن اس قسم کے واقعات سے فراہم ہوجائے گا، جیسا کہ مرتضٰی بھٹو مرحوم کی بیوہ غنوٰی بھٹو کے ساتھ ایک سینیئر پی پی پی رہنما کی بدسلوکی سے ہوا۔ بھٹو خاندان کی ابھرتی ہوئی نوجوان دانشورہ فاطمہ بھٹو اپنی والدہ کی توہین برداشت نہ کرسکے گی، اور یہ صرف کچھ وقت کی بات ہے کہ وہ ایک دھماکہ کے ساتھ میدانِ سیاست میں کود پڑے گی۔ دوسری جانب نواز شریف کا مسلم لیگ کا دھڑا اپنے سابقہ سیاسی معاہدات کی پاسداری پر مجبور رہے گا، اور یہ کیفیت اسے پی پی پی کے ساتھ کام کرنے کا دوستانہ بہانہ فراہم کررہی ہے۔ فوجی نرسریوں و باغات کے گملوں میں اُگ کر نشوونما پانے والے پپو لیڈر نوازشریف کی قیادت میں کام کرنے والے مسلم لیگیوں کو البتہ نواز شریف کی اس ذہنی کیفیت کا جلد ہی ادراک ہوجائے گا، جو ان کے تمام تر دعوؤں کے باوجود ذاتی ایجنڈے پر مبنی اور کسی حد تک انتقامی خواہشات پر مبنی ہے۔ اور یہ ہی عنصر صدرِ پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنا رہےگا اور نواز شریف کی نفسیات، بیانات وغیرہ کا ایک سرسری مطالعہ یہ انکشاف کرتا ہے کہ وہ قدم جماتے ہی جلد یا بدیر صدرِ پاکستان کے مواخذہ کی کارروائی شروع کرڈالیں گے، تاکہ وہ اپنے انتقام کی ا س آگ کو ٹھنڈا کرسکیں جو اکتوبر انیس سو ننانوے سے ان کے اور ان کے لوہاری خاندان کے فولادی سینوں کی بھٹیوں میں دہک اور لپک رہی ہے۔ مشرف صاحب کی مفاہمت پر مبنی حکومت کی ساخت اور اس کی کارکردگی میں یہ ہی راستہ کا سب سے بڑا پتھر ثابت ہوگا۔

اگر کسی جادو سے مسلم لیگ کے تمام دھڑے متحد ہوجائیں تو وہ مستقبل میں پی پی پی کے سامنے ایک قابلِ قدر متبادل نظریاتی قوت بن کر ابھر سکتے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کو اب سندھ میں ایک نہایت ہی دلچسپ صورتِ حال کا سامنا ہے۔ اس کی اور مسلم لیگ قائد اعظم کی مل جل کر ایسی حیثیت بنتی جارہی ہے کہ وہ چاہے تو پی پی پی کی خواہشات کے خلاف اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد علیحدہ تعمیر کرلے، اورایک طاقتور اپوزیشن بن کر بیٹھ جائے۔ مگر بے نظیر کی رنجیدہ موت کے بعد پیداہونے والی صورتِ حال میں ایم کیو ایم کو غیر شہری و دیہی سندھیوں کے جذبات کا خیال رکھنا زیادہ اہم محسوس ہوتاہے، اور پی پی پی کا ساتھ نہ دینے کی صورت میں ایم کیوایم کے زیرِ اہتمام ترقیاتی منصوبوں پر بھی زد پڑے گی۔ پی پی پی کا ماضی دیکھتے ہوئے یہ امر یقینی ہے کہ وہ سندھ میں اپنی حکومت سازی کرنے کے بعد ایم کیوایم کی مقبول، سماجی، معاشی اورطویل المدت منصوبہ سازی، بڑھتے ہوئے سیاسی عزائم اور کارکردگی کو باآسانی نہ نگل سکے گی۔ اس کے علاوہ پی پی پی کی سیاست کا ایک انداز یہ بھی ہے کہ وہ پولیس تھانہ کی سطح پر اپنا قابو رکھنا پسندکرتی ہے، چنانچہ اس ضمن میں خاصی اٹھاپٹخ دیکھنے میں آئے گی، اور پولیس اور عدلیہ کا سیاسی استعمال بھی روزمرہ کا معمول بن جانے کا ڈر رہے گا۔ ایک عرصہ کے بعد طاقت کے سرچشمہ تک پہنچ جانے والے پی پی پی کے کارکن اور جیالے اپنے کرشمے دکھانے پر تل جائیں گے۔ چنانچہ، یہاں ایم کیوایم سخت مشکل میں گرفتار رہے گی۔ اگر قائد لیگ کا ساتھ نہ دے تو وہ اپنے ماضی کے کردار کا کس طرح دفاع کرسکے گی! کسی نئی دھڑے بندی کے لیے ایم کیو ایم کے لیڈروں کو اپنے حامیوں کی فوری ذہن سازی کرنا ہوگی، جس کے لیے وقت پر لگا کراُڑاجارہا ہے۔ کیونکہ انیس سو بانوے میں شروع کی جانے والے مہاجر اور اہلِ اردو زبان کے خلاف خونی اور ظالمانہ طویل المدت کارروائیاں بھولی نہیں جائیں گی۔ دوسری جانب ایم کیو ایم ایک وسیع تر بنیاد’ کُل پاکستان‘ پارٹی بننے کی جو جدوجہد کررہی ہے وہ کسی بھی علاقائی مفادات پر مبنی فیصلوں سے ایک حد تک کمزور پڑے گی۔ مگر ایم کیو ایم کے دانش ور اور تعلیم یافتہ رہنماؤں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس بارے میں اپنے حامیوں اور قوم کو اچھی طرح اعتماد میں لےکر آگے بڑھیں گے۔

ایم کیو ایم اپنی معاشی اور سماجی کارکردگی کی بناء پر جو ووٹ طلب کررہی تھی، اسے اپنی تمام تر کامیابیوں کے باوجود کراچی کے پس ماندہ اور جرائم کے گڑھ ، لیاری، سے ایک دھچکا پہنچا ہے۔ ایم کیوایم نے لیاری کے لیے قیام پاکستان کے بعد پہلی مرتبہ وہ کام کردکھایا ہے جو وہاں سے جیتنے والی پی پی پی بھی کبھی نہ کرسکی تھی۔۔۔ وہ ہے گھر، گھر، پانی کی فراہمی۔ تاہم لیاری کے سخت زندگی گزارنے والے باشندوں نے اس اہم کامیابی اور سہولت کو چنداں درخورِ اعتناء نہ سمجھا اور ایک مرتبہ پھر پی پی پی کے امیدوار کو برادری، جرائم کی سرپرستی، اور دیگر روایتی بنیادوں پر ووٹ ڈال دیئے۔ کراچی میں رہنے والے صوبہ سرحد کے باشندوں نے اپنی چند مخصوص بڑی بستیاں بھی آباد کررکھی ہیں، جن میں متنازعہ غیرقانونی آبادیاں بھی شامل ہیں۔ اے این پی کے کچھ عاقبت نا اندیش مقامی رہنما لسانیت اور علاقائیت کے بھوت کو ایک مرتبہ پھر شہر میں فعال کرنے کی کوششیں کررہے ہیں۔ اس ضمن میں حالیہ انتخابات میں عوامی نیشنل پارٹی نے پی پی پی کے ساتھ مک مکا کرکے ایسے ہی دو حلقوں میں اپنے پختون امید وار جتوادیے ہیں، ان کا کردار پُرامن ہوگا یا اپنی روایتوں کی طرح جنگجویانہ، یہ وقت جلد ہی منکشف کردےگا۔ پی پی پی کی مکمل حمایت کے بغیر یہ جیت ممکن نہ ہوسکتی تھی، چنانچہ اس ضمن میں ایک بڑا سوالیہ نشان موجود ہے کہ پی پی پی نے لسانی بنیادوں پر کراچی میں تقسیم اور انارکی کے اسباب پیدا کرنے میں اس قدر دلچسپی کیوں لی؟ پی پی پی یہ نشستیں خود بھی جیت کرپختونوں کے مفادات کے لیے کام جاری رکھ سکتی تھی، جیسا کہ ایم کیو ایم اپنی نئی سیاسی شکل، ساختِ نو، اور پالیسیوں کے زیرِ اہتمام کرتی رہی ہے۔

دوسری جانب مذہب کے نام پر اقتدار کی طلب گار جماعتِ اسلامی نے اپنی نوجوان اور ابھرتی ہوئی قیادت کے حامل افراد کو انتخابات سے دور رکھ کر بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ جماعت کو اب رہنمائی کے لیے اعلٰی تعلیم یافتہ اور دین و دنیا سے یکساں آگاہی رکھنے والی روشن خیال قیادت کی اشدضرورت ہے۔ سیاست میں اخلاقیات کا سب سے زیادہ دباؤ ایسی جماعتوں کی جانب سے ہونا چاہیے۔ مگر جماعت کے حامیوں نے نہ ہی اس قابلِ بحث فیصلہ پر انگلی اٹھائی اور نہ ہی کسی طرح کا نظر آنے والا احتجاج کیا۔ جماعت نے اپنا سیاسی جوا اس بنیاد پر کھیلا کہ یہ انتخابات دنیا کو قابلِ قبول نہیں ہوں گے، اور وہ جلد ہی ایک تحریک چلا کر قوم کو انتشار میں مبتلا کرکے دوبارہ انتخابات کا ڈول ڈلوادیں گے۔ مگر یہ شیخ چلی کا ایک خواب ہی ثابت ہوگا۔ سرحد میں قوم پرستی کی کامیابی کچھ ایسی غیرمتوقع نہیں رہی، کیونکہ مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت نے موجودہ حکومتی کارروائیوں کے بارے میں عملی خاموشی اور دوغلی پالیسیوں سے سرحد کے باسیوں کی آنکھیں کھول دیں۔ تاہم چونکہ آزاد امیدوار کے طور پر منتخب ہونے والے افراد ہمیشہ طاقتور پارٹی کا ساتھ دیا کرتے ہیں، منظرنامہ وہاں پی پی پی کے حق میں بھی جاسکتا ہے۔ اب سرحد کے باسی اپنے علاقہ میں ہونے والی پاکستانی اور غیرملکی افواج کی کارروائیوں کو سیاسی طور پر چیلنج کرسکیں گے۔

بلوچستان میں البتہ مسلم لیگ قائد کی کامیابیاں حیران کن ہیں۔ کیونکہ کم وبیش سرحد کی قسم کے حالات یہاں بھی برپا رہے ہیں۔ اس صورتِ حال کادرست ادراک کرنے کے لیے مزید مطالعہ، تحقیق اور تجزیہ درکار ہے۔ اگر آپ اس کی وجوہات پر روشنی ڈال سکتے ہوں تو ہماری مدد کیجیے۔ کیا یہ بلوچستان میں ہونے والے اہم معاشی اقدامات، جیسے کہ گوادر کی بندرگاہ، وغیرہ کی وجہ سے ہوا ہے؟ یا یہ چند بلوچی سرداروں کی ظالمانہ کارروائیوں سے نجات کا شکرانہ ہے!

اب یہ دیکھنا ہے کہ وزیرِاعظم کے لیے کس کے نام پر قرعہ پڑتا ہے، اور یہ ہما کس کے سر پر بیٹھےگا۔ بظاہر لگتا ہے کہ آخرکار عمر کے ڈھلتے ہوئے سورج کی روشنی مخدوم امین فہیم کے چہرے کو کچھ عرصہِ کے لیے روشن کرہی دےگی۔ بد قسمتی سے ان کی سیاست ذاتی پوجا پر مبنی رہی ہے، جس میں وہ بلا چوں و چرا پی پی پی کی اعلٰی ترین قیادت کا کہا مانتے رہے ہیں۔ یہ ہی ان کی سب سے بڑی خوبی، اوریہ ہی ان کی سب سے بڑی خرابی ہے۔ اس کے تعین کا انحصار اس امر پر ہے کہ آپ پی پی پی کے حامی ہیں یا نہیں۔ دوسرے قابل اور دانش ور رہنما اعتزاز احسن ہیں، جو اس خلا کو بخوبی پورا کرسکتے ہیں، مگر پی پی پی کے موجودہ عملی چیئرمین ان سے کسی حد تک خائف رہیں گے کہ کہیں وہ پارٹی کی قیادت کو پنجاب کی جانب ہمیشہ کے لیے منتقل کرنے کا سبب نہ بن جائیں۔

نواز شریف کی نیابت کے لیے، خود اپنی اور شہباز کی غیرموجودگی میں، جاوید ہاشمی جیسا جری اور فہیم سیاستدان اس عہدہ کے لیے موجود ہے۔ زرداری بھی جلدازجلد ضمنی انتخابات لڑنے کے بارے میں سوچ رہے ہوں گے، تاکہ ان کی دبی دبی دلی خواہش پوری ہونے کے اسباب فراہم ہوسکیں۔ بہرحال یہ طے ہے کہ کسی بھی مرکزی مخلوط حکومت کے بننے کے بعد وزارتِ عظمٰی کانٹوں کی سیج ثابت ہوگی، اور اس کے لیے موسیقی آمیز کرسی کے رقص کا کھیل ہمیشہ جاری رہے گا۔

اس کے لیے جو عناصر فعال ثابت ہوں گے ان میں دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی ایندھن، کھانے کا تیل، گیس، پیٹرول، سی این جی، بجلی کی قیمتیں، اور دیگر اشیاءکی قیمتوں میں بڑھتاہوا بلا روک ٹوک طمع آمیزرجحان اور قلیل آمدنی ہے: جس کی وجہ سے گلی کوچوں میں ہونے والے جرائم کم نہ ہوں گے بلکہ بڑھ جائیں گے، کیونکہ ایک غریب کو اپنے گھر کا چولھا جلائے رکھنا ناممکن ہوتا جائےگا۔ دوسری جانب بلوچستان اور سرحد کے زخموں پر مرہم رکھنے کا فوری کام کرنا ہوگا۔ تاہم یہ ایک قطعی امر ہے کہ میڈیا کی آزادی پر جلد یا بدیر قدغنیں لگنا شروع ہوجائیں گی، اور میڈیا کا جن موجودہ حکومت کے دور کی طرح اپنی من مانی کرنے میں آزاد نہیں رہے گا۔ یہ معاملہ کس طرح نمٹایا جائے گا، یہ جلد ہی معلوم ہوجائے گا۔

بین الاقوامی سطح پر نئی حکومت کے کرتا دھرتاؤں کو امریکہ، برطانیہ اپنے مفادات کے لیے کٹھ پتلی بناکر ہی چھوڑیں گے، اور بحیثیت قوم ایرانی گیس، چین سے دفاعی تعاون، آزاد قبائلی علاقوں، طالبان، افغانستان، ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ایٹمی پروگرام کے حوالہ سے بھی اس بارے میں سب سے زیادہ دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دوسری جانب کسی بھی قسم کی قومی فکر کی یک جہتی کی عدم موجودگی میں بھارت کے لیے اپنے کیے گئے پانی اور کشمیر جیسے دوطرفہ معاہدوں اور بات چیت میں پیش رفت سے انحراف کا سنہری موقع مل جائے گا۔ اگر مستقبل میں ان مغربی طاقتوں نے موجودہ صدرِ پاکستان کو بھی ہٹانے کا تہیہ کرلیا تو حکومت کا کام از خود آسان ہوجائے گا، جیسا کہ فوج کے شہری اداروں سے واپسی کے عمل سے واضح ہے۔

یہ ایک افسوسناک امر محسوس ہوتا ہے کہ نہ تو جیتنے والوں نے ہارنے والوں کے لیے فوری طور پر کوئی تشفی و تسلی کے کوئی الفاظ کہے، اور نہ ہی ہارنے والوں نے فوری طور پر خوش دلی سے جیتنے والوں کو مبارکباد ہی دی (کچھ منہ ہی منہ میں بڑبڑانے کی سرگوشیاں اب سنائی دے رہی ہیں)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت ابھی تک ذاتیات سے بالاتر نہیں ہوسکی ہے۔ کراچی اور حیدرآباد کے علاوہ، جہاں ایم کیو ایم نے حقیقی سیاسی تبدیلی کو جنم دے دیا ہے، دیگر علاقوں میں دولت اور جاگیرداری ہی کا سکہ چل رہا ہے۔ اور یہ وہ ذہنی کیفیت ہے جو قوم کو آقا اورغلام کے کالے اصولوں پر چلنے پر مجبورکرتی رہتی ہے۔ چنانچہ وہ تمام سیاسی پارٹیاں جو یہ دعوے کررہی ہیں کہ وہ اب نظام کو بدل دیں گی، دراصل اپنی اس دلی خواہش کا اظہار کررہی ہوتی ہیں کہ وہ اب چہرے بدل کر اپنے مہرے بٹھادیں گی۔ بصورتِ دیگر انہیں ایم کیو ایم کا متعارف کردہ نظام ِعوامی سیاست اپنا لینا چاہیے، جس میں جاگیرداروں اور دولتمندوں پر کلی انحصار کے بجائے گلیوں کوچوں میں پھرنے والے مگر تعلیم یافتہ اور جوہرِ قابل کو آگےلانا ہوگا۔ جب تک روایتی زمیندار طبقہ پاکستانی عوام کی اکثریت پر مسلط رہےگا، زراعت اور غذائی پیداوار میں بھی خاطر خواہ ترقی نہ ہو گی، اور نہ ہی یہ سفید پوش لٹیرے ٹیکس کی مد میں اپنا حصہ بٹائیں گے، بلکہ شکر، گندم، اور سبزیوں جیسی غذائی اجناس کی بلیک مارکیٹنگ اور ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کرتے رہیں گے، اور غریبوں کی زندگی جہنم بناتے رہیں گے۔



Copyright 2007 NEXTWERK INC. All rights reserved.